صنعتی ملازمین کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں‘ ابرار اللہ خان

صنعتی ملازمین کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں‘ ابرار اللہ خان

  

تخت بھائی (تحصیل رپورٹر) محنت کش لیبر فیڈریشن کے صدر ابرار اللہ خان نے کہا ہے کہ ملک بھر میں صنعتی ملازمین کمپرسی اور غربت کی لیکر سے نیچے زندگی گزار نے پر مجبور ہیں صنعتی ملازمین کو بے تخاشا مسائل کا سامنا ہے مزدور طبقہ دو وقت روٹی کے لئے ترستے ہیں صنعت کاروں کے ساتھ ساتھ حکومت وقت بھی مزدوروں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسارویہ اپنا رکھے ہیں کارخانوں میں لیبر قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہیں حکومت صنعت کاروں کے سامنے بھیگی بلی بن چکی ہے مزدور طبقہ اپنے جائز اور ائینی حقوق کے لئے دربدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں  انہوں نے حکومت وقت سے کم از کم تنخواہ تیس ہزار روپے ای اوبی ائی پنشن کو کم از کم بیس ہزار روپے اور لیبر کالونیوں کو پنجاب اور سندھ کی طرح مالکانہ حقوق پر دینے کا پرزور مطالبہ کیا اگر حکومت نے ملازمین کے جائز مسائل حل نہ کئے گئے تو عید الفطر کے بعدصوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے یوم مئی کے سلسلے میں لیبر کالونی تخت بھائی میں ایس او پیز کے تحت منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا منعقدہ اجلاس سے جنرل سیکرٹری شیر زادہ خان احسان اللہ خان آسد علی خان رضوان اللہ خان حسین احمد،نعمت شاہ روغانی،لیاقت یوسفزئی محمد علی ڈاگیوال اور محمد اقبال خان نے بھی خطاب کیا اس سے قبل مزدوروں کالونی کے اندر جلوس نکالااور ہاتھوں کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر شگاگو کے مزدوروں کو خراج تحسین اور سرخ سلام کے علاوہ مزدور مزدور بھائی بھائی کے نعرے درج تھے مقررین نے کہا کہ مہنگائی کے اس بدترین دور میں صنعتی ملازمین گو ناگوں مشکلات سے دوچار ہیں کارخانوں اٹھ گھنٹوں کی بجائے 12/12گھنٹے کام لیا جاتا ہے جبکہ کم از کم تنخواہ جو کہ 17500روپے ہیں ان سے بھی ملازمین محروم چلے ارہے ہیں اور زیادہ تر کارخانوں میں دس ہزار سے بھی کم تنخواہ مزدوروں کو دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے ملازمین کے ساتھ سوتیلی ماں جیسارویہ کارخانہ دار کے علاوہ حکومت وقت بھی کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ موجودہ مہنگائی کے تناسب سے کم از کم تنخواہ 30000روپے بڑھاپا پنشن 20000روپے مقرر کیا جائے اور مزدوروں کے خون پسینے سے بننے والے لیبر کالونیوں کو صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ کی طرح صنعتی ملازمین کو مالکانہ حقوق پر الاٹ کی جائے انہوں نے مزید کہا ان فارمل سیکٹر میں کام کرنے والے محنت کشوں کو سوشل سیکورٹی اور ای او بی ائی کارڈ جاری کیا جائے اور مزدوروں کو یونین سازی کا حق دیا جائیے انہوں نے کہا کہ فلپ مورس رحمان کاٹن ملز پاکستان ٹوبیکو شمع گھی نوشہرہ سے برطرف ورکروں کو فی الفور بحال کیا جائے اور ائی ایل او کیکنونشن پر عمل کو یقینی بنایا جائے اگر حکوت نے فوری طور پر برطرف ملازمین لیبر کالونیوں کو مالکانہ حقوق اور پنشن و تنخواہوں میں اضافے کا اعلان نہ کیا گیا تو عید الفطر کے بعد صوبائی اسمبلی کے سامنے خیبر پختونخوا کے ہزاروں ملازمین احتجاجی دھرنا دیں گے جن کی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکومت پر ہوگی 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -