ڈاکٹرز کا فارما کمپنیوں سے گٹھ جوڑ، مراعات حاصل کرنیکا انکشاف

  ڈاکٹرز کا فارما کمپنیوں سے گٹھ جوڑ، مراعات حاصل کرنیکا انکشاف

  

 ملتان(وقائع نگار)ملتان میں سینئر و جونیئر ڈاکٹروں اور  پروفیسروں کا ادویات ساز  کمپینوں کے نمائندوں کے ساتھ مختلف مراعات حاصل کرنے کیلئے  گٹھ جوڑ کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔میڈیسن کمپنی کی جانب سے ڈاکٹروں کو مہنگی دوائی تجویز کرنے کے نام پر تحائف یا بیرون ممالک کا سیر سپاٹے کرائے جارہے ہیں۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے ملتان میں سینئر و جونیئر ڈاکٹرز یا پروفیسروں جو سرکاری طور پر  نوکری تو کر رہے ہیں۔مگر انہوں نے شام کے اوقات میں (بقیہ نمبر46صفحہ6پر)

 پریکٹس کرنے کیلئے  اپنا نجی کلینکس بنائے ہوئے ہیں۔جہاں روزانہ سینکٹروں کی تعداد میں  مریضوں کو چیک کیا جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق ڈاکٹر مریضوں کو دوائی تجویز کے نام پر نجی فارما سوٹیکل کمپنی سے خصوصی مراعات حاصل کر رہے ہیں۔اس حوالے سے  ماہانہ طے شدہ کمیشن وصول کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔بعض ادویات ساز کمینوں کے نمائندوں نے اپنی مہنگی پروڈکٹس کو فروخت کرنے کیلئے ڈاکٹروں اور انکی فیملیوں کو ملکی و غیر ملکی  سیر سپاٹا کروا رہے ہیں۔بلکہ کچھ کمپنیوں نے تو لاکھوں روپے گاڑیاں بھی لیکر دے رکھی  ہیں۔جبکہ لاکھوں روپے خرچ کرنے والی  میڈیسن کمپنیاں اپنا نقصان پورا کرنے کیلئے انہیں ڈاکٹروں سے مریضوں کو مہنگی سے مہنگی دوائی تجویز کروانے کا کہتے ہیں۔اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ  ڈاکٹر جو دوائی لکھ کر دیتے ہیں۔وہ ہوتی تو  مہنگی ہے۔مگر انکا اثر نا ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ پروفیسر اور ڈاکٹر کمیشن کے لالچ میں انسانیت کو بھول جاتے ہیں۔ذرائع کے مزید مطابق نجی کمپنی کے نمائندے اکثر ڈاکٹروں کو پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں سیر کروانے لیجاتے ہیں۔وہاں وہ بھوربن جیسے مہنگے ترین ہوٹلوں میں ڈاکٹروں کو رہائش دیتے ہیں۔جہاں ڈاکٹر ایک ہفتہ تک ان علاقوں میں رہتے ہیں۔ نجی فارما سوٹیکل کمپنی کے ہوٹل کا کرایہ۔کھانا پینا۔سفری خرچہ برداشت کرتے ہیں ۔مذکورہ صورت حال پر طبی حلقوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔اور نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔جبکہ دوسری جانب ڈاکٹروں۔پروفیسروں نے کہا ہے کہ یہ سب الزام تراشی ہے دوائیوں  کی کمپنی سے  کمیشن طے ہونے کی سب باتیں غلط ہیں۔مریض کی صحت دیکھ کر دوائی تجویز کی جاتی ہے۔

میڈیسن

مزید :

ملتان صفحہ آخر -