باہر بھجوانے کا جھانسہ دینے والے گروہ بے لگام

باہر بھجوانے کا جھانسہ دینے والے گروہ بے لگام

  

پرسکون زندگی صرف اور صرف رزق حلا ل سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔انسانی سمگلر چند روپوں کی خاطراپنی دنیا اور آخرت دونوں برباد کر لیتے ہیں۔بڑے خواب دیکھنا اور انہیں عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرنا سب کا حق ہے لیکن یاد رہے کہ آپ کی اس کوشش میں کسی دوسرے کو نقصان نہ پہنچے۔آپ کو ترقی ضرور کرنی چاہیے لیکن ایک بات کا خاص دھیان رکھیں کہ کہیں آپ کسی کے جذبات،احساسات اور خوابو ں سے تو نہیں کھیل رہے۔میں بہت سے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جنہوں نے سادہ لوح افراد کو بیرون ملک بھیجنے، ان کے خاندان کا مقدربدلنے اور خوشحا ل زندگی کے سہانے خواب دیکھا کر محض دو چار لاکھ کے لیے ان کی زندگیاں برباد کردیں یا ختم ہی کر دیں لیکن ان کا انجام کیا ہوا میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں۔

 ملک ارم زمان راول پنڈی کا رہائشی تھا اور ایک عرصہ سے ملایشیاء میں مقیم تھا۔میری اور اس کی ملاقات کوالالمپور،چوکھٹ کے بلوچ ریسٹورینٹ پر ہوئی اس نے مجھے بہت سی کہانیاں سنائیں مثلاً کہ میں یہاں پر بہت بڑے لیول پر کام کرنے والا ٹریول ایجنٹ ہوں میں نے بہت سے خاندانوں کی تقدیریں بدل دی ہیں۔میں اور میرے تین دوست اس کی باتیں بہت غور سے سن رہے تھے۔ہم اس کی شخصیت سے متاثر ہوئے جب ہم واپس اپنے فلیٹ پر پہنچے اور ٹیلی ویژن دیکھنے بیٹھ گئے ابھی کچھ ہی وقت ہوا تھا کہ ٹیلی ویثرن سکرین پر APSسانحے کی خبر چلی۔ہم بہت افسردہ ہوئے ہم نے فیصلہ کر لیا کہ ہم پاکستان چھوڑ د یں گے۔پاکستان میں اس وقت زردار ی کی حکومت تھی اور مایوسی کے سوا کچھ نہیں تھا۔ہم چاروں دوستوں نے فیصلہ کر لیا کہ ہم ملایشیاء مٰں اپنے بچوں کو شفٹ کر لیں گے۔اور کوئی نہ کوئی مزدوری یا کاروبار تلاش کر کے پرسکون زندگی گزاریں گے۔میں نے ملک ارم کو فون کر کے اپنے فلیٹ پر بلالیا چائے پی اور اپنی خواہش کے بارے میں آگاہ کیا۔اس نے فوراً حامی بھری اور کہا کہ بھائی آپ دیکھیں گے کہ یہ آپ کی زندگی کا سب سے اچھا فیصلہ ہو گا۔

کچھ ہی دن گزرے ہم پاکستان آگئے پیسوں کا انتظام کیا اور سب دوستوں نے پندرہ لاکھ فی کس کے حساب سے اسے پیسے بھیج دئیے۔ اور ساتھ ہی پاکستان سے اپنے اپنے کام ختم کرنا شروع کر دئیے، فیملی ویزہ کے انتظار میں بالکل فری ہو کر گھر بیٹھ گئے اور جو پیسے ATMمیں موجود تھے وہ بھی استعمال ہو گئے اور ہم سب پلاننگ کر رہے کہ وہاں جا کر کرنا کیا ہے۔خیر اسی طرح تین چار ماہ گزر گئے اور پھر ایک دن ملک ارم کا نمبر بند ہو گیا۔ بہت کوشش کے بعد اس سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوئے تو پتہ چلا کہ وہ کچھ دنوں کے لیے جیل یاترہ پر گئے ہوئے تھے۔ہم نے پھرسے ملایشیاء جانے کا فیصلہ کیا ہم گئے اسے تلاش کر کے پکڑا تو پتا چلا کہ یہ تو ایک بہت بڑا فراڈیا ہے اس نے تو پاکستان،انڈیا،نیپال، بنگلہ دیش سمیت بہت سے ممالک کے لوگوں سے پیسے لیے ہوئے ہیں۔خیر ایک محتاط انداز ے کے مطابق اس وقت تک وہ ایک ارب روپے کا فراڈ کر چکا تھا۔اس وقت ملایشیاء میں موجودہ پاکستانی ہائی کمیشنر کے ساتھ میرے بہت اچھے تعلقات تھے۔میں ان سے ملاا انہوں نے وہاں ایک SPکو خط لکھ کر اس کے خلاف کاروائی کرنے کا کہا۔ہم نے بہت جتن کر لیے لیکن پیسے لینے میں ناکام رہے۔کچھ عرصہ گذرا اس کی تابوت میں بند لاش کی تصویریں مجھے فیس بک پر ملیں۔خیر ہم نے راولپنڈی میں اس کے آبائی گھرجانے کا فیصلہ کیا تاکہ اس کے جنازے میں شرکت کی جائے جنازے کے بعد گھر والوں سے معلوم ہوا کہ اس نے لوگوں سے کروڑوں روپے لیے ہوئے ہے اور ان پیسوں سے کچھ نہیں بنایا بس اپنی عیاشی میں اڈا دئیے۔پاکستان اور ملایشیاء کی پولیس اس کی تلاش میں تھی۔اس پر پاکستان میں سیکڑوں FIRدرج تھیں۔

ایسے ہی حالات چوہدری اسحاق کے تھے جس کا تعلق منڈی بہاولدین سے تھا جو لوگوں کو غیر قانونی طریقے سے یونان لے جاتا تھا۔اس کے دیکھنے کو ملے سیالکوٹ کے شیخ وقاص کے حالات بھی پہلے دونوں سے مختلف نہیں تھے۔ان تینوں نے اپنی دنیا بھی برباد کی اور شاید اپنی آخرت بھی۔

 اس تحریر میں بیان کردہ تین مختلف لیکن ایک جیسے کرداروں کے احوال آپ کے سامنے ہیں اب فیصلہ آپ نے کرنا ہے آپ لوگوں کے خوابوں سے کھیل کر وقتی طور پر پیسہ تو کما سکتے ہیں لیکن مستقل خوشی حاصل نہیں کر سکتے۔اس لیے کوشش کریں کہ کسی کے ارمانوں کا گلا نہ گھونٹیں۔اگر آپ نے کسی پر ظلم کردیا تو یقین کریں ساری زندگی سکون کے متلاشی بھی رہیں گے اور ناکام بھی۔

٭٭٭

شہریوں کے جذبات، احساسات اور خوابوں سے کھیلتے انسانی سمگلر

لاہور، گجرات، راولپنڈی اور منڈی بہاؤالدین سمیت کئی شہروں میں انہوں نے سرعام دکانیں سجارکھی ہیں 

مزید :

ایڈیشن 1 -