بدنام زمانہ گروہ نے نوجوان کانسٹیبل مارڈالا

بدنام زمانہ گروہ نے نوجوان کانسٹیبل مارڈالا

  

لاہور روڈ کی آبادی نظام پورہ ڈھاکہ میں منشیات فروشو ں کے گروہ نے جہاں لاتعداد نوجوانوں کو منشیات کا عادی بنا کر انکی زندگیوں اور گھرانوں کو تباہ کیا وہاں آئے روز کے لڑائی جھگڑوں کے تحت بھی شریف شہریوں کی زندگیاں اجیرن بنا رکھی ہیں خصوصا ً ایسے افراد جو انکی ناجائز فروشی کے خلاف زبان کھولتے ہیں انہیں دبانے ڈرانے اور زباں بندی کیلئے پر تشدد کاروائیاں منشیات فروشوں کا معمول بن چکی ہیں اور اب نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ خود پولیس ملازمین بھی ان کی پرتشدد کاروائیوں سے محفوظ نہیں جس کی بڑی مثال مقتول کانسٹیبل عثمان اسلم کی ہے جسے اعلیٰ پولیس افسران کو شکایت کرنے اور منشیات فروشی سے منع کرنے پرپولیس کانسٹیبل عثمان اسلم کو قتل اور اسکے دو ماموں شدید زخمی کردیئے جو ہسپتال میں زیر علاج موت سے زندگی کی جنگ لڑرہے ہیں،واقفان حال کے مطابق تھانہ فیکٹری ایریا کے علاقہ نظام پورہ ڈھاکہ میں کئی سالوں سے منشیات فروشی کا دھندہ سرعام ہورہا ہے اور بوٹا بٹ گروہ اپنے دروازوں کے سامنے سرعام چرس افیون اور ہیروئن فروخت کرتے ہیں اس گروہ کو رنج تھا کہ پولیس کو انکی بار بار شکایات سابق ناظم کے لوگ کررہے ہیں اور اس رنجش پر درجن سے زائد مسلح منشیات فروش گروہ نے جاوید چھرا، ثناء اللہ چھرا اور عثمان اسلم پر فائرنگ کردی جس کے نتیجہ میں عثمان اسلم جو کہ پولیس کانسٹیبل بھی تھا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر جان بحق اور اسکے دو ماموں شدید زخمی ہوگئے ملزمان کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجہ میں ایک خاتون عزا بی بی بھی جان بحق ہوگئی، واقعہ کی اطلاع پاکر پولیس موقع پر پہنچ گئی مگر کسی ملز م کی گرفتاری عمل میں نہ آسکی جبکہ ڈی پی او شیخوپورہ غلام مبشر میکن نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کیلئے ڈی ایس پی فیروزوالہ سرکل عمران عباس چدھڑ کی نگرانی میں دو ٹیمیں تشکیل دیں جو فرار ملزمان کی تلاش میں کامیاب نہ ہوسکیں جس کے بعد ملزمان کی طرف سے مقتول کانسٹیبل کے اہلخانہ اور رشتہ داروں کو ملزمان کی طرف سے دھمکیاں ملنا شروع ہوگئیں متاثرہ خاندان کے مطابق یہ دھمکیاں قتل کیس کی پیروی سے روکنے کیلئے دی جارہی ہیں منشیات فروش بوٹا بٹ گروہ مختلف ذرائع سے ہمیں اور گواہان پر دباؤ ڈال کر اس کیس میں اپنے انجام سے بچنا چاہتا ہے او ر دھمکیاں نئی نہیں بلکہ انکے خلاف آواز اٹھانے والے ہر فرد کو اسی طرح سنگین نتائج کی دھمکیاں دیکر یہ دباتے آئے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ علاقہ میں خوف کی علامت بن چکے ہیں جن کی سرعام منشیات فروشی کے خلاف اب کوئی آواز اٹھانے والا نہیں، دوسری طرف فیکٹری ایریا پولیس تاحال کسی ایک ملزم کو بھی گرفتار نہیں کرسکی اور مظلوم خاندان ملزمان کے خوف سے اپنے گھروں میں قید ہو کر رہ گیا جبکہ مقتول پولیس کانسٹیبل کی چھ ماہ قبل شادی ہوئی تھی اور وہ بیوہ ماں کا اکلوتا بیٹا تھا جو لاہور سپیشل برانچ میں تعینات تھا، بتایا گیا ہے کہ بوٹا بٹ گروہ پہلے بھی ایک نوجوان یوسف ولد مشتاق کو قتل کرچکا ہے اور اس مقدمہ قتل میں بھی ملزمان اشتہاری قرار ہونے کے باوجود پولیس کی پکڑ سے باہر ہیں اور علاقہ میں سرعام منشیات فروخت کرتے ہیں اور بوٹا بٹ، قاسم بٹ، یوسف بٹ، شبیر بٹ وغیرہ 10 تا 15رکنی یہ گروہ علاقہ غیر سے چرس، ہیروئن اور افیون لاکر دھڑلے سے علاقے کی گلیوں اور چوک چورواہو ں میں ترازو رکھ کر وزن کرکے سرعام منشیات فروشی کرتا ہے اور سینکڑوں نوجوان اس نشہ کی لت میں مبتلا ہوچکے ہیں،مقامی رہائشیوں کے مطابق اس گروہ کی منشیات فروشی بارہا عیاں ہوئی ہے مگر انکے خلاف پولیس نے کبھی بھی سخت ایکشن نہیں لیا یہ گروہ چند پولیس اہلکاروں کو ساتھ ملا لیتا ہے اور جو پولیس آفیسر انکے خلاف کاروائی یا ریڈ کرتا ہے تو اسکے خلاف عدالتوں میں خود ساختہ و من گھڑت کہانی بناکر رٹ دائر کرکے پریشان کرتے ہیں، مقامی سابق چیئرمین چوہدری محمد شہباز کے خاندان کے افراد نے اس گروہ کو متعدد بار یہ دھندہ چھوڑنے کا کہا اور چند ماہ قبل کسی بات پر بٹ گروہ نے چیئرمین کے رشتہ داروں کے گھروں پر حملہ کرکے توڑ پھوڑ کی، تھانہ فیکٹری ایریا کے ایس ایچ او سردار افضل ڈوگر کی طرف سے اس گروہ کے خلاف کاروائی پر منشیات فروشوں نے لاہور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کردی تو چیئرمین کے خاندان کے افراد جاوید اقبال اور ثناء اللہ وغیرہ نے ایس ایچ او کی بے گناہی کے متعلق بیان حلفی دیئے اور بتایا کہ بوٹا بٹ وغیرہ ایک عرصہ سے سرعا م منشیات فروشی کررہے ہیں جس کا اس گروہ کو رنج ہوا اور ایک منصوبے کے تحت وقوعہ کے روز جاوید اقبال کے بھانجے پولیس کانسٹیبل عثمان اسلم کے گھرکے باہرمنشیات فروشوں نے ایک نوجوان پر تشدد کرکے ہنگامی کھڑ ا کردیا تو مقتول نے منع کیا جس پر وہ مشتعل ہوگئے اور کلاشنکوفوں سے فائرنگ کرکے عثمان اسلم کو قتل کردیا اور جاوید اقبال و ثناء اللہ کو زخمی کردیا اور اپنے گھر وں میں جاکر مورچہ بند ہو کر شدید فائرنگ کرنے لگے جس کے نتیجہ میں ایک خاتون عزا بی بی بھی گولی لگنے سے جان بحق ہوگئی، پولیس نے جاوید اقبال کی درخواست پر بوٹا بٹ، قاسم اور علی بٹ وغیرہ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا اور اب الٹا ملزمان مقتول کے خاندان اور رشتہ داروں کو قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں جبکہ مقتول پولیس کانسٹیبل عثمان اسلم کی والدہ ثریا بی بی نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور آئی جی پنجاب پولیس انعام غنی سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کے بے گناہ بیٹے کو قتل کرنے والے منشیات فروشوں کی گرفتاری کیلئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے ملزمان سے انہیں سخت خطرہ ہے ثریا بی بی نے زار و قطار روتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ وہ اب پھر سے بے آسرا ہوچکی ہے دس سال قبل اسکا کانسٹیبل شوہر اسلم وفات پاگیا اور ا س نے اپنے بیٹے کی بڑی محنت سے پرورش کی اور پولیس میں بھرتی کروایا جبکہ چھ ماہ قبل اسکی شادی ہوئی تھی اب ایک گھر میں ہم دو بیوائیں وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب پولیس سے انصاف کی بھیک مانگ رہی ہیں دوسری طرف ڈی ایس پی فیروزوالہ سرکل عمران عباس چدھڑ کا کہنا ہے کہ وہ ملزموں کو پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالیں گے مظلوم کی داد رسی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا مقدمہ درج ہوچکا اور اسکی تفتیش کی وہ خود نگرانی کریں گے ملزمان کی گرفتاری کیلئے دو ٹیمیں تشکیل دیدی گئی ہیں جو ملزمان کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں مقتول کے رشتہ داروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا تاہم دیکھنا یہ ہے کہ متعلقہ پولیس اپنے پیٹی بندھ ساتھی مقتول کانسٹیبل عثمان اسلم کے قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کرکے انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں کہاں تک کامیاب ہوتی ہے یا یہ کیس بھی عام سائلین کی طرح پولیس کی روائتی تفتیش کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔ 

٭٭٭

منشیات فروشی سے کیوں منع کرتے ہو؟

مزید :

ایڈیشن 1 -