فرخ حبیب کی انٹری

فرخ حبیب کی انٹری
فرخ حبیب کی انٹری

  

چند ہفتے پہلے فرخ حبیب مجھے ملتان ملنے آئے تو انہوں نے بتایا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کابینہ میں جو تبدیلیاں کرنے والے ہیں ان میں انہیں بھی شامل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی یہ بات درست ثابت ہوئی اور وہ اطلاعات و نشریات کے وزیر مملکت بنا دیئے گئے ہیں۔ کپتان کا یہ بہت اہم فیصلہ ہے اس کی ہر سطح پر تعریف اس لئے ہوئی ہے کہ انہوں نے ایک کارکن کو وزارت کے منصب پر فائز کیا۔ کارکن بھی وہ جو ان کے نظریئے پر پوری طرح کاربند ہے اور آج سے نہیں بلکہ شروع دن سے عمران خان کے ساتھ کھڑا ہے۔ میں سمجھتا ہوں ہماری سیاست میں جو لوگ طلبہ سیاست سے گزر کر آئے ہیں، وہ بہت تربیت یافتہ اور باخبر سیاستدان ثابت ہوئے ہیں۔ فرخ حبیب جس طرح مدلل انداز میں گفتگو کرتے ہیں اور الزامات کی بجائے اپنے مؤقف کو پوری تیاری سے سامنے لاتے ہیں اس کی وجہ سے ان کی بات میں وزن بھی پیدا ہو جاتا ہے اور بات بھی بن جاتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ نوجوان ایک منفرد وزیر اطلاعات ثابت ہوگا۔ اگرچہ وزارتِ اطلاعات میں فواد چودھری بھی موجود ہیں تاہم فرخ حبیب اپنی جگہ بنانے میں کامیاب رہیں گے۔

اب تو انہیں اطلاعات و نشریات کا وزیر مملکت بنا دیا گیا ہے، گویا ان کے پاس میڈیا سے رابطہ کے لئے ایک بڑا عہدہ موجود ہے، تاہم میں تو فرخ حبیب کو اس وقت سے جانتا ہوں جب ان کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں تھا، وہ انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی صدر تھے اور یہ تنظیم بھی اسلامی جمعیت طلبہ اور پی ایس ایف کے ہوتے ہوئے بڑی مشکل سے تعلیمی اداروں میں اپنی جگہ بنا رہی تھی۔ اس دور میں فرخ حبیب ایک طرف نوجوانوں میں انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کی تنظیم سازی کر رہے تھے تو دوسری طرف وہ واحد نوجوان تھے، جو عمران خان کی میڈیا میں کوریج کے لئے ترلے منتیں اور رابطے کرتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عمران خان کی خبر اخبارات کے بیک پیج پر سنگل یا ڈبل کالم چھپتی تھی، پرائیویٹ چینلز کا آغاز نہیں ہوا تھا اور واحد ذریعہ اخبارات ہی تھے، ایک دن اچانک مجھے ایک کال آئی، نمبر لاہور کا تھا، میں نے سنی تو دوسری طرف فرخ حبیب تھے، انہوں نے جلدی سے اپنا تعارف کرایا اور کہا کہ میڈیا تحریک انصاف کے ساتھ بہت امتیازی سلوک برت رہا ہے۔ عمران خان کی پریس کانفرنس بھی بیک پیج پر لگتی ہے آپ نے ایک دو کالم ان کے لئے لکھے ہیں، مہربانی کر کے ایک کالم اس موضوع پر بھی لکھیں کہ روایتی سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ عمران خان کو بھی اتنی ہی جگہ دی جائے میں فرخ حبیب کو نہیں جانتا تھا اور نہ ہی میری ان سے ملاقات ہوئی تھی لیکن انہوں نے بات کچھ ایسے پر اثر انداز میں کی کہ میں نے اگلے دن اس موضوع پر کالم لکھ دیا۔

جس میں یہ نشاندہی کی کہ تحریک انصاف کو میڈیا نظر انداز کر رہا ہے حالانکہ عمران خان ایک قومی ہیرو ہیں ا ور سیاست میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں یہ کالم چھپا تو مجھے نوجوانوں کے ملک بھر سے فون آنا شروع ہو گئے۔ سب اس کالم کی تعریف بھی کر رہے تھے اور میرا شکریہ بھی، میں سمجھ گیا کہ یہ سب فرخ حبیب کی میڈیا مینجمنٹ کا نتیجہ ہے۔ اس طرح کے فون در حقیقت مجھے مستقبل میں بھی کالم لکھنے پر اکسانے کے لئے کرائے گئے ہیں۔ تاہم میں اس نوجوان کی ذہانت پر حیران ہوا کہ عمران خان کے پاس کیسے کیسے ذہین نوجوان موجود ہیں کچھ عرصے بعد فرخ حبیب نے مجھے فون کر کے بتایا کہ آپ کے کالم کا اثر ہوا ہے اور اب تحریک انصاف کو فرنٹ پیج پر جگہ مل رہی ہے میں سمجھتا ہوں یہ بھی ان کا ایک حربہ تھا تاکہ مجھے مزید لکھنے پر آمادہ کیا جا سکے۔

مجھے یاد ہے اس پر میں نے ایک کالم لکھا جس کا عنوان تھا”عمران خان کی سنی گئی“ اس کالم میں عمران خان کو میڈیا کی طرف سے مناسب کوریج دیئے جانے کا ذکر تھا۔ اس کے بعد بھی فرخ حبیب خاموش ہو کر نہیں بیٹھ گئے بلکہ انہوں نے ایک دن میری عمران خان سے بات کرائی۔ انہوں نے کھلے لفظوں میں میرا شکریہ ادا کیا اور کہا آپ نے ہمارے حق میں آواز اٹھائی ہے وگرنہ تو یہاں سب ہمیں دبانے کے لئے موجود ہیں یہ سب باتیں میں نے اس لئے لکھی ہیں کہ فرخ حبیب کی صلاحیتوں کا اندازہ ہو سکے۔ وہ آج سے بیس سال پہلے جان گئے تھے کہ عمران خان کو میڈیا پر مناسب کوریج نہ ملی تو آگے نہیں بڑھ سکیں گے، اس کے بعد نہ جانے انہوں نے کہاں کہاں رابطے کئے ہوں گے، نقب لگائی ہو گی۔

ظاہر ہے کپتان بھی ان کی ان کوششوں سے آگاہ ہیں، جانتے ہیں کہ اس وقت میڈیا کو اپنے حق میں ہموار کیا تھا جب تحریک انصاف صرف ایک خواب تھی، اب تو وہ اقتدار میں ہے، کیا وجہ ہے کہ آج اس کا مثبت چہرہ سامنے نہیں آ رہا۔ ایک ایسی فضا بن گئی ہے، جس میں تحریک انصاف کی حکومت کے اچھے کام بھی کہیں معدوم ہو جاتے ہیں۔ فرخ حبیب تحریک انصاف میں پیرا شوٹرز نہیں، وہ ایامِ نوجوانی سے کپتان کے ساتھ کھڑے ہیں ان کی وفاداری اپنے کپتان کے ساتھ ہے اور کسی شک و شبہ سے بالا تر ہے۔ عمران خان سے غلطی یہی ہوئی کہ انہوں نے اپنی کابینہ کے چناؤ میں مصلحتوں سے کام لیا۔ پیرا شوٹرز آگے آگے اور پارٹی کے لئے جدوجہد کرنے والے پیچھے چلے گئے۔ تاہم فرخ حبیب کی خوش قسمتی یہ ہے کہ انہیں کپتان نے فیصل آباد سے قومی اسمبلی کا ٹکٹ دیا اور ان کی صلاحیت یہ ہے کہ وہ انتخاب جیتے اور فیصل آباد کے روایتی سیاسی خاندانوں کو شکست دی۔

جب سے تحریک انصاف اقتدار میں آئی ہے، یہ کمی محسوس کی جا رہی ہے کہ اس کے اچھے کاموں کی تعریف اور انہیں سامنے لانے والا کوئی موجود نہیں، جتنے بھی ترجمان یا مشیر ہیں، وہ اپوزیشن پر تیر برسانے کا کام کرتے ہیں اور جواب میں عمران خان کو ان کے ہاتھوں نشانہ بنواتے ہیں اس بارے میں میں خود کئی بار لکھ چکا ہوں کہ جب تک حکومت کے اچھے کاموں کی تشہیر نہیں کی جائے گی۔ صرف اپوزیشن پر گولہ باری سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ فرخ حبیب جس ٹاک شو میں حکومت کی نمائندگی کرتے ہیں، پوری تیاری سے جاتے ہیں پورے حقائق اور اعداد و شمار سے اپنا موقف بیان کرتے ہیں اس وقت سب سے بڑی ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ وزارتِ اطلاعات حکومت اور میڈیا کے درمیان بہتر ریلیشن شپ کے لئے پل کا کردار ادا کرے۔ فرخ حبیب میں یہ صلاحیت موجود ہے۔ دیر آید درست آید کے مصداق کپتان نے اپنی ٹیم میں ایک اچھا کھلاڑی شامل کیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ فرخ حبیب کی کابینہ میں شمولیت سے تحریک انصاف کے کارکنوں نے بھی خوشی کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ اس وقت تحریک انصاف پر بہت مشکل دور ہے کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ مہنگائی نے حکومت کے خلاف عوامی نفرت بڑھا دی ہے۔ خود عمران خان اپنی غلطیوں کا اعتراف کر رہے ہیں تاہم فرخ حبیب کے لئے یہ حالات نئے نہیں، وہ اپنی بات کرنے اور راہ نکالنے کا ہنر جانتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -