کورونا کے باعث معیشت مکشل دور سے گزر رہی، راولپندی چیمبر 

      کورونا کے باعث معیشت مکشل دور سے گزر رہی، راولپندی چیمبر 

  

 راولپنڈی (سٹی رپورٹر) راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے صدر محمد ناصر مرزا نے یورپین یونین پارلیمنٹ کی قرارداد کے ذریعے جی ایس پی پلس سٹیٹس کے تحت ڈیوٹیز اور ٹیکسوں کی چھوٹ واپس لینے کے مطالبے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر چھوٹ واپس لی جاتی ہے تو پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالر کا نقصان ہو گا۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی یورپی یونین کے لیے برآمدات آٹھ ارب ڈالر جبکہ تقریبا پانچ ارب ڈالر کی درآمدات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وبا کے باعث پاکستان کی معیشت ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے۔بیرون ملک خاص طور پر یورپی یونین میں تعنیات سفیروں، سفارتی مشن اور کمرشل قونصلرز کو متحرک ہونا ہو گا۔ صدر چیمبر ناصر مرزا نے کہا کہ راولپنڈی چیمبر نے حال ہی میں ورچوئل ٹریڈ فورم یورپ چیپٹر کا انعقاد کیا تھا جس کا مقصد یورپی ممالک میں کاروباری برادری کو تجارت اور برآمد کے مواقع سے آگاہ کرنا ہے، ٹریڈ فورم میں جرمنی، سپین، اٹلی، نیدرلینڈ، فرانس اور سویڈن میں تعینات، ٹریڈ و کمرشل قونصلرز  سمیت یورپی یونین پاکستان کے ٹریڈ و کمیونیکیشن سیکشن کے ہیڈ ڈینیل کلاوس نے  شرکت کی تھی۔انہوں نے کہا کہ  بلاشبہ یورپ ایک بڑی مارکیٹ ہے، پاکستان سے ایکسپورٹ کا 75فیصد ٹیکسٹائل سے ہے ہمیں اس کا دائرہ کار دوسرے سیکٹرز تک پہنچانا ہو گا۔ جیمز اینڈ جیولری، ٹورزم، آئی ٹی، مائننگ اور ہینڈی کرافٹ  جیسے شعبوں پر توجہ دی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن، رجسٹریشن اور سرٹیفیکیشن پر توجہ دی جائے۔ چیمبر ز کے ساتھ معلومات شیئر کی جائیں۔

قصور (اے پی پی):محکمہ زراعت کے ترجمان نے کہا کہ پیازکومناسب وقت پر برداشت کرکے کم ازکم 6ماہ یا اس سے بھی زائد عرصہ تک ذخیرہ کیاجاسکتاہیبرداشت اور سٹوریج کے لئے محکمہ زراعت کی مشاورت بہتر نتائج فراہم کرسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر پیازکی فصل کو مناسب وقت پر برداشت کرلیاجائے تو کم ازکم 6ماہ تک اس کی اصل طاقت کو برقراررکھاجاسکتا ہے کاشتکاروں کو چاہیے کہ وہ فصل کی برداشت میں احتیاط سے کام لیں اور جب پودوں کے تنے 15سے 20فیصد تک خشک ہوکر ٹوٹنا شروع ہوجائیں تو پھر پیازکی برداشت میں تاخیر سے اجتناب برتنا چاہیے۔

 کیونکہ پیازکی برداشت جتنی تاخیر سے ہوگی اتنا فصل کے گلنے سڑنے کے خدشات میں اضافہ ہوتاجاتاہے۔ انہوں نے کہا کہ موٹے تنے والے پیازکے ایسے گٹھے جو مکمل طورپر پک کر تیار نہ ہوئے ہوں۔ 

مزید :

کامرس -