عید پر چھوٹے تاجر کاروبار بندکرنے کے متحمل نہیں؛ غلام بلال جاوید 

عید پر چھوٹے تاجر کاروبار بندکرنے کے متحمل نہیں؛ غلام بلال جاوید 

  

 پشاور (سٹی رپورٹر)8سے 16مئی تک ای سی او سی کی کاروبار بند کرنے کی تجوویز مسترد کرتے ہوئے پشاور کی تاجر برادری نے واضح کیا ہے کہ عید کے تہوار پر چھوٹے تاجر کاروبار بند کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے  جبکہ مطالبہ کیا  کہ حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں اس بات کا فیصلہ ٹریدرز الائنس فیڈریشن پشاوراور نیشنل پیس کونسل ٹریڈ ونگ کے پی کے  کا ایک مشترکہ اجلاس جو زیر صدرارت غلام بلال جاوید و زیر نگرانی میجر ارشد محمود منعقد ہوا  میں کیا گیا جسمیں   پشاور کینٹ کے مختلف بازارواں کے صدور عزیز اللہ خان صراف،چودہری شاہد غفور،میمبر کینٹ بورڈ غلام حسین چاند،بخت میر درانی،بابائے تاجران امین حسین بابر،ثنااللہ خان صراف،شیریار خان صراف جہانگیر  خان،عبدالحسیب چغتائی،حاجی احسان،عابد حسین،نومی خان،باسط وقار،احمد اللہ درانی،شکیل خان،منور خورشید حسنین شیراز عابد الدین اور عمار بابر نے شرکت کیاجلاس میں تاجر براداری کا کہنا تھا کہ رمضان غریبوں اور امیروں کے لیے رحمتوں کا مہینہ ہے، چھوٹے تاجر اور دکاندار سال بھر اس بابرکت مہینے کا انتظار کرتے ہیں، معاشی سرگرمیوں میں اضافے سے غریب طبقے کے تاجروں اور دکانوں کے معاشرتی حالات کو براہ راست اثر پڑتا ہے۔منی سائیکل کو سہارا دینے کے لئے معاشی سرگرمیاں پیدا کرنے کے متبادل طریقے متعارف کروانے کے باوجود حکومت باقی آپشن کو ختم کر رہی ہے، لوگوں نے اس موقع پر اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہے جو کم ہوجائے گی اگر این سی او سی اپنے فیصلے پر نظر ثانی نہ کی،بصورت دیگرحکومت کو شدید رد عمل کیلے تیار رہنا چاہئے۔رمضان بازاروں اس انداز میں کھلے کہ میدانوں اور عوامی پارکوں میں عید کے اسٹال لگائے جائیں۔  ضلعی انتظامیہ کو تاجروں کے ساتھ ملی بھگت سے ہنگامی اقدامات کرنے چاہئیں اور خوردہ بازار چوبیس گھنٹے کھلا رہنا چاہئے۔  انتظامیہ کو اس سہولت کے ذریعہ اس مرض کی روک تھام کرنا ہے اور پابندیوں سے نہیں کام کرنا ہے، ہمیں بیماری اور بھوک دونوں سے بچنا ہے۔  ہم کرونا کی وبا سے آگاہ ہیں لیکن ہمیں اپنے غریب لوگوں اور بے گناہ دکانداروں کی بھی تلاش کرنی چاہئے جو اس وقت تباہ کن مشکلات سے گزر رہے ہیں۔  این سی او کو چاہئے کہ وہ قابل عمل حل پیش کرے تاکہ کوئٹہ میں صورتحال پیدا نہ ہو۔  روایتی قوت کے اطلاق کے طریقوں کی بجائے غیر روایتی طریقوں کو اپنانا چاہئے۔  ہمیں امید ہے کہ ریاست ہمارے معاشی مسائل کا ادراک کرتے ہوئے سہولت کی راہ اپنائے گی۔ 

مزید :

صفحہ اول -