کریلے کی اچھی پیداوار کیلئے جڑی بوٹیاں تلف کرنے کی ہدایت

کریلے کی اچھی پیداوار کیلئے جڑی بوٹیاں تلف کرنے کی ہدایت

  

فیصل آباد(اے پی پی)محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو کریلے کی بھر پور پیداوار کیلئے فصل سے جڑی بوٹیاں فوری تلف کرنے کی ہدایت  کی ہے اور کہا ہے کہ کاشتکار فصل کا اگا مکمل ہونے کے بعد موجودہ ناغوں کو پر کرنے کیلئے پانی میں بھگوئے ہوئے بیج کے 2سے 3دانے لگائیں اور 2سے 3 روز کے وقفے تک پانی ڈالتے رہیں تاکہ یہ بیج جلد از جلد اگ آئیں۔محکمہ کے ترجمان نے کہا کہ کاشتکاروں کو چاہیے کہ کریلے کی فصل کے کھیتوں سے خود رو پودوں اور جڑی بوٹیوں کی تلفی کیلئے 4سے 5مرتبہ مناسب وتر میں گوڈی کریں تاکہ فصل کو نقصان پہنچنے سے بچایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت کا فیلڈ سٹاف کاشتکاروں کی مشاورت و معاونت کیلئے ہمہ وقت مصروف عمل ہے لہذا کسی بھی مسئلہ کی صورت میں ماہرین یا محکمہ زراعت کے فیلڈ سٹاف سے فوری رابطہ کیا جا سکتا ہے۔مزید بر آں انہوں نے کہا کہ مویشیوں کے بہترین گوشت اور دودھ کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کیلئے مویشیوں کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے اور انہیں تمام تر لحمیات، پروٹینز اور غذائیت سے بھر پور چارے کی فراہمی کیلئے معیاری اور موسمی چارے کی بروقت کاشت کو یقینی بنایا جائے۔

تاکہ مویشی پال حضرات کو اپنے مویشیوں کی غذائی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے کسی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے فارمرز کو ہدایت کی کہ وہ موسم گرما کی مناسبت سے مکئی، سدابہار، جوار، ماٹ گراس کاشت کریں اور فی ایکڑ بہتر پیداوار کے حصول کیلئے زمین کی زرخیزی میں اضافہ کی غرض سے ماہرین زراعت کی مشاورت کی روشنی میں کھاد اور بیج کا استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ فی ایکڑ بہتر پیداوار کے حصول کیلئے مکئی کا بیج 40، سدابہار15، جوارکا بیج 30 کلوگرام فی ایکڑ کاشت کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ مکئی کی فصل اپریل سے ستمبر اور جوار و سدابہار کی فصل اپریل سے مئی تک کاشت کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ زراعت نے فارمرز کو مفت مشوروں کی فراہمی کیلئے ہیلپ لائن قائم کر رکھی ہے لہذاکاشتکار کسی بھی مسئلہ یا مشاورت و معاونت کیلئے صبح 10 سے شام 5 بجے تک فری ہیلپ لائن پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

مزید :

کامرس -