پاکستان ریاست مخالف حملوں میں قابل ذکر کمی، ماہ اپریل میں 4سکیورٹی اہلکار، 8شہری جاں بحق ہوئے 

      پاکستان ریاست مخالف حملوں میں قابل ذکر کمی، ماہ اپریل میں 4سکیورٹی ...

  

اسلام آباد(آئی این پی)پاکستان میں اپریل کے مہینے کے دوران ریاست مخالف حملوں  میں کمی دیکھی گئی ، اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی سٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس)کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق، اپریل میں جنگجوؤں کے 13 حملے ہوئے جس میں 8 شہریوں اور 4 سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت 12 افراد مارے گئے جبکہ 43 دیگر میں شامل 35 شہری اور 8 سکیورٹی فورسز اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ جبکہ مارچ کے مہینے میں جنگجو کے 20 حملے ہوئے۔ مارچ میں مارے جانیوالوں کی تعداد اپریل کی نسبت زیادہ اور زخمیوں کی زیادہ تعداد دیکھنے میں آئی۔ مارچ میں 25 افراد مارے گئے اور37 دیگر زخمی ہوئے تھے۔ جبکہ پنجاب اور سندھ میں جنگجوؤں کی طرف سے کوئی حملہ سامنے نہیں آیا۔پکس کی رپورٹ کے مطابق، جنگجوؤں کے سب سے زیادہ حملے بلوچستان کے علاقے میں دیکھے گئے جہاں جنگجوؤں کی طرف سے  چھ حملے کئے گئے جس میں سات افراد مارے گئے اور 39 دیگر زخمی ہوئے۔ جبکہ فاٹا میں جنگجوؤں کی طرف سے چار حملے ہوئے جس میں 3 افراد مارے اور دو زخمی ہوئے۔ کے پی کے میں جنگجوؤں کے دو حملے دیکھنے میں آئے جس میں دو افراد مارے گئے اور ایک زخمی ہوا۔ جبکہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری(آئی سی ٹی)میں ایک جنگجو کا حملہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک فرد زخمی اور کوئی بھی ہلاک نہیں ہوا۔ سندھ میں جنگجوؤں کے چار حملوں میں پانچ افراد مارے گئے اور چھ زخمی ہوئے۔پکس رپورٹ کے مطابق، جنگجوئں کی طرف سے مارچ کے مہینے میں ہونے والے ٹوٹل 13 حملوں میں سے 7 واقعات ٹارگٹ کلنگ کے تھے جن کے نتیجے میں دیگر واقعات کی نسبت سب سے زیادہ افراد مارے گئے جن میں تین سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت چار عام شہری بھی مارے گئے جبکہ ایک ایک سیکیورٹی فورسز کا اہلکار اور عام شہری زخمی ہوا۔آئی ای ڈی پر مبنی تین حملے کیے گئے جس میں ایک سیکیورٹی فورسز کا ایک اہلکار مارا گیا جبکہ 24 دیگر افراد زخمی ہوئے جن میں 19 عام شہری اور پانچ سیکیورٹی فورسز کے اہلکار شامل تھے۔ تین آئی ای ڈی حملوں میں سے ایک بڑا حملہ بلوچستان کے کیپیٹل کوئٹہ کے سرینہ پارک میں ہوا جس کے نتیجے میں 5 افراد مارے گئے اور  دو دستی بم حملے بھی دیکھے گئے جن کے نتیجے میں تین عام شہری اور سیکیورٹی فورسز کے دو افراد زخمی ہوئے۔ اس مہینے کے دوران ایک خودکش حملہ بھی دیکھا گیا جس کے نتیجے میں پانچ افراد مارے گئے جن میں چار عام شہری اور ایک جنگجو شامل ہے اور بارہ دیگر افراد زخمی ہوئے تھے۔ خودکش حملہ آور نے حال ہی میں بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں واقع سرینہ ہوٹل کی پارکنگ میں بارود سے بھری گاڑی کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ کے مطابق یہ ایک افغان شہری تھا ۔

ریاست مخالف حملے

مزید :

صفحہ آخر -