چچی نے ڈھائی سالہ بھتیجے کو بے دردی سے مار ڈالا

 چچی نے ڈھائی سالہ بھتیجے کو بے دردی سے مار ڈالا

  

والدین کیلئے ضروری ہے کہ وہ بچوں کے مابین محبت میں انصاف اور مساوات سے کام لیں۔ کسی بچے میں عقل مندی دیکھی تو اسے تمام بچوں پر ترجیح دی، کوئی زیادہ خوب صورت ہے تو اس سے بے حد پیار کیا، کسی کو اس لئے دھتکارا کہ وہ لڑکی ہے یا چالاک و ہوشیار نہیں، یہ اولاد کے ساتھ ظلم ہے۔ اس سے اولاد کے مابین آپس میں بغض اور عناد پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ جذبہ انھیں کبھی کبھی ایک دوسرے کا دشمن بنا دیتا ہے اور وہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے بلکہ قتل کردینے تک کی سوچنے لگتے ہیں۔ اسی طرح کا ایک واقعہ غاز آباد میں بھی پیش آیا جہاں اڑھائی سالہ شایان علی کواس کی چچی سندس نے گلا کا ٹ کر قتل کیا۔پولیس کے مطابق ملزمہ نے پہلے بچے کا گلا دبایا اور اسکے بعد تیز چھری گلے میں چلا کر قتل کر کے لاش تیسری منزل سے نیچے پھینکی۔ 11 اپریل کو غازی آباد کے علاقہ صلی ٹاؤن میں جہاں ایک اڑھائی سالہ بچے شایان شاہد کو اسکی چچی سندس نے دن دیہاڑے گھر والوں سے چھپ چھپا کر اغوا کیا اور اسے گھر کی تیسری منزل پر اپنے کمرے میں لے جا کر گلا دبا کر اور پانی کے ٹب میں غوطے دے کر موت کے گھاٹ اتار دیا اور بعد ازاں گلے پر چھری پھیر کر اس کی لاش کو ایک تھیلے میں بند کر کے الماری میں چھپا دیا بچے کے اچانک گھر سے لاپتہ ہونے پر اس کی تلاش شروع ہوگی بچے کی والدہ اور دیگر اہل خانہ شام گئے تک ا سے تلاش کرتے رہے نہ ملنے پر مقامی تھانے میں اس کے گم ہونے کی اطلاع دی گئی جہاں پولیس نے والد شاہد اقبال کی درخواست پراغوا ء کی دفعات کے تحت نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، جیسے ہی اندھیرا ہوا مغوی بچے کی چچی سندس نے الماری سے تھیلا اٹھا کر چھت پر جا کر گھر کے ساتھ واقعہ خالی پلاٹ کی جھاڑیوں میں اسے پھینک دیا مغوی بچے کی لاش کو پھینکنے کے بعد ملزمہ چچی بھی والدین کی ہمدردی میں اسے تلاش کرتی رہی رات گئے تک مغوی بچے کی تلاش جاری رہی نہ ملے پر دن چڑھے اس کی تلاش دوبارہ شروع کی گئی کہ ایک شخص کی نظر لاش والے تھیلے پر پڑی اسے اٹھا کر دیکھا گیا تو اس میں بچے کی لاش تھی لاش ملتے ہی گھر میں کہرام مچ گیا بین شروع ہو گئے ہر طرف چیخ و پکار تھی،بچے کی لاش ملنے کی اطلاع مقامی پولیس کو بھی دی گئی ڈی آئی جی انوسٹی گیشن شارق جمال مقامی ایس پی انویسٹی گیشن کیپٹن ریٹائرڈ رائے اجمل اور مقامی پولیس کے ڈی ایس پی اور دیگر نفری وہاں پہنچ گئی فرانزک ٹیموں کو بھی بلوا لیا گیا سی آئی اے ٹیم کے آفیسر اور اہلکار بھی آگئے، بچے کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے بھجوانے کے بعد تدفین کا عمل مکمل کیا گیا ڈی این اے ٹیسٹ بھجوائے گئے قاتلوں کی تلاش شروع ہوگی،ڈی آء جی انوسٹی گیشن شارق جمال کی ہدایت پر تفتیش کا عمل شروع کیا گیا مقامی تفتیشی آفیسر محمد افضل نے مقتول بچے کے والد سے خاندان کے متعلق تفصیلات حاصل کیں اور گھر کے تمام افراد کو باری باری تفتیش کا حصہ بننے کی ہدایت کی گئی بچے کے دادا دادی،والد والدہ،چچا چچی،پھو پھواور گھر کے دیگر افراد سبھی کو تھانے بلوایا گیا تفتیشی آفیسر محمد افضل نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حالات واقعات دیکھ کر پہلے رو زسے ہی اسے شک تھا کہ مقتول بچے کی لاش متاثرین کے گھر کی چھت سے جوپھینکی گئی ہے اور یہ قاتل بھی یقینا اس گھر کے اندر ہی موجودہے مگر وہ کوئی کام ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا کہ جس سے گھر والے یہ محسوس کریں کہ ایک تو ان کا بچہ قتل ہو گیا ہے دوسری جانب پولیس انہیں ہراساں کر رہی ہے البتہ وہ باریک بینی سے گھر کے سبھی افراد کو کھنگالنے کا ارادہ رکھتا تھا اس لیے اس نے بڑے پیار اور محبت سے سب ہی گھر والوں کو باری باری سنا،بچے کے قتل پر ان کے ساتھ افسوس کا اظہار بھی کیا خواتین کے سر پر ہاتھ جبکہ مردوں کے صبر اور تحمل کی تلقین کے ساتھ دعا مانگی گئی سب کو سننے پر قاتل چچی کو تھانے میں موجود رہنے کی ہدایت کی گئی مگر گھر والے اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہ تھے،ملزمہ سندس کا شوہر بھی قانون دان ہے پولیس اس حوالے سے بھی بڑی چوکس تھی کے کہیں وہ شور نہ ڈالے کہ ایک ان کا بچہ قتل ہوگیا ہے دوسری جانب پولیس اس کی بیوی کو ہراساں کر رہی ہے خیر فیصلہ یہ کیا گیا کے گھر والے سبھی تھانے میں موجود رہیں ملز مہ سندس کو ان کی تھانے میں موجودگی کے دوران سوال جواب کا مرحلہ شروع کیا گیا مگر وہ پولیس کو مطمئن نہ کرسکی اس کے شوہر اور گھر والوں کی اجازت سے اسے ایک علیحدہ کمرے میں لے جاکر روائتی طریقے سے جب پوچھ گچھ کا عمل شروع ہوا تو ملزمہ سندس نے بچے کے قتل کا اعتراف کرلیا اور موقف اختیار کیا کہ اس نے یہ قتل اس لئے کیا ہے کہ گھر کے سبھی افراد اس بچے سے پیار کرتے تھے اسے گود لے کر بازار لے جایا جاتا ٹافیاں اور جوس لے کر دیے جاتے مگر اس کی ڈیڑھ سالہ بچی کا کوئی خیال نہیں کرتا تھا جب وہ کسی کے قریب جاتی تو اسے جھڑ ک دیا جاتا ڈانٹ ڈپٹ کی جاتی مگر شایان سب کی آنکھوں کا تارا بنا ہوا تھا سبھی شایان سے پیار کرتے نظر آتے یہ مناظر میری برداشت سے باہر تھے میں نے سوچا کیوں نہ اس بچے کو قتل کردیا جائے پھر میں نے وہی کیا کہ دن دو بجے چپکے سے مقتول بچے کو اٹھا کر اوپر اپنے کمرے میں تیسری منزل پرلے گئی اس دوران میں اپنے کمرے میں اکیلی موجود تھی میں نے شایان کا گلا دبایا پانی کا ٹپ بھر کر شایان کو غوطے دلوائے بچہ سسکیاں لے کر روتا رہا مگر مجھے اس پر ترس نہ آیا میں نے اسے موت کے گھاٹ اتار کر گلے پر چھری پھیر ڈالی ایک لمحے کے لیے خوفزدہ ضرور ہوئی مگر میں گھر میں انڈین جذباتی فلمیں دیکھنے کی شوقین تھی جب میں نے بچے کو قتل کیا اس دوران میں نے ٹیلی ویڑن کی آواز زیادہ کر رکھی تھی تاکہ بچے کے رونے کی آواز باہر کوئی سن نہ پائے، خیر میں نے اسے قتل کرنے کے بعد لاش کو ایک تھیلے میں ڈال کر الماری میں چھپا دیا بچے کو قتل کرنے کے چند منٹ بعد ہی گھر میں شایان کی تلاش شروع ہوگی، ہر کوئی پوچھ رہا تھا شایان کہاں ہے کدھر گیا اسے کون لے کے گیا ہے نظر نہ آنے پر گھر کے سبھی افسردہ نظر آئے اور اس کی تلاش میں بھاگنے لگے، میں بھی گھر والوں کے ساتھ تلاش میں برابر کی شریک رہی ساری رات ہم بچے کو تلاش کرتے رہے پہلے میں نے سوچا گھر والوں کو بتا دیا جائے کہ یہ ہمارے گھر کے ساتھ واقعہ پلاٹ میں جو تھیلا پڑا ہے اسے اٹھا کر دیکھ لیا جائے پھر میں نے ڈر کے مارے نہ بتایا بالآخر صبح اسے کسی نے دیکھ کر ہمیں اطلاع کر دی، لاش پکڑے جانے پر بھی میں گھر والوں کے ساتھ ان کے دکھ میں برابر کی شریک رہی اور پوری کوشش کی کہ انہیں اس قتل کے ملزم کاپتہ نہ چل سکے بالآخر پولیس نے اس قتل کا کھوج لگا ہی لی ہے اب میں بہت شرمندہ ہوں خود بھی ایک کمسن بچی کی ماں ہو ں،میں نے شایان کو قتل کر کے اچھا نہیں کیا اس قتل کی وجہ سے اب پوری عمر مجھے پچھتاوا رہے گا۔

 تفتیشی آفیسر کے مطابق اس قتل کی سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ متاثرین کے گھر کا ماحول یورپین سٹائل کاہے۔ مذہب سے لگاؤ نہ ہونے کے برابر ہے خاندان کے سربراہ مقتول بچے کے دادا محمد اقبال نے دو شادیاں کر رکھی ہیں دوسری شادی اس نے اپنی بیوی کی بھانجی یعنی سالی کی بیٹی سے کر رکھی ہے محمد اقبال کی پہلی بیوی سے پانچ بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں یعنی مقتول بچے کا والد اور ملزمہ سندس کا شوہر جبکہ دوسری بیوی سے ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے اسی طرح مقتول بچے کے والد شاہد نے بھی دو شادیاں کر رکھی ہیں پہلی بیوی کو طلاق دے کر یہ دوسری شادی رچائی جبکہ ملزمہ سندس کے شوہر زاہد اقبال نے بھی دو شادیاں کی ہیں پہلی کو طلاق دے کر دوسری شادی سندس سے رچاء لی سندس نے الزام لگایا ہے کہ اس کے شوہر نے ایک بیوی نکاح کے بغیر اس سے چھپا کر بھی رکھی ہوئی ہے،تفتیشی آفیسر نے بتایا ہے کہ قتل میں ایک اور بھی افسوسناک بات سامنے آئی ہے کہ میڈیکل رپورٹ میں مقتول بچے کے ساتھ بدفعلی قرار پائی گئی ہے اور بدفعلی ہونا بھی متعدد بار نشاندہی کرتی ہے تاہم انہوں نے بچے کے ڈی این اے ٹیسٹ بھجوا دیئے ہیں جس کی رپورٹ آنا ابھی باقی ہے قاتل ملزمہ سندس سے آلہ قتل برآمد کر کے اسے جیل بھجوا دیا گیا ہے،،تفتیشی افسر کے مطابق ملزمہ سندس کی ایک ڈیڑھ سالہ بچی ہے جبکہ مقتول بچے نے سوگواروں میں والدین کے علاوہ ایک 10سالہ بھا ئی سکندر اور 12 سالہ بہن مہک چھوڑے ہیں مقتول بچے کے غمزدہ والدین اور بہن بھا ئی نے ملزمہ کو سرعام پھانسی کی سزا دینے کا مطا لبہ کیا ہے جبکہ مقتول کے والد اور دیگر خاندان اس بارے میں مکمل طور پر خاموش دکھائی دیتا ہے۔

٭٭٭

صلی ٹاؤن میں دلخراش واقعہ پر ہر آنکھ اشکبار

سندس نے معاملہ دبانے، شناخت مٹانے کی غرض سے معصوم کی لاش چھت سے نیچے پھینک دی

مزید :

ایڈیشن 1 -