شب دیگ اور نیا لاڈلا

شب دیگ اور نیا لاڈلا
شب دیگ اور نیا لاڈلا

  

شب دیگ ایک مزیدار کشمیری ڈش ہے جس میں رات بھر گوشت اور شلجم ہلکی آنچ پر پکاتے ہیں۔ پاکستان میں ایک عرصہ سے الیکشنوں میں شب دیگ پکائی جا رہی ہے۔ جب کسی الیکشن کے نتائج آتے آتے رات کے پہلے پہر (جیسے نو یا دس بجے) اچانک رک جائیں تو سمجھ لیں شب دیگ ہلکی آنچ پر رکھ دی گئی ہے اور یہ ساری رات آہستہ آہستہ پکے گی۔ جس امیدوار کو جتوانامقصود ہو اور وہ اگر اس وقت تک کی گنتی میں پیچھے چل رہا ہو تو پہلا مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ نتیجے آنے بند ہو جاتے ہیں اور ایک پراسرار تعطل پیدا ہو جاتا ہے۔ لوگ حیران ہوتے ہیں کہ اچھے بھلے آتے ہوئے نتائج کو بریک کیوں لگ گئی ہے۔ اسی ادھیڑ بن میں آدھی سے زائد رات گذر جاتی ہے اور پھر کئی گھنٹے کے کے بعد پہیہ الٹا گھومنا شروع ہو جاتا ہے۔

رات کے آخری پہر میں جب دوبارہ نتیجے آنے شروع ہوتے ہیں تو ناپسندیدہ امیدوار ہارنا اور پسندیدہ امیدوار جیتنا شروع ہو جاتا ہے اور بالآخر ایک معمولی برتری سے وہ جیت جاتا ہے۔اکثر مستردشدہ ووٹوں کی تعداد جیت کے فرق سے زیادہ ہوتی ہے۔ میں نے کچھ شہاب نامہ میں پڑھ رکھا تھا اور کچھ اپنے بڑوں سے واقعات سن رکھے تھے۔ شب دیگ کی اصطلاح سننے کا پہلی دفعہ اتفاق اس وقت ہوا جب تقریباً بیس سال پہلے عا م انتخابات میں لاہور کی ایک نشست سے مسلم لیگ (ن) کے اکر م ذکی (سابق سیکرٹری خارجہ) رات گیارہ بارہ بجے تک واضح فرق سے جیت رہے تھے کہ پھر نتیجے آنے رک گئے۔ میرے ایک بزرگ جن کی عمر یہی سب دیکھتے گذری تھی‘ کہنے لگے لو جی شب دیگ چولہے پر چڑھا دی گئی ہے‘ صبح تک پک جائے گی۔ اور پھر وہی ہوا، صبح اکرم ذکی ہار گئے اور اس وقت کی کنگز پارٹی مسلم لیگ (ق) کے ہمایوں اختر کی جیت کا اعلان ہو گیا۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ 

یہ المیہ ہے کہ ہماری تاریخ میں شاذ و نادر ہی آزادانہ اور غیر جانبدار انتخابات ہوئے ہیں۔کبھی دن کے وقت جھرلو پھرا اور کبھی رات کو شب دیگ پکی۔ پچھلے تمام انتخابات کو چھوڑیں، پچھلے دو تین مہینوں میں بھی یہی ہوا۔ پنجاب میں پی ٹی آئی حکومت کی مشینری ہے، اس نے ڈسکہ میں NA-75 میں کھل کھلا کر جھرلو پھیرا۔ دن بھر فائرنگ، غنڈہ گردی اور زبردستی پولنگ رکوانے کے واقعات ہوتے رہے۔ اس کے باوجود رات کو گنتی کے وقت جب دیکھا گیا کہ مخالف امیدوار جیت رہی ہیں تو بیس پریزائڈنگ افسران کو اغوا کر کے رات بھر کہیں رکھا گیا اور نتائج تبدیل کرکے سرکاری امیدوار کے جتوانے کی کوشش کی گئی۔ عوام اور میڈیا کی مستعدی کی وجہ سے پورے ملک میں بھونچال آگیا تو الیکشن کمیشن حرکت میں آیا اور پورے معاملہ کا جائزہ لینے کے بعد دوبارہ پولنگ کا فیصلہ کیا۔ حکومتی امیدوار سپریم کورٹ تک گئے لیکن ان کی ایک نہ چلی اور دوبارہ الیکشن ہوا جس میں انہیں شکست ہوگئی۔

چند دن پہلے کراچی کے حلقہ NA-249 میں پی ٹی آئی کے فیصل واوڈا کے استعفیٰ سے خالی ہونے والی نشست پر ضمنی انتخاب ہوا۔ الیکشن سے پہلے کے سروے بتا رہے تھے کہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو واضح برتری حاصل ہے۔ ان کی حمائت اٹھارہ سے بیس فیصد، پی ٹی کی بارہ تیرہ فیصد اور پیپلز پارٹی کی پانچ چھ فیصد تھی۔ پولنگ کے دن بھی ہوا کا رخ بھی یہی نظر آیا۔ رات نو بجے تک پچاس پولنگ سٹیشنوں میں مفتاح اسماعیل واضح لیڈ سے آگے تھے۔ لیکن پھر پراسرار خاموشی چھا گئی اور نتیجوں کو بریک لگ گئی۔ صبح جب شب دیگ پک کر تیار ہوئی تو وہی ہوا جو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ پیپلز پارٹی کا امیدوار جس کے پاس صوبائی مشینری کی سپورٹ تھی، چند سو ووٹوں سے جتوا دیا گیا اور اس موقع پر بھی مسترد ووٹوں کی تعداد جیت کے مارجن سے زیادہ رہی۔انتخابی قوانین کے تحت کم مارجن والے نتیجوں میں دوبارہ گنتی ہو سکتی ہے اور اس الیکشن کا بھی الیکشن کمیشن نے دوبارہ گنتی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنا ہے۔

ڈسکہ اور کراچی کی شب دیگوں میں بڑا فرق ہے۔ ڈسکہ میں سرکاری امیدوار کو جتوانے کی کوشش کی گئی تھی۔ کراچی میں پی ٹی آئی کی اپنی ہی جیتی ہوئی سیٹ پر حالت اس قدر پتلی تھی کہ ان کا امیدوار چھٹے نمبر پر آیا۔ گذشتہ عا م انتخابات میں پورے ملک میں منظم طریقے سے RTS خراب کر کے پی ٹی آئی کو جتوایا گیا تھا اور NA-249 میں بھی میاں شہباز شریف جیت رہے تھے لیکن رات بھر شب دیگ پکنے کے بعد چند سو ووٹوں سے فیصل واوڈا کو جتوا دیا گیا تھا۔ ان کی جیت کامارجن سات سو اور مسترد ووٹوں کی تعداد چھبیس سو تھی۔ اس دفعہ حلقہ میں چھ فیصد حمائت رکھنے والا امیدوار جتوایا گیا اور انیس فیصد والا ہار گیا۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار عبدالقادر مندوخیل کوئی پرانے جیالے بھی نہیں۔ انہوں نے 2002ء کا الیکشن پی ٹی آئی اور 2008ء کا آزاد امیدوار کے طور پر لڑا تھا۔ وہ 2013ء میں مسلم لیگ (ن) میں تھے اور 2018ء میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کے طور پر صرف سات ہزار ووٹ لے سکے تھے۔

سیاسی آثار و قرائن بتاتے ہیں کہ عمران خان پرانے لاڈلے بنتے جا رہے ہیں کیونکہ ان کی حکومت تقریباً تین سال گذرنے کے بعد بھی سخت ناکا م اور نا اہل ثابت ہو رہی ہے جس کی وجہ سے اگلے الیکشن میں اسے جتوانا ناممکن ہوگا۔ اس صورت حال میں بلاول بھٹو زرداری کو نیا لاڈلا بنانے کی تیاری کی جا سکتی ہے۔ ویسے بھی پیپلز پارٹی 1970ء میں مشرقی پاکستان میں فوجی ایکشن کی حمائت سے لے کر آج تک تقریباً ہر موقع پر تاریخ کی غلط سمت میں کھڑی ہوئی ہے۔ حالیہ تاریخ میں میثاقِ جمہوریت کو یہ کہہ کر کہ یہ کوئی قرآن یا حدیث نہیں ہے،اس لے کر بلوچستان حکومت پر مارے جانے والے شب خون اور مقتدرہ کے کہنے پر تین مرتبہ صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ بنوانے میں وہ ہمیشہ ہی تاریخ کی غلط سمت میں کھڑی رہی۔ میں جب دیکھتا ہوں کہ بلاول بھٹو زرداری نیا لاڈلا بننے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہے تو مجھے ان کی پیدائش پر مرحو م پیر پگارہ کا تبصرہ یاد آتا ہے کہ ”بلاول ہمارا ہے“۔ 

مزید :

رائے -کالم -