راجہ بھگوان داس اور راجہ مان سنگھ دونوں اکبر کی فوج کے سپہ سالار تھے

راجہ بھگوان داس اور راجہ مان سنگھ دونوں اکبر کی فوج کے سپہ سالار تھے
راجہ بھگوان داس اور راجہ مان سنگھ دونوں اکبر کی فوج کے سپہ سالار تھے

  

مصنف : ای مارسڈن 

 اکبر کے دربار میں اس زمانے کے مشاہیر اور علما کا جمگھٹا لگا رہتا تھا اور انہی کی مدد سے اکبر ہندو اور مسلمان دونوں کے دلوں کو ہاتھ میں لاتا تھا۔ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ راجہ بھگوان داس اور راجہ مان سنگھ والی¿ جے پور دونوں اکبر کی فوج کے سپہ سالار اور صوبہ دار تھے۔ مان سنگھ اول بنگال کا صوبہ دار ہوا، پھر بہار کا، پھر دکن کا اور آخر میں کابل کا۔ اس نے اڑیسہ کو فتح کر کے اکبر کی سلطنت میں شامل کیا۔ اکبر کو اپنے فوجی افسروں میں سب سے زیادہ بھروسا مان سنگھ ہی پر تھا۔ مسلمان افسروں میں اکبر کے سب سے بڑے معتمد دونوں بھائی شیخ ابوالفیض فیضی اور شیخ ابو الفضل تھے۔ فیضی اکبر کے 12 جلوس میں ملازمت شاہی میں داخل ہوا۔ اس کے 6 برس بعد ابو الفضل جو صرف18 برس کا نوجوان (گبرو) تھا۔ حضور شاہ میں پیش ہوا اور فوراً درباریوں کے زمرے میں بھرتی ہوا۔ یہ دونوں بھائی ہزار جان سے اکبر پر عاشق تھے اور اسی کا کلمہ پڑھتے تھے۔ اکبر بھی ان کی بڑی خاطر کرتا تھا اور جان سے عزیز جانتا تھا۔ اس خلوص اور عقیدت پر ابوالفضل بیچارے کی تو جان ہی قربان ہو گئی۔ جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے۔ سلیم اس بات کو نہ دیکھ سکتا تھا کہ میرا باپ غیر پر مجھ سے زیادہ اعتماد کرے۔ جوں جوں دن گزرتے تھے۔ حسد کی آگ اس کے سینے میں اور زیادہ بھڑکتی جاتی تھی۔ آخر کار سلیم نے اسے قتل ہی کرا کے چھوڑا۔

 فیضی بڑا عالم تھا۔ سنسکرت اور فارسی زبانوں کا بڑا ماہر تھا۔ اس نے سنسکرت کی بہت سی کتابیں فارسی میں ترجمہ کر ڈالیں۔ فارسی میں نظم بھی بہت لکھی اور اپنے بھائی کے کام میں بھی بہت مدد دی۔ آدھی رات کا سماں تھا کہ اکبر کو خبر پہنچی کہ فیضی اس جہان سے رخصت ہونے والا ہے۔ اسی وقت جلدی جلدی بیمار خانے میں گیا۔ پلنگ کے پاس دو زانو بیٹھ کر آہستہ سے فیضی کے سر کو اپنے ہاتھوں سے ابھارا اور کہنے لگا کہ ”اے شیخ جی! اے دوست! آپ کے معالجے کے لیے حکیم صاحب کو لایا ہوں۔ آپ بولتے کیوں نہیں؟“ مگر فیضی ہو تو بولے۔ اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر چکی تھی۔ اکبر نے دستار سر سے اتار کر زمین پر پھینک دی اور چیخ چیخ کر رونے لگا۔

 ابو الفضل اکبر کا مدت العمر کا دوست تھا۔ بڑا بھاری عالم تھا، مگر سورما سپاہی اور داﺅ گھات کا پکا جرنیل بھی تھا۔ یہ سب سے اعلیٰ جنگی عہدے پر پہنچا اور وزیراعظم کے مرتبے پر ممتاز ہوا۔ اکبر نامہ جسے عہد اکبری کی تاریخ کہنا چاہیے، اسی کی تصنیف ہے۔ اس کا ایک حصہ آئین اکبری کے نام سے مشہور ہے۔ اس میں نہ صرف آئین و قوانین کا ذکر ہے بلکہ دربار اکبری کا پورا پورا خاکہ کھینچا ہے۔ ممالک مقبوضہ کا مفصل بیان کیا ہے۔ انتظام سلطنت کی تفصیل دی ہے۔ غرضیکہ عہد اکبری کے نہایت دلچسپ اور مفصل حالات اس میں درج ہیں۔ ابوالفضل اپنے ممدوح میں کوئی نقص نہ دیکھتا تھا۔ اس لیے کتاب میں بھی سرورق سے لے کر تمت بالخیر تک بادشاہ کی مدح و سپاس کے زمزمے سنائی دیتے ہیں۔

 راجہ ٹوڈر مل پنجاب کا ہندو تھا۔ اس سے پیشتر زمانہ دراز تک شیر شاہ کی سرکار میں ملازمت کر چکا تھا۔ حساب کتاب کا بڑا پکا تھا۔ بندوبست اراضی اور تحصیل محاصل کے نکات سے دربار کا کوئی ہوا خواہ بھی ایسا واقف نہ تھا جیسا یہ تھا۔ صیغہ¿ مال کا جیسا واقف کار تھا۔ سپہ گری اور سپہ سالاری کے اسرار کا ویسا ہی ماہر تھا۔ کئی دفعہ فوج دے کر لڑائی پر یا کسی صوبے کی صوبہ داری پر بھیجا گیا۔ اسی کی صلاح اور تدبیر کا نتیجہ تھا کہ اکبر نے مال گزاری کے لیے قاعدے جاری کیے۔ کل ملک کی اراضی کی پیمائش ہوئی۔ پیداوار کے لحاظ سے کل زمین 8 قسموں میں بانٹی گئی۔ گھٹیا زمین پر تھوڑے دام لگائے گئے۔ اس سے پیشتر بٹائی کے طریق پر جمع وصول ہوتی تھی۔ یعنی زراعتی پیداوار کاکچھ حصہ سرکار لیتی تھی۔ کچھ کسان کے پاس رہ جاتا تھا۔ ٹوڈر مل نے یہ دستور نکالا کہ بجائے جنس کے کسان مال گزاری کا روپیہ نقد ادا کیا کریں۔ تحصیلداروں اور محصلوں کی تنخواہیں مقرر ہو گئیں۔ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ رعیت فقط سرکاری مال گزاری ادا کر دیتی تھی۔ تحصیلی افسروں، ملازموں اور مذکوریوں کی بھینٹ پوجا سے چھوٹ گئی تھی۔ ہر 10 سال کے بعد نیا بندوبست ہوتا تھا۔ بعض اور محصول جو رعایا پر گراں گزرتے تھے۔ موقوف کر دیئے گئے۔

 کل ملک مقبوضہ 15صوبوں میں بٹا ہوا تھا۔ 12ہندوستان کے اور 3 دکن کے، ان کے نام یہ ہیں۔ کابل، لاہور، ملتان، سرہند، دہلی، آگرہ، الٰہ آباد، اودھ، بہار، بنگال، اجمیر، گجرات، برار، خاندیس، احمد نگر۔ آخر الذکر صوبہ پوری پوری طرح شاہجہاں کے زمانے میں فتح ہوا۔ ہر صوبے میں ایک سپہ سالار ہوتا تھا جو بعد میں صوبہ دار کہلاتا تھا۔ اس کے ماتحت ایک دیوان ہوتا تھا جو صیغہ مال کا ذمہ دار تھا اور ایک فوجدار، ایک کوتوال، ایک میر عدل یعنی منصف، اور ایک قاضی۔

 اکبر کے عہد میں رعایا ایسی خوش حال اور فارغ البال تھی کہ پہلے کبھی ایسی نہ تھی۔ پٹھان بادشاہوں کے عہد کی نسبت اب محصول کا بوجھ بہت کم تھا جو محصول مسلمانوں کو ادا کرنے پڑتے تھے۔ وہی ہندو دیتے تھے۔ پیشتر ہندوﺅں کو جزیہ ادا کرنا پڑتا تھا۔ مسلمانوں کے سوا سب سے یہ محصول لیا جاتا تھا۔ اکبر نے جزیئے کا لینا موقوف کر دیا۔ تیرتھ یاترا جانے والوں سے جو محصول لیا جاتا تھا۔ وہ بھی اس نے چھوڑ دیا۔

 ہر شخص کو اختیار تھا کہ جس مذہب پر چاہے چلے اور جن رسوم کو پسند کرے، ان کا پابند ہو۔ کوئی کسی کا مزاحم نہ تھا۔ کسی کو کسی کا ڈر نہ تھا۔ البتہ ہندوﺅں کے ہاں ستی ہونے کا جو دستور چلا آتا تھا۔ اکبر اس کا سخت مخالف تھا اور جہاں تک ہو سکا اس نے اس رسم کو روکا۔ حقیقت یہ ہے کہ اکبر ایک عجیب طبیعت کا بادشاہ گزرا ہے۔ اس نے آج سے 300 سال پہلے اپنی رعایا کو جو مذہبی آزادی بخشی، ان دنوں یورپ تک میں بھی اس کا نام و نشان نہ تھا مگر آج کل سارے مہذب ملکوں میں اسی کے طریق پر عمل ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بارے میں اکبر کو اپنے زمانے کا لاثانی شہنشاہ سمجھا جاتا ہے۔

 اکبر اور دیگر شاہانِ مغلیہ کے عہد میں عوام کی حالت اور سیاست ملک کا کوئی مستقل معیار نہ تھا۔ اس کا دارومدار بادشاہ کی طبیعت اور خصلت پر تھا۔ بادشاہ مختار کل تھا جو چاہتا سو کرتا تھا۔ اگر بادشاہ مثل اکبر کے نیک تھا تو انتظام سلطنت معقول تھا۔ اگر بادشاہ سخت گیر، بودا یا کاہل تھا تو ملک کی حالت ابتر تھی۔

اکبر مطلق العنان تھا جو چاہتا تھا سو کرتا تھا۔ انگریز سلطنت میں خواہ ہندوستان میں ہو، خواہ انگلستان میں، قانون کی حکومت ہے۔ ہر شخص قانون سے واقف اور قانون کا پابند ہے۔ انگلینڈ کا شہنشاہ ہی کیوں نہ ہو۔ وہ بھی قانون کا اتنا ہی پابند ہے جتنا کوئی بے سروسامان گدا ہوتا ہے۔

 موت کے وقت اکبر کی عمر 63 سال تھی اور مدت سلطنت 51 سال، اس کے بعد اس کا بڑا بیٹا سلیم اس کا جانشین ہوا۔)جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -