ایبٹ آباد آپریشن کو ایک دہائی مکمل لیکن اسامہ بن لادن کی میت کو امریکیوں نے سمندر برد کیوں کیا؟ ممکنہ وجہ سامنے آگئی

ایبٹ آباد آپریشن کو ایک دہائی مکمل لیکن اسامہ بن لادن کی میت کو امریکیوں نے ...
ایبٹ آباد آپریشن کو ایک دہائی مکمل لیکن اسامہ بن لادن کی میت کو امریکیوں نے سمندر برد کیوں کیا؟ ممکنہ وجہ سامنے آگئی

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) آج سے 10سال قبل 2مئی 2011ءکی رات امریکی کمانڈوز نے ایبٹ آباد میں آپریشن کیا اور شدت پسند تنظیم القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو قتل کرکے اس کی لاش سمندر برد کر دی۔ امریکیوں کی طرف سے اسامہ بن لادن کو دفن کرنے کی بجائے اس کی لاش کو سمندر کے سپرد کیوں کیا گیا؟ ڈیلی پاکستان گلوبل کے مطابق جب اسامہ بن لادن کی لاش کو ٹھکانے لگانے کا معاملہ آیا تو امریکیوں نے اس وقت سیاسی و مذہبی پہلوﺅں کو مدنظر رکھا۔ 

ایبٹ آباد آپریشن کا حکم دینے والے صدر باراک اوباما کو بریفنگ دی گئی تھی کہ اگر اسامہ بن لادن کو زمین پر دفن کیا جاتا ہے تو ان کی قبر ان کے پیروکاروں کے لیے ایک مزار بن جائے گی۔مزار چونکہ برصغیر میں طاقتور علامت کے طور پر دیکھے جاتے ہیں اور لاکھوں لوگ ان پر فاتحہ کے لیے آتے ہیں چنانچہ امریکی اسامہ بن لادن کی قبر کو ان کے پیروکاروں کے لیے ایک علامت نہیں بنانا چاہتے تھے۔یہی وجہ تھی کہ ان کی میت کو سمندر برد کیا گیا۔ اس حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب نے اسامہ بن لادن کی میت لینے سے انکار کر دیا تھا۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق اسامہ بن لادن کی نماز جنازہ ایک امریکی نیوی ایئرکرافٹ کیریئر پر ہوئی، جس میں چند ہی لوگوں نے شرکت کی تھی۔ 

مزید :

بین الاقوامی -