"ڈیفنس لاہور میں خوبصورت جوڑی کو سائیکل چلاتے دیکھا اور کافی دیر انہیں تاڑا کیونکہ ۔ ۔ ۔" نوجوان بیوروکریٹ کا ایسا انکشاف کہ سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہوگیا

"ڈیفنس لاہور میں خوبصورت جوڑی کو سائیکل چلاتے دیکھا اور کافی دیر انہیں تاڑا ...

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) کورونا لاک ڈائون کی وجہ سے رش میں کمی کے بعد کئی لوگوں کو سائیکل سواری کرتے دیکھا گیا اور ڈیفنس جیسے علاقوں میں یہ رواج ہی پایا جاتاہے کہ جوڑیاں سائیکل لے کر نکل پڑتی ہیں اور ان کے محافظ بھی پیچھے سائیکل یا کسی اور سواری پر ساتھ ساتھ  رہتے ہیں، ایسا ہی ایک جوڑا نوجوان بیوروکریٹ نے دیکھا اور ان کیساتھ موجود گارڈز کی گاڑیاں اور لینڈکروزرز کے راستہ بلاک کرنے کی وجہ سے وہ بھی ٹریفک میں پھنسے رہے ۔

محمد مرتضیٰ نے لکھا کہ " ابھی بھی ڈیفنس لاہور میں ایک خوبصورت جوڑی کو سائیکل چلاتے دیکھا، کافی دیر میں نے انہیں تاڑا، اس وجہ سے نہیں میں کوئی بھونڈ ہوں بلکہ اس وجہ سے ان کے پیچھے ان کی V8 اور گارڈز کی گاڑی چل رہی تھی جس نے آدھی سڑک بلاک کررکھی تھی ، اس وجہ سے ٹریفک جام ہوئی اور میں بھی پھنسا رہا۔ 

ان کی اس پوسٹ پر ایک صارف نے استفسار کیا کہ " آپ نے کچھ نہیں کیا"

محمد مرتضیٰ نے لکھا کہ " میں نے اس بارے ٹوئیٹ کی، یہ وہی نہیں ہے جیسا کہ آج کل ہرکوئی کرتاہے؟"

ان کی اس پوسٹ پر زمان نے لکھا کہ " اپنی سائیکل اور بھابھی لیں، میں آپ لوگوں کے پیچھے ویگو چلائوں گا"

مرتضیٰ نے جواباً لکھا کہ " بھابھی تو آجائے گی، ویگو کون لائے گا"

کلیم کچھ یوں گویا ہوئے کہ " دوزبانوں کو ملا کرآپ نے زبان کی توہین کی"

اس پر مرتضیٰ نے لکھا کہ" نشہ بڑھتا ہے شرابوں میں شرابیں جو ملیں" اس جواب سے ان کی حس مزاح کا بھی اندازہ کیا جاسکتاہے۔

ثاقب شیخ نے لکھا کہ " آپ کو کوئی حق نہیں کہ سرعام ارض وطن کے مالکان کی شکایتیں کریں"

جواباًلکھا کہ " بالکل ٹھیک ، ہم تو مجبور وفاہیں"

اعزاز خٹک نے استفسار کیا کہ " بدقسمتی، سویلین ایڈمنسٹریٹر ہونے کے ناطے آپ نے کچھ نہیں کیا؟"

مرتضیٰ نے بتایا کہ " سول سرونٹ کے طورپر ہم صرف وہی کرسکتے ہیں جس کا منتخب حکومت نے ہمیں اختیار دیا ہو، سڑکوں پر گشت ان کا حصہ نہیں"

فہیم نے لکھا کہ " اے سی صاحب، کچھ کرنا تھا ناں ، آپ نے ۔ ۔۔  "۔

مرتضیٰ گویا ہوئے کہ " ان کے لیے دعا کی"

بلال نے لکھا کہ " آج کل ہر کوئی سائیکل استعمال کررہا ہے لیکن ایک مرتبہ جب یہ وقت گزر گیا تو وہ اپنی سائیکلیں پھینک دیں گے"

چودھری عثمان نے لکھا کہ " اے سی صاحب اپنے اختیارات کا استعمال کرتے اور ان کو جرمانہ کرتے"

صاحب نے جواب دیا کہ " ہاہاہا، کس چیز کی قیمت بڑھا رہے تھے؟" یعنی ایک مرتبہ پھر انہوں نے بھی اپنی بے بسی کا اظہار کیا۔

خزیمہ نے لکھا کہ " اگر میں غلط نہیں ہوتو یہی جوڑی کینٹ میں بھی سائیکل چلاتی ہے ، ان کو اکثر سرور روڈ پر دیکھا ہے "

مہر جی نے لکھا کہ " آپ کو ان لمحات کی ریکارڈنگ کرلینی چاہیے تھی تا کہ ہم بھی مستفید ہوجاتے اور تبصرہ بھی کرتے"

ایک اور صارف نے لکھا کہ" مجھے امید ہے ، اس لمحے آپ لطف اندوز ہوئے ہوں گے "

ایک اور صارف نے لکھا کہ " میں رومانوی کہانی کی امید کررہی تھی "

ایک اور صارف نے موقف اپنایا کہ " آپ نے کس شدت سے تاڑا، میں محسوس کرسکتا ہوں"

مزید :

ڈیلی بائیٹس -