ہٹلر کا نام تو آپ نے بہت سنا ہوگا، پہلی مرتبہ اس کی خفیہ زندگی کے بارے شرمناک معلومات سامنے آگئیں

ہٹلر کا نام تو آپ نے بہت سنا ہوگا، پہلی مرتبہ اس کی خفیہ زندگی کے بارے شرمناک ...
ہٹلر کا نام تو آپ نے بہت سنا ہوگا، پہلی مرتبہ اس کی خفیہ زندگی کے بارے شرمناک معلومات سامنے آگئیں

  

برلن(مانیٹرنگ ڈیسک) یورپی ٹی وی چینل ’سکائی ہسٹری‘ پر نازی جرمنی کے مطلق العنان حکمران ایڈولف ہٹلر کی خفیہ جنسی زندگی کے متعلق ایک ڈاکومنٹری نشر کی گئی ہے جس میں ایسے شرمناک انکشافات کیے گئے ہیں سن کر آدمی دنگ رہ جائے۔ ڈیلی سٹار کے مطابق اس ڈاکومنٹری میں بتایا گیا ہے کہ ہٹلر جنسی طاقت کی ادویات کا بے تحاشا استعمال کرتا تھا۔ اسے بہت پسند تھا کہ جنسی تعلق کے دوران خواتین اس کے جسم پر پیشاب کریں اور اسے لاتیں ماریں۔یہ دعویٰ ہٹلر کے سابق اتحادی اوتوستراسر نے کیاہے ، جو بعد ازاں اس سے الگ ہو گیا تھا۔ ڈاکومنٹری میں بتایا گیا ہے کہ ہٹلر فحش فلموں کا بھی بے حد شوقین تھا اور پرتشدد جنسی تعلق کو بھی بہت پسند کرتا تھا۔

ڈاکومنٹری میں بتایا گیا ہے کہ ہٹلر اس قدر جنسی بے راہ روی کا شکارتھا کہ اس نے اپنی بھتیجی جیلی راﺅبیل کے ساتھ بھی تعلق استوار رکھا۔ ہٹلر کا اپنی بھتیجی کے ساتھ تعلق 6سال تک چلا۔ اوتوستراسر کے مطابق جیلی راﺅبیل بھی ان خواتین میں شامل تھی، جنہیں ہٹلر نے جنسی تعلق قائم کرنے اور اس دوران خود پر پیشاب کرنے پر مجبور کیا۔ 1931ءمیں جیلی میونخ میں واقع ہٹلر کے اپارٹمنٹ میں مردہ پائی تھی تھی۔اس وقت جیلی کی عمر 23سال تھی۔ اسے سینے میں گولیاں ماری گئی تھیں۔شبہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ اسے ہٹلر نے ہی قتل کیا تھا۔ مبینہ طور پر خود جیلی نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ ہٹلر اس سے گھناﺅنی حرکات کا تقاضا کرتا ہے۔ 

آسٹریلوی مو¿رخ اور فرانزک ماہر نفسیات پروفیسر رابرٹ کیپلن کا کہنا ہے کہ ”پرتشدد جنسی تعلق کی اصطلاح ہٹلر کی شخصیت پر پوری اترتی ہے اور وہ اس کا بہت دلدادہ تھا۔“ جرمن گلوکارہ و اداکارہ ریناتا موئیلر کے ساتھ بھی ہٹلر کا تعلق رہا۔ ہٹلر کے ساتھ پرتشدد جنسی تعلق قائم کرنے کے سبب ہی ریناتا موئیلر کی موت واقع ہوئی تھی۔ ریناتا نے بھی انکشاف کیا تھا کہ ہٹلر جنسی تعلق کے دوران کہتا ہے کہ میں اسے لاتیں ماروں۔اداکارہ نے مبینہ طور پر فلم ڈائریکٹر ایلفریڈ زیسلر کو بتایا تھا کہ وہ فرش پر لیٹا ہوتا ہے، میں اسے لاتیں مارتی رہتی ہوں اور وہ مزید لاتیں مارنے کی درخواست کرتا رہتا ہے۔“ 

مزید :

بین الاقوامی -