اس بار بھی عید پر نہیں آؤں گا

اس بار بھی عید پر نہیں آؤں گا
اس بار بھی عید پر نہیں آؤں گا

  

پاکستان میں لوگ عید بھرپور انداز میں اپنے پیاروں کے ساتھ منانے میں مصروف ہیں لیکن ہر سال کی طرح ملک میں سکیورٹی اور پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں اس سال بھی منسوخ ہو گئیں۔ اس بار بھی یہ اہلکار اہم سیاسی شخصیات کی رہائش گاہوں کے علاوہ شاہراوں اور مسجدوں کے باہر بھی پہرا دیں گے تاکہ شہری امن و چین سے عید منا سکیں۔پاکستانی آج خاص کپڑے پہن کر عید کا تہوار منائیں گے لیکن ہیڈ کانسٹیبل عاطف سہیل اپنی وردی درست کر رہے ہیں، بوٹوں کے تسمے باندھ رہے ہیں۔ ملک بھر میں عید کا جشن ہے لیکن پنجاب پولیس کے لیے خصوصی ڈیوٹی کا دن ہے۔ بیشتر پولیس اہلکار اس سال بھی گھر والوں کے ساتھ عید نہیں منا سکیں گے۔ہیڈ کانسٹیبل عاطف سہیل نے کہا ’جی ہماری عید کی خوشی اسی میں ہے کہ ہمارے ملک کے شہریوں کی عید خیریت سے ہو جائے، ہمارا کیا ہے جب گھر جا سکیں گے عید ہو جائے گی۔کراچی میں حال ہی میں ہونے والے دہشت گردی واقعہ کے بعد پنجاب بالخصوص لاہور میں بھی عید کے دن سکیورٹی چوکس کر دی گئی ہے اور ایک بار پھر پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ ہو چکی ہیں۔ لاہور پولیس محدود تنخواہوں اور وسائل کی واضح کمی کے باوجود فرض نبھانے میں کوشاں ہے،آئی جی پولیس پنجاب راؤسردار علی خان کے مطابق گو کہ حال ہی میں پنجاب پولیس کو جدید ٹیکنالوجی کی تربیت دی گئی ہے تاکہ شہروں کو اور محفوظ بنایا جا سکے اور نئی بھرتیاں بھی ہو رہی ہیں لیکن فیل حال تقریباً ہر دو ہزار شہریوں کے تحفظ کے لیے ایک کانسٹیبل تعینات ہے۔انھوں نے کہا ’لوگوں کے لئے عید خوشی کا دن ہوتا ہے لیکن ہمارے لئے مشکل تیاری کا دن کے صوبے کو ہر ناگہانی واقعے سے محفوظ کیسے رکھنا ہے۔آئی جی پولیس راوسردار علی خان کا کہنا ہے کہ عوام کو تنقید کے ساتھ ساتھ پولیس اہلکاروں کی مجبوریوں اور قربانیوں کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے ’اگر آپ جان کو خطرے کی بات کریں یا گھنٹوں کی ڈیوٹی کی تو پولیس کا محکمہ سب سے آگے ہے، ہمارے بارے میں عوام کواپنی رائے بہتر کرنے کی کوضرورت ہے،کئی واقعات میں پولیس کے ساتھ زیادتی بھی ہوتی ہے۔ملک بھر میں کوروناہو یا دہشت گردی کی لہر جب زور پکڑتی ہے تو اس کی لپیٹ میں اس جنگ کی فرنٹ لائنز پر موجود پولیس اہلکار بھی آتے ہیں۔ پنجاب بھر کی تمام پولیس ہیڈ کوارٹرز کی ایک دیوار پر قطار در قطار پولیس والوں کی1500سے زائد تصاویر لگی ہیں، نیچے نام لکھے ہیں۔ اہلکار گزرتے ہوئے یہاں سیلوٹ کرتے ہیں۔ یہ دیواریں ان 1500سے زائد پولیس والوں کی خاموش گواہ ہیں جنھوں نے گذشتہ چند سالوں میں دہشت گردی کے واقعات کے دوران اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔لاہور ہائی کورٹ کے باہر سنہ 2008 میں خودکش دھماکے میں 20 کے قریب پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ اسی طرح ون فائیو کی عمارت سری لنکن ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے اور پنجاب اسمبلی کے سامنے دہشت گردی کے واقعہ میں اہلکاروں ایس ایس پی اور ڈی آئی جی عہدے کے افسران بھی اپنی جانوں کا نزرانہ پیش کر چکے ہیں عید کی ڈیوٹی پر تعینات پولیس کے جوان یہ جانتے ہیں کہ ڈیوٹی کرتے ہوئے انھیں کسی ناگہانی واقعے کی صورت میں سب سے پہلے نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور شہریوں کے لیے ڈھال بھی بننا ہے۔جہاں پولیس کے ادارے کو تنقید اور منفی رائے عامہ کا جواب اکثر دینا پڑتا ہے وہاں ادارے کی مشکلات کی عکاسی، عید کے دن تپتی دھوپ میں ناکے پر کھڑے تنہا پولیس والے سے بہترشاید کوئی نہیں کر سکتا، ایک ایسے ہی ناکے پر کانسٹیبل عاطف سہیل تعینات ہیں۔ سڑکیں خالی ہیں، دھوپ بہت تیز ہے۔ ایک پرانے سے موبائل فون سے وہ گوجرانوالہ میں اپنی اہلیہ سے بات کر رہے

 ہیں ’ہاں اس بار بھی عید پر نہیں آ رہا، تم نے بچوں کو عید کے کپڑے دلوا دئیے ہیں نہ؟ اچھا پھر ملیں گے، عید مبارک۔آج پہلے والی پولیس نہیں ہے اس میں خوف خدا بھی ہے اور لوگوں کی خد مت کر نے کا جذبہ بھی شامل ہے۔ مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ عید کے پرمسرت موقع پر جب نماز کے ختم ہونے کے بعد لوگ اپنے دوستوں پیاروں سے گلے مل رہے ہوتے ہیں اور مبارکبادیں پیش کر رہے ہوتے ہیں تو عیدگاہ کی حفاظت پر معمور ”پولیس جوان“ کو یکسر نظرانداز کرتے اسے گلے لگانا تو دور کی بات اس سے سلام کرنا بھی گوارہ نہیں سمجھتے۔ جس کی وجہ سے اسکے دل میں معاشرے کے خلاف نفرت مزید بڑھ جاتی ہے اور پھر معاشرے اور پولیس کے درمیان حائل نفرتوں کی خلیج مزید وسیع ہو جاتی ہے۔ درخواست ہے کہ کہ اگر ہم ان نفرتوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان پولیس والوں کو بھی اپنے ہی جیسا انسان سمجھنا ہو گا جو ہماری حفاظت پر معمور بیس‘ بیس گھنٹے اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں اور بالخصوص عید کے تہواروں پرکہ جب اپنے ماں‘ باپ‘ بیوی بچوں اور بہن بھائیوں سے دور اپنی فیملی کو چھوڑ کے اور اپنی جان داؤ پر لگا کے ہماری حفاظت کر رہے ہوتے ہیں ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم انہیں بھی اپنی فیملی کا ممبر سمجھتے ہوئے گلے لگائیں اور سیلوٹ پیش کرتے ہوئے اپنی خوشیوں میں شامل کریں۔مجھے امید ہے کہ ہم ایک اچھا شہری ہونے کا ثبوت پیش کرتے ہوئے معاشرے میں ان نفرتوں کو ختم کر نے کے لئے بھرپور کردار ادا کریں گے اور پولیس والوں کو بھی انسان سمجھتے اپنی خوشیوں میں شریک کریں گے۔ 

مزید :

رائے -کالم -