یورپی یونین کا ناموس رسالت ؐ قانون ختم کرنیکا مطالبہ بے بنیاد، لیاقت بلوچ حنیف جالندھری 

یورپی یونین کا ناموس رسالت ؐ قانون ختم کرنیکا مطالبہ بے بنیاد، لیاقت بلوچ ...

  

  ملتان (سٹی رپورٹر)یورپی یونین کی طرف سے ناموس رسالت ؐقانون کے خاتمہ کا مطالبہ بے بنیاد ہے اس سمیت تمام ایسے قوانین و ترامیم جو آئین پاکستان اور نظریہ پاکستان اور دین اسلام کے شعائر کے متصادم ہو اسے ہم مسترد کرتے ہیں لیاقت بلوچ، قاری حنیف جالندھری ملی یکجہتی کونسل جنوبی پنجاب کے زیر اہتمام منعقدہ افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے قاری حنیف جالندھری نے کہا کہ ہم یورپی پارلیمنٹ کے(بقیہ نمبر45صفحہ6پر)

 ممبران کو دعوت دیتے ہیں کہ پاکستان آئیں یہاں آکر دیکھیں اقلیتوں کو آزادی ہے پھر بات کریں پاکستان میں اقلیتوں کی آزادی پر۔ ہم ناموس رسالت ایکٹ کے خاتمہ کے مطالبہ کو مسترد کرتے ہیں۔ایک رکنی اقلیتی کمیشن کی سفارش کو مسترد کرتے ہیں جس میں نصاب کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ایسی تمام تجاویز کہ جس میں یہ کہا جارہا ہے کہ اللہ رب العالمین کے نام اور نبی اقدس ص کی سیرت کو نکالا جائے ایسی تمام تجاویز کو ہم مسترد کرتے ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ حامد سعید کاظمی نے کہا کہ موجودہ حالات ہم سب کے لیے افسوسناک ہیں۔کورونا کی ویکسین بھی لگوائیں احتیاط بھی کریں۔حالات اس وقت خراب ہوتے ہیں جب حالات خراب کئے جاتے ہیں۔پہلے مساجد بند کرنے کا کہا ہم نے ایس او پیز کو فالو کیا لیکن مساجد کو آباد رکھا یہ ہمارا دینی فریضہ ہے اب مسئلہ اعتکاف کا ہے تو ہم دو قدم پیچھے ہٹنے کو تیار ہیں حکومت بھی ایک قدم پیچھے ہٹے۔زیادہ افراد سے مسئلہ ہے کم افراد بٹھ جائیں گے لیکن یہ مشکل ہے کہ اعتکاف کو بلکل بند کردیا جائے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل پاکستان و نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان  لیاقت بلوچ نے کہا کہ امت پارہ پارہ ہے امت کاشیرازہ بکھرا ہوا ہے ان تمام چیزوں کا علاج امت کا اتحاد ہے ہماری عزت ہمارا وقار قرآن و سنت سے جڑنے میں ہے۔یورپی یونین کی قرارداد بین الاقوامی چارٹر کے خلاف ہے اگر یورپ میں ہولو کاسٹ پر پابندی موجود ہے جس پر بات بھی نہیں کی جاسکتی تو کیا مسلمانوں کو اس کا اختیار نہیں ہم اس قرارداد کو مسترد کرتے اور امید رکھتے ہیں عمران خان جو اسلام و فوبیاء کی بات کرتے ہیں اور ناموس رسالت کے سپاہی ہونے کا دعوی کرتے ہیں اس پر اپنا کردار ادا کریں گے حکمرانوں کا کام تقریریں کرنا نہیں بلکہ اس پر قانون سازی کرنا ہوتا ہے اور امید کرتے ہیں کہ حکومت اس پر اپنا کردار ادا کرے گی۔وقف ایکٹ کہ جس کے ذریعے مساجد مدارس پر ضرب لگائی جارہی ہے جسے ہم مسترد کرتے ہیں۔اسی طرح نصاب میں تبدیلی کے لیے جو یک رکنی کمیشن بنایا گیا اس کے پس پشت عناصر ہیں وہ بے نقاب ہونا بھی ضروری ہیں ایک چرچ حملہ سے جب اس کا سلسلہ شروع ہوا آج تک اس حملہ کے پس پشت عناصر کو گرفتار نہیں گیا لیکن نصاب پر مسلسل حملہ کیا جاتا ہے اسے بھی ہم مسترد کرتے ہیں جو آئین پاکستان کے متصادم ہیں۔انہوں نے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ غیر انتخابی و سیاسی ایک اتحاد بنایا جائے جو پاکستان کی نظریاتی شناخت کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ تقریب میں صدر ملی یکجہتی کونسل میاں آصف اخوانی،محمد ایوب مغل،علامہ محمد فاروق خان سعیدی،بشارت قریشی اور دیگر بھی موجود تھے

یورپی یونین

مزید :

ملتان صفحہ آخر -