گڈ گورننس کے نام پر کامیڈی سیریل 

گڈ گورننس کے نام پر کامیڈی سیریل 
گڈ گورننس کے نام پر کامیڈی سیریل 

  

مہنگائی کا گراف کہاں تک جا پہنچا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں وہ پھل جو کل تک عام آدمی کی قوتِ خرید میں تھے، آج اتنے مہنگے ہو چکے ہیں کہ خریدے نہیں جا سکتے۔ پھر چلیں مہنگے ہی سہی، لیکن آپ کی نظریں ادھر ادھر ہوئی نہیں کہ دکان دار یا ریڑھی والے نے گلے سڑے پھل، جو ایک سائیڈ پر اتنی ترتیب سے رکھے ہوتے ہیں کہ دکاندار آنکھیں بند کر کے بھی اٹھا سکتا ہے۔ ایسا کرنے والوں کو معلوم ہی نہیں کہ یہ کام بھی دھوکہ دہی اور بد عنوانی کے زمرے میں آتے ہیں۔ پورے پیسے لے کر گلے سڑے پھل ڈال دینا کون سا نیکی کا کام ہے؟ اس پر مستزاد کم تولنا…… ابھی چند روز پہلے کی بات ہے کہ سڑک پر ایک ریڑھی والا نظر آیا جو کیلے بیچ رہا تھا۔ گاڑی کھڑی کر کے بھاؤ معلوم کیا اور اسے تین درجن کیلے دینے کا کہا۔ گھر آ کر دیکھا تو چھتیس کے بجائے تینتیس تھے اور تینتیس میں سے بھی تین گلے سڑے ہوئے۔ مَیں خاموش ہی رہا، لیکن ظاہر ہے اس کے لئے دعا تو میرے دل سے نہیں نکلی ہو گی۔  یہ محض رمضان کا ہی معاملہ نہیں، ہم مجموعی طور ایک کرپٹ معاشرہ بن چکے ہیں۔ دوسرے کو دھوکا دیتے ہوئے یا دوسرے کو پریشان کرتے ہوئے ایک لمحے کے لئے بھی نہیں سوچتے کہ ہم کتنے بڑے گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

ایک جانب دکان دار، سرمایہ دار، ذخیرہ اندوز اور منافع خور عوام کا خون نچوڑ رہے ہیں تو دوسری جانب حکومت بھی لگتا ہے کہ لوگوں کے ساتھ کوئی کھیل ہی کھیل رہی ہے۔ حالت یہ ہے کہ بھاری زرِ مبادلہ خرچ کر کے وافر مقدار میں گندم اور چینی درآمد کرنے کے باوجود نہ آٹا سستا مل رہا ہے اور نہ چینی ہی سرکاری نرخوں پر دستیاب ہے۔ حکومت نے عوام کو کنٹرولڈ نرخوں پر روزمرہ استعمال کی اشیاء فراہم کرنے کے لئے یوٹیلٹی سٹورز کا ڈول ڈالا تھا، لیکن یہ سکیم بھی کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی کہ ایک تو ان سٹورز پر اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافوں کی خبریں آتی رہتی ہیں، جس کی وجہ سے کھلی مارکیٹ میں قیمتوں اور ان سٹورز پر فروخت کے لئے رکھی گئی اشیاء کی قیمتوں میں کوئی خاص فرق نہیں رہ گیا ہے۔

اگر تھوڑا بہت فرق ہے بھی تو وہ کوالٹی کے حوالے سے پورا ہو جاتا ہے۔ لوگوں کو چینی چند روپے سستی خریدنے کے لئے ان سٹورز کے آگے لمبی قطاروں میں گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے، بصورتِ دیگر انہیں کھلی مارکیٹ سے چینی خریدنا پڑتی ہے جہاں عام استعمال کی یہ شے ایک سو پانچ روپے فی کلو کا ہندسہ عبور کر چکی ہے۔ چینی کے حوالے سے ایک عجیب تماشا نظر آتا ہے۔ انتظامیہ کہتی ہے کہ دکاندار 85 روپے فی کلو گرام فروخت کریں،جو سرکاری ریٹ ہے، اس پر دکاندار جواب دیتے ہیں کہ مہنگی چینی خرید کر وہ سستی کیسے فروخت کریں؟ باہر سے جو ہزاروں یا لاکھوں ٹن چینی درآمد کی گئی تھی، وہ پتا نہیں کدھر گئی کہ ملک میں حالات وہی ہیں جو  چینی کی درآمد سے پہلے تھے؟ 

سستے بازاروں کی بھی سن لیں۔ اول تو سستے بازاروں کا اہتمام ہی حکومت کی جانب سے اپنی یہ نااہلی تسلیم کرنے کے مترادف ہے کہ وہ کھلی مارکیٹ میں اشیاء کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے میں ناکام رہی ہے پھر ان بازاروں کا اہتمام اس دعوے کے ساتھ کیا گیا تھا کہ عوام کو سرکاری نرخوں پر اشیائے ضروریہ، خصوصی طور پر اشیائے خورونوش فراہم کی جائیں گی۔ اب ان سستے بازاروں میں جانے والوں کا کہنا ہے کہ اگر اشیا سستی ہیں تو ان کا معیار وہ نہیں جو کھلی مارکیٹ میں مہنگی اشیا کا ہے، تو پھر یہ اشیا سستی کیسے ہوئیں؟ اب بتائیں کہ بندہ کرے تو کیا کرے؟ 

وفاقی کابینہ میں ایک بار پھر ردوبدل کی گئی۔ایک پرانے معاون خصوصی کا دوبارہ تقرر کر دیا گیا ہے، جو الیکشن لڑنے کے لئے منصوبے کے تحت مستعفی ہو گئے۔ ردوبدل بھی کیا یہ وزیر وہاں لگا دیا، وہ وزیر یہاں لگا دیا اور یہ سمجھا کہ گڈ گورننس کے سارے تقاضے پورے ہو گئے۔ شوکت ترین کو وزیر خزانہ بنایا گیا ہے۔ پونے تین برسوں میں وہ چوتھے وزیر خزانہ ہیں۔ اس سے پہلے اسد عمر، ڈاکٹر حفیظ شیخ اور حماد اظہر وزیر خزانہ رہے۔ حماد اظہر سب سے کم عرصہ، یعنی محض تین ہفتے وزیر خزانہ رہے۔کسی کی کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کون سا وزیر کس وجہ سے اور کیوں تبدیل ہو رہا ہے؟ اگر اس کی کارکردگی ایک وزارت میں اچھی نہیں تو وہ دوسری وزارت میں کون سا تیر مار لے گا؟ بڑا عجیب سا معاملہ ہے کہ ایک وزیر ابھی اپنی وزارت کے اسرارورموز سے واقف اور آگاہ ہوتا ہی ہے کہ اسے تبدیل کر دیا جاتا ہے اور وہ دوسری وزارت میں جا کر نئے سرے سے معاملات کو سمجھنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے؟ کیا کوئی کامیڈی سیریل چل رہی ہے؟ کیا اسی کا نام گڈ گورننس ہے؟ کیا بار بار وزارتیں تبدیل کرنا ہی مسائل کا حل ہے؟ اور اس سوال کا کون جواب دے گا کہ وزرا کو جو نئے قلم دان سونپے گئے ہیں، وہ حکومت کی باقی مدت کے لئے مستقل ہیں یا ابھی ایڈہاک پر ہی انہیں چلنا ہے، یعنی وہ اپنی وزارت میں بہتری کے بارے میں سوچیں یا اگلی وزارت کا انتظار کریں؟

مزید :

رائے -کالم -