ورکرز نظرانداز، وزیراعظم کو مفاد پرستوں نے گھیر لیا،ابراہیم خان

  ورکرز نظرانداز، وزیراعظم کو مفاد پرستوں نے گھیر لیا،ابراہیم خان

  

     ملتان  (انٹرویو: اشفاق احمد، تصاویر شہزاد انور)                            پاکستان تحریک انصاف کے ایم این اے، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے رکن ابراہیم خان نے کہاہے کہ حکومتوں کی پرفارمنس نظریاتی لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے عمران خان کے گرد تو کرائے کے قاتل اکٹھے ہیں جانے کس کس پارٹی میں کیا (بقیہ نمبر23صفحہ6پر)

کچھ گل کھلا چکے ہیں حکومت بنی تو عمران خان کے گرد اکٹھے ہوگئے ہیں جیسے ہی کوئی مشکل پڑی ان میں سے ایک بھی نظر نہیں آئے گا پہلی بار تو عوام نے آپ کی باتوں وعدوں پر اعتبار کر کے ووٹ دے دیا آئندہ ووٹ لینا ہوگا تو کارکردگی دکھاناہوگی جو کے حکومت ان مانگے تانگے کے لوٹوں کے ساتھ دیکھ نہیں سکتی اور اگر عمران خان آ ج اپنے نظریاتی ورکروں کو سامنے لے آئیں جو، ان کی 23  سالہ جد و جہد کے ساتھی تھے تو پھر بھی حکومت عوام میں اپنا امیج بہتر کر سکتی ہے لیکن اس کے لئے اب بہت کم وقت بچا ہے وزیر اعظم کو جو کرنا ہوگاتیزی سے کرنا ہوگا۔ روزنامہ پاکستان کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہاکہ ہماری بد قسمتی یہ بھی ہے کہ ہمیں سادہ اکثریت بھی نہیں ملی اور حکومت بنانے کیلئے مانگے تانگے کے لوگ پکڑنا پڑے حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت ہوتی تو حالات مختلف ہوتے پولیس ریفارمز، جوڈیشل ریفارمز بھی آ تیں اور ادارے بھی مضبوط ہوتے۔انہوں نے مزید کہاکہ عدالتوں سے آنے والے چند فیصلوں نے بھی سب کچھ تباہ کر دیا ہے اب ججوں کے اثاثوں بارے بھی کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوسکتی اب تو زرداری اور نواز شریف جیسوں کو کوئی فالودے والے، کوئی نان بائی ڈھونڈنے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی اپنا پیسہ جیسے مرضی باہر منتقل کر وا لیں۔ جو ڈیشری میں ریفارمز کی ضرورت ہے ججوں کی تعیناتی کو کوئی مربوط طریقہ کار ہونا چاہئے ایسے فیصلے قومی ساکھ کو متاثر  کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین پر کوئی بھی کیس نہیں بنتا اور شوگر میں سبسڈی لینے کا  معاملہ ہے تو یہ کارپوریٹ لا ء  لاگو ہوتا ہے کریمنل لاء کا تو کوئی مقدمہ ہی نہیں بنتا یہ تو صرف 60  کروڑ روپے سبسڈی کا معاملہ ہے سابقہ ادوار میں تو شوگر ملز والے 450  ارب روپے سبسڈی لے چکے ہیں بیوروکریٹ مافیا بیچ میں پڑا ہے سو ل اسٹبلشمنٹ کو پی ٹی آئی کی کامیابی ابھی تک ہضم نہیں ہوئی۔ سندہ، کراچی کے ضمنی الیکشن میں ، ن لیگ اور پیپلز پارٹی والے  دونوں واردا تیئے ہیں سیدھی سیدھی لٹھ ماری ہے۔ کرپشن کا حل صرف یہی ہے کہ بے رحمانیہ احتساب کیاجائے اس کے علاوہ کوئی معاملات بھی ہوجائیں کوئی حل نہیں نکل سکتا اہمیں ملک کو آگے لے جانے کے لئے کرپشن فری بنانا ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تحریک انصاف جنوبی پنجاب صوبہ بنائے گی لیکن یہ سب حکومت کی مدت ختم ہونے سے 6  ماہ قبل ہی کیا جاسکے گے جنوبی پنجاب صوبہ کی تحریک نا لائی جائے ہماری حکومت کے پاس ایسا کوئی آپش ہی نہیں ہے پنجاب کی بیورکریسی بڑی سٹیٹس کو کی حامل ہے انہوں نے کہا کہ ئندہ بجٹ میں جنوبی پنجاب کو 32  فیصد بجٹ ملے گا ابراہیم خان  نے کہاکہ ان کی سیاست کا مقصد ہی عوام کی خدمت ہے وہ کرپشن پر لعنت بھیجتے ہیں اسی نے ملک کی جڑوں کو کمزور کیا ہے۔ 

ابراہیم خان

مزید :

ملتان صفحہ آخر -