آپ کو دل کے دورے کا کتنا خطرہ ہے؟ آپ کے قد سے پتہ لگایا جاسکتا ہے، جانئے انتہائی حیرت انگیز معلومات

آپ کو دل کے دورے کا کتنا خطرہ ہے؟ آپ کے قد سے پتہ لگایا جاسکتا ہے، جانئے ...
آپ کو دل کے دورے کا کتنا خطرہ ہے؟ آپ کے قد سے پتہ لگایا جاسکتا ہے، جانئے انتہائی حیرت انگیز معلومات

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) انسان کا قد، گردن کی لمبائی اور دیگر جسمانی اعضاءکی پیمائش خوبصورتی کے حوالے سے تو معنی رکھتی تھی لیکن اب برطانوی سائنسدانوں نے ان پیمائشوں کا انسان کی صحت اور مختلف بیماریوں سے تعلق کے بارے میں ایسا انکشاف کر دیا ہے کہ کسی نے کبھی سوچا بھی نہ ہو گا۔ میل آن لائن کے مطابق برطانیہ کی لفبرا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اس تحقیق میں بتایا ہے کہ جس مرد کی انگوٹھی والی انگلی لمبی ہو اس کے ڈپریشن میں مبتلا ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں اور جن مردوں کی گردن اوسط سے زیادہ موٹی ہو وہ جنسی کمزوری کا شکار ہوتے ہیں۔ اسی طرح قداور ٹانگوں اور دھڑ کی لمبائی میں فرق بھی کئی بیماریوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ جس آدمی کا قد جتنا لمبا ہو اسے ہارٹ اٹیک آنے کا خطرہ اتنا ہی کم ہوتا ہے۔

سائنسدانوں نے ایک ’لیگ ٹو باڈی شرح‘ (Leg to body ratio)نکالنے کا طریقہ بتایا ہے اور پھر ان سے وابستہ بیماریوں کے متعلق آگاہ کیا ہے۔ طریقہ کچھ یوں ہے کہ سب سے پہلے آپ اپنا پورا قد ناپیں۔ پھر ایک کرسی پر بیٹھ جائیں اور صرف دھڑ کی پیمائش کریں۔ اس میں سر کی چوٹی سے لے کر کرسی کی سطح تک پیمائش کریں۔ یہاں جو پیمائش ملے اسے پورے قد کی پیمائش سے منفی کرکے ٹانگوں کی لمبائی نکال لیں۔ یہ آپ کی لیگ ٹو باڈی شرح ہو گی۔ مثلاً اگر آپ کی ٹانگیں 30انچ لمبی اور دھڑ 40انچ ہے تو لیگ ٹو باڈی شرح 30:40ہو گی۔

سائنسدانوں نے بتایا کہ جن لوگوں کی ٹانگیں دھڑ کی نسبت چھوٹی ہوں ان کے موٹاپے کا شکار ہونے، دل کی بیماریوں، دوسری قسم کی ذیابیطس اور جگر کی بیماریوںمیں مبتلا ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ جبکہ جس شخص کی ٹانگیں دھڑ کی نسبت لمبی ہوںانہیں پراسٹیٹ کینسر، خصیوں کا کینسر، خواتین میں چھاتی کا کینسر، اینڈومیٹرئیل کینسر اور کولون کینسر لاحق ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ دھڑ کی نسبت جن کی ٹانگیں لمبی ہیں انہیں دوسروں کی نسبت ڈیمنشا ہونے کا خطرہ 20فیصد کم ہوتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ”ٹانگیں لمبی ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بچپن میں اس شخص کو اچھی خوراک اور اچھا ماحول ملا ہے اور اس کی بڑھوتری تیزی سے ہوئی ہے۔ جبکہ ٹانگیں چھوٹی ہونا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ آپ بچپن میں غذائی قلت کا شکار رہے ہیں اور غربت کے ماحول میں پلے بڑھے ہیں۔ اس کی ایک وجہ دوران حمل ماں کا سگریٹ نوشی کرنا بھی ہو سکتی ہے۔“ گردن کی پیمائش کے متعلق سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ فیتے سے گردن کو وہاں سے ناپیں جہاں وہ کندھوں سے مل رہی ہے۔ مردوں میں گردن کی اوسط موٹائی 15انچ اور خواتین میں ساڑھے 13انچ ہوتی ہے۔ جن مردوں کی گردن کی موٹائی 16.3انچ سے زیادہ ہو وہ جنسی کمزوری اور عضو مخصوصہ کی ایستادگی کے مسئلے سے دوچار ہوتے ہیں۔ موٹی گردن نیند کے بگاڑ اور سوتے وقت سانس کے تعطل کا بھی سبب بنتی ہے۔

اسی طرح سر کی چوڑائی مردوں میں اوسطاً 58.4سینٹی میٹر اور خواتین میں 56سینٹی میٹر ہوتی ہے۔ سر کی پیمائش کرتے ہوئے فیتہ ماتھے کے نمایاں حصے پر رکھیں۔ سائنسدانوں کے مطابق جس شخص کا سر اوسط سے چھوٹا ہو اس کو ڈیمنشا لاحق ہونے کا خطرہ 2.1گنا زیادہ ہوتا ہے۔ انسان کے مجموعی قد کے متعلق سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ”لوگ جتنے زیادہ لمبے ہوں انہیں کینسر لاحق ہونے کا خطرہ اتنا زیادہ ہوتا ہے۔ دوسری طرف دراز قد لوگوں کو دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ جس آدمی کا قد 6.1انچ ہو اسے 5.7انچ قد والے افراد کی نسبت ہارٹ اٹیک کا خطرہ 35فیصد کم ہوتا ہے۔

مزید :

تعلیم و صحت -