اگلی بڑی جنگ مختلف ہو گی،حالات کا تعین کرنا مشکل، امریکی وزیر دفاع

    اگلی بڑی جنگ مختلف ہو گی،حالات کا تعین کرنا مشکل، امریکی وزیر دفاع

  

واشنگٹن(این این آئی)امریکی وزیر دفاع نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل کے ممکنہ تنازعات کی صورت ماضی سے بالکل مختلف ہو گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہاکہ مستقبل کے حالات کا تعین کرنا فی الوقت بہت مشکل ہے۔ امریکی وزارتِ دفاع کے سربراہ نے واشنگٹن سے کہا کہ وہ سائبر اور اسپیس خطرات کا اندازہ لگاتے ہوئے جدید ٹیکنیکل و ڈیجیٹل اختراعات کو دفاعی معاملات میں بھرپور انداز میں استعمال کرے۔لائیڈ آسٹن نے اپنی تقریر میں بیان کیا کہ نئے دور کی عسکری ضروریات میں کوانٹم کمپیوٹنگ، مصنوعی دانش اور کمپیوٹر کی جدید مہارت کا استعمال شامل ہو سکتا ہے اور ان سے دفاعی ریسپونس کی رفتار بھی انتہائی تیز ہو گی۔ اسی ریسپونس میں اجتماعی ڈیٹا کا حصول اور اس کی شیئرنگ بھی شامل ہو گی۔چینی افواج میں تیز رفتاری سے جدیدیت متعارف کرانے کے خدشات اور ممکنہ جارحانہ رویوں کے تناظر میں امریکی وزیر دفاع نے واضح کیا کہ اب اس تاثر میں رہنا درست نہیں کہ امریکا دنیا کی سب سے باصلاحیت مسلح افواج رکھتا ہے اور ایسے حالات میں جب مخالف قوتیں اپنی طاقت کی دھار کو تیز سے تیز تر کرنے میں مصروف ہوں۔

 امریکی وزیر دفاع

نئی دہلی(آئی این پی) بھارت میں کورونا س کے مزید   3  لاکھ  92 ہزار سے زائد نئے مریض رپورٹ،   3 ہزار 688 افراد دم توڑ گئے، ہلاکتوں  کی تعداد دو لاکھ پندرہ ہزار سے تجاوزکر گئی۔ تفصیلات کے مطابق  بھارت میں کورونا کے حملے مزید تیز ہو گئے، ایک روز میں 3 لاکھ 92 ہزار سے زائد نئے مریض سامنے آئے، جان لیوا وائرس سے مزید 3 ہزار 688 افراد لقمہ اجل بن گئے۔ مرنے والوں کی مجموعی تعدا د 2 لاکھ 15 ہزار سے تجاوز کر گئی۔ بھارت میں کورونا کے نئے متاثرین کی شرح 18.24 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے جگہ ختم ہو گئی، لوگ اپنی مدد آپ کے تحت اپنے پیاروں کے لیے آکسیجن اور ادویات کا انتظام کررہے ہیں۔ دلی میں مسلمانوں نے کورونا ہسپتال بنا لیا جہاں کورونا وائرس کے مریضوں کو سہولیات دی جا رہی ہیں۔ مختلف علاقوں سے سو ٹن سے زائد آکسیجن کے ٹینکر ریل کے ذریعے دلی پہنچائے گئے۔ روس کی جانب سے ڈیڑھ لاکھ ویکسین بھارت پہنچ گئی، جرمنی سے 120 وینٹی لیٹرز کی امداد بھارت کی لیے روانہ کر دی گئی۔ خطرناک صورت حال کے پیش نظر مزید ملکوں نے بھارت پر سفری پابندیاں عائد کر دیں۔جرمن فضائیہ کا ایک طیارہ 120 وینٹیلیٹرز اور طبی شعبے سے تعلق رکھنے والے 13 فوجیوں کو لے کر کورونا وائرس کی وبا سے شدید متاثرہ ملک بھارت پہنچ گیا۔  نئی دہلی پہنچنے والے اس فوجی طیارے میں عموما جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور حکومتی اراکین سفر کرتے ہیں۔ مغربی شہر کولون سے روانہ ہونے والے اس ہوائی جہاز کے ساتھ 13 طبی ماہرین کی جو موبائل آکسیجن ٹیم بھارت پہنچی ہے، وہ آئندہ دو ہفتوں تک بھارت میں موبائل آکسیجن پروڈکشن یونٹوں کی تنصیب میں مدد کرے گی۔ اس کے علاوہ یہ جرمن طبی وفد بھارت میں بین الاقوامی ریڈ کراس کی مدد بھی کرے گا۔ 1.3 بلین کی آبادی والے ملک بھارت کو اس وقت کورونا وائرس کی وبا کی تیسری اور نہایت خطرناک لہر کا سامنا ہے۔ وہاں نئی کورونا انفیکشنز اور کووڈ انیس کے باعث روزانہ ہلاکتوں کی تعداد ریکارڈ حد تک زیادہ ہے۔آسٹریلیا نے بھارت سے اپنے شہریوں کی واپسی پر سخت ترین پابندی عائد کر دی ہے، پہلی بار وطن واپسی کو جرم قرار دے دیا گیا ہے، پابندی کا آغاز (آج) پیر  3 مئی سے ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا نے بھارت میں موجود اپنے شہریوں کی وطن واپسی کو جرم قرار دے دیا ہے، کل سے بھارت  سے وطن واپس آنے والے کئی برس قید اور بھاری جرمانے کا سامنا کریں گے۔ آسٹریلیا نے کہا ہے کہ بھارت میں موجود آسٹریلوی شہری وطن واپس آئے تو 5 سال قید میں کاٹنے پڑیں گے اور 80 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔ اس فیصلے کی وجہ سے آئی پی ایل کھیلنے والے آسٹریلوی کرکٹرز بھی مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔ یہ عارضی ہنگامی فیصلہ جمعہ کے روز رات گئے جاری ہوا، یہ پہلا موقع ہے جب آسٹریلیا نے اپنے شہریوں کی وطن واپسی کو ایک جرم قرار دیا ہے۔ آسٹریلوی وزیر صحت گریگ ہنٹ کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ قرنطینہ میں موجود لوگوں کے تناسب کی بنیاد پر کیا گیا ہے جنھیں بھارت میں کرونا انفیکشن لاحق ہوا تھا اور وہ واپس آئے تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 9 ہزار آسٹریلوی شہری بھارت میں موجود ہیں جن میں سے 600 خطرے سے دوچار ہیں، وزارت صحت کا کہنا تھا کہ نئے فیصلے پر 15 مئی کو نظر ثانی کی جائے گی۔ خیال رہے کہ آسٹریلوی حکومت نے رواں ہفتے کے آغاز پر بھارت سے تمام پروازیں بھی معطل کر دی تھیں۔ بھارت کی ایک عدالت نے کہا ہے کہ وہ عام کورونا متاثرین کی جانیں بچانے کے لیے ضروری ادویات اور طبی امداد فراہم نا کرنے والے حکومتی اہلکاروں کو اب سزائیں سنانا شروع کر دے گی۔ نئی دہلی کی ایک عدالت کی طرف سے یہ بات ایک بھارتی ہسپتال میں آتش زدگی کے واقعے میں ہفتے کے روز کووڈ 19 کے کم از کم اٹھارہ مریضوں کی ہلاکت کے پس منظر میں اتوار کو  کہی گئی جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کی وجہ سے ایک دن میں سب سے زیادہ یعنی 50 افراد کی موت واقع ہوگئی ہے جس سے وبا سے جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 2ہزار 473 ہوگئی۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ہفتے کے روزوائرس سے جموں خطے میں 30،وادی کشمیر میں 17 اور لداخ خطے میں 3 افرادکی موت ہوگئی۔

بھارت کورونا

مزید :

صفحہ اول -