خان صاحب کیا آپ جانتے ہیں! 

 خان صاحب کیا آپ جانتے ہیں! 
 خان صاحب کیا آپ جانتے ہیں! 

  

 ان کی آواز قدرتی طور پر گرج دار اور باقی لوگوں سے اونچی تھی، اس کے ساتھ ساتھ بڑے فصیح و بلیغ بھی تھے، لہذا اس دور میں وہاں کے میلوں میں ہونے والے مقابلے میں اپنا لوہا منواتے تھے، اپنی فصاحت و بلاغت اور آواز کی بلندی پر نازاں یہ انسان ایک دن اسی آواز کو مصیبت سمجھتے ہوئے گوشہ نشیں ہو گیا، وجہ یہ بنی اللہ کی بارگاہ سے حکم آ گیا کہ نبی کریم ﷺ کی آواز مبارک سے اپنی آواز پست رکھنی ہے ورنہ اعمال ضائع ہو جائیں گے اور تمہیں شعور بھی نہیں ہو گا، انہوں نے یہ سنا تو سمجھے کہ میری آواز بلند، بلند آواز یعنی اعمال غارت،اعمال غارت یعنی میں جہنمی، لہذا گھر بیٹھ گئے، جب کئی دن مسجد نبوی میں نہ آنا ہوا تو آقا کریم ؐنے خود بلایا اور بشارت دی کہ آپ جہنمی نہیں بلکہ جنتی ہیں۔

اچھاادب کی بات چلی ہے تویہ بھی سن لیں،غزوہ خیبر کی بات ہے، حضرت بشیر بن معرور نبی کریم ﷺکے سامنے بیٹھے تھے، دسترخوان بچھا تھا، گوشت موجود تھا جس میں یہودی عورت نے زہر ملا دیا تھا، بشیر بن معرور نے کھایا اور لقمہ نگل لیا، نبی کریم ﷺ نے لقمہ اٹھایا تو زہر کو بھانپ لیا، پوچھا: بشیر کیا تمہیں زہر کا معلوم نہیں ہوا؟جواب دیا: حضور مجھے پتہ چل گیا تھا،پوچھا: پھر بھی نگل لیا؟ عرض کیا: حضور! میں نے گوارہ نہ کیا کہ آپ کے سامنے دسترخوان پر لقمہ اگل دوں،یہ ہے ادب مصطفیؐ کہ جان دے دی لیکن جائز عمل بھی حضور کے سامنے نہ دہرایا کہ بظاہر کراہت آمیز تھا۔

خان صاحب!اگرچہ آپ پوری دنیا کو سب سے زیادہ جانتے ہیں لیکن پھر بھی پوچھتا ہوں کہ کیا آپ واقعی جانتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ کے مکان کو بلوائیوں نے گھیر رکھا تھا، صحابہ کرامؓ ان سے اجازت مانگ رہے تھے کہ حکم دیں تا کہ ان فسادیوں کا خاتمہ کر سکیں لیکن انہوں نے جواب دیا کہ میں نہیں چاہتا کہ محض میری وجہ سے مدینہ منورہ کی زمین خون آلود ہو جائے، حضرت علیؓ نے ریاست مدینہ کا پایہ تخت کوفہ منتقل کر دیا، حالات ایسے تھے کہ مدینہ منورہ میں خون ریزی یقینی تھی، حضرت امام حسینؓ نے بھی جب دیکھا کہ دشمن مدینہ شریف میں ان کا خون بہانا چاہتے ہیں تو وہاں سے کربلا چلے گئے لیکن بارگاہ نبوی کی حرمت کو پامال نہ ہونے دیا، حرم پاک کو حرم پاک کہتے ہی اس وجہ سے ہیں کہ وہاں بہت سے جائز اور حلال امور بھی حرام کر دیے جاتے ہیں جیسا کہ شکار کرنا وغیرہ، اگر قاتل بھی وہاں پناہ لے لے تو اسے حرم کے اندر سے گرفتار نہیں کیا جا سکتا، حرم پاک کے تقدس کی ایک دلیل ایسی بھی ہے جسے آج تک پورا عالم کفر چیلنج نہیں کر سکا اور وہ یہ کہ اگر آج بھی حرم پاک میں کئی دنوں کے بھوکے شیر کو بکری کے ساتھ چھوڑ دیا جائے تو وہ اسے شکار نہیں کرے گا، باؤلا کتا تک حرم پاک میں کسی کو نہیں کاٹتا تو خان صاحب سوال یہ ہے کہ جس حرم پاک کی تقدیس جانور تک سمجھتے ہوں اسے آپ کے ماننے والے کیوں نہ سمجھے؟

خان صاحب! میں نے مانا کہ آپ وہاں موجود نہیں تھے لیکن کیا کچھ سوال کے جواب دے  سکتے ہیں؟ جب آپ اپنے ماننے والوں کو بل جلانے، ٹیکس چرانے، سول نافرمانی، جلاؤگھراؤ وغیرہ کی تعلیم دے سکتے ہیں تو انہیں بارگاہ نبوی کا ادب کیوں نہیں سکھا سکتے؟ وہاں دلخراش واقعہ ہوا، پوری دنیا کو علم ہو گیا، ہر طرف آہ و زاری شروع ہو گئی لیکن آپ کو معلوم نہ ہوا؟ جب ہر مسلمان سراپا احتجاج تھا عین اس وقت آپ شب برأت کی محفل سجائے بیٹھے تھے، اگر اس محفل میں نعت تلاوت اور دعا منگوانے کے ساتھ ساتھ اس واقعہ کی مذمت کا وقت بھی نکال لیا جاتا تو کیا برا تھا؟اتنا وقت گزر گیا، یوم القدس بارے اسرائیل کے خلاف آپ کا ٹویٹ بھی آ گیا لیکن اس واقعہ کی مذمت نہ آئی، وقت گزرتا گیا لیکن آپ خاموش رہے یہاں تک کہ ایک انٹرویو میں اینکر نے زبردستی آپ سے سوال کیا تو آپ نے جیسا جواب دیاکیااس قدر سنگین واقعے پر آپ جیسے لیڈر کو ایسا ہی بیان زیب دیتا تھا جیسا آپ نے دیا؟کیا آپ بارگاہ نبوی میں بے ادبی کرنے والوں سے عدم تعلق  کا اعلان کر سکتے ہیں؟آپ ایسا کر بھی کیسے سکتے ہیں جبکہ پوری دنیا جانتی ہے کہ صاحبزادہ جہانگیر، انیل مسرت اور رانا عبدالستار سے آپ کے گاڑھے تعلقات ہیں؟چلو مان لیا اور حقیقت بھی یہی ہے کہ تعلقات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ شریک جرم تھے لیکن سوال پھر بھی یہی ہے کہ آپ نے رانا عبدالستار کو تحریک انصاف برطانیہ کی صدارت سے ابھی تک معزول کیوں نہیں کیا؟ان حضرات کو واقعہ کی سنگینی کا احساس ہوا تو فوراً برطانیہ پلٹے اور ایک پارٹی منعقد کر ڈالی تو خان صاحب! کیا آپ نے ان تینوں حضرات سے پوچھا ہے کہ بھائی لوگو! تم پر اتنے سنگین جرم کا مدعا ڈالا جا رہا ہے تو تم لوگ سعودی عرب سے برطانیہ آ کر ڈانس کس بات کی خوشی میں کر رہے ہو؟

ایک خاتون ہیں فرح خان، آپ کی اہلیہ کی دوست بھی ہیں، جونہی ان کے خلاف مقدمہ درج ہوا آپ نے فوراً اس کے حق میں ایک عدد پریس کانفرنس کھڑکا دی جبکہ وہ خود اور اس کا خاوند جواب دینے کے لیے زندہ ہیں تو سوال یہ ہے کہ اگر فرح خان کے حق اور حکومت کے خلاف آپ بنفس نفیس پریس کانفرنس کر سکتے ہیں تو مسجد نبوی میں غل غپاڑا کرنے والوں کی مذمت اور حرم نبوی کی تقدیس کے حق میں ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟

مزید :

رائے -کالم -