پاکستانی نوبیل انعام یافتگان

   پاکستانی نوبیل انعام یافتگان
   پاکستانی نوبیل انعام یافتگان

  

غربت میں کمی کے لئے کام کرنے والے سماجی وفلاحی تنظیم اخوت کے سربراہ ڈاکٹرامجدثاقب کانام عالمی نوبل انعام کے امیدواران کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔یہ بلا شبہ ایک اعزازکی بات ہے۔ہماری خواہش اوردعاہے کہ ڈاکٹرصاحب یہ انعام جیتیں۔گزشتہ بیس برس میں اخوت نے پچپن لاکھ لوگوں کوبلاسودقرضے دیے ہیں۔ان کی مالیت ڈیڑھ سو ارب روپے سے زیادہ ہے۔ڈاکٹر امجد ثاقب کواگرنوبل انعام ملتاہے تووہ چوتھے پاکستانی ہوں گے جن کو یہ اعزازنصیب ہوگا۔اس موقع پر مجھے ایک واقعہ یادآرہا ہے۔میرے دوست نے توجہ دلاتے ہوئے مجھ سے کہاوہ شخص جو نیکر پہنے ہو ئے اپنی گا ڑی دھو ر ہا ہے، دو سا ل پہلے تو یا ما یو نیو رسٹی کے اس پرو فیسر کو بیا لو جی کے شعبے میں عا لمی نو بیل انعا م سے نوازا گیا ہے۔ میں نے اس دن سے پہلے کبھی کسی نو بیل انعا م یا فتہ شخصیت کو روبرو نہیں دیکھا تھا، اسی لیے اپنے دوست کی با ت سن کر ٹھٹک گیا۔ اس آدمی کو اپنی 660 سی سی سو زوکی کا رکو، ایک ہا تھ میں بہتے پا نی کا ربڑ والا پا ئپ اور دوسرے ہا تھ میں شیمپو میں ڈو با ہوا اسفنج پکڑے، دھوتے ہو ئے میں کا فی دیر تک دیکھتا رہا۔ محلے کے دوسرے عمو می گھر و ں کی طرح بیا لو جی کے اس پروفیسر کا گھر بھی پا نچ مرلہ رقبے پر مشتمل ہو گا، جس کے گیرا ج کے سا منے وہ اپنی سواری کو اگلے ہفتے کے لیے تیا ر کر رہا تھا۔  با لکل اسی طرح جیسے اتوار کے دن با قی اہا لیا ن شہر گھر کے کا مو ں اور صفا ئی ستھرا ئی میں جت جا تے ہیں، پروفیسر بھی اپنے کا م نمٹا رہا تھا۔ کھچڑی با لو ں والے ادھیڑ عمرکے اس سا ئنسدان اور اس کی زندگی میں مجھے تو کو ئی غیر معمو لی با ت نظر نہیں آئی۔سچی بات تو یہ ہے کہ وہ مجھے اپنے محلے میں زیا دہ مقبو ل بھی نہیں لگا، کیو نکہ اہل محلہ آتے جا تے ہوئے اس سے سلا م،دعا بھی کو ئی زیا دہ نہیں لے رہے تھے۔ ندی کنا رے وا قع مذکورہ سائنسدان کے اس محلے میرا اتوار کے دن اکثرگزر ہو تا ہے۔ اس ندی کے شفا ف پا نی میں رنگ بر نگی مچھلیا ں صا ف دکھا ئی دیتی ہیں، دونوں کنا ر وں پر درختوں کی قطا ریں ہیں جن پر کبو تر، کو ئے چڑیا ں اپنی اپنی بو لی بو لتے ہیں۔میری عا دت ہے کہ چھٹی کے دن ان مچھلیوں اور پرندوں کو ڈبل رو ٹی کے ٹکڑے ڈالتا ہو ں، خو راک کے حصو ل کے لیے جب یہ سب لپکتے ہیں تو بہت بھلے لگتے ہیں۔ کبو تر خا ص طور پر جلدی فرینک ہو جاتے ہیں اور ہاتھوں سے ڈبل رو ٹی چھیننے کی بھی کو شش کر تے ہیں۔ اب اس ندی کنا رے محلے میں جب بھی جا تا ہوں تو متذکرہ پروفیسر سائنسدان کے گھر کی طر ف اچٹتی ہو ئی اک نگا ہ غیر ارادی طور پر ڈال لیتا ہو ں۔ میرا اب تک کا مشا ہدہ یہی ہے کہ وہ عا م شہر یو ں کی طرح ایک عامی زندگی گزار رہا ہے۔ گو کہ اس نے بیا لو جی کے شعبے میں غیر معمولی کام سر انجا م دیا ہے، مگر اس بات کا احسا س تو اس کی یو نیو ر سٹی اور لیبارٹری سے متعلق احباب کو ہی ہو گا، اپنی گلی، محلے میں تووہ ایک معمو ل کی زندگی بسر کر رہا ہے۔ پا کستا ن سے تعلق رکھنے والے تین افراد کو اب تک عا لمی نو بیل انعام دیا گیا ہے۔ پہلا نو بیل انعام میرے آبا ئی ضلع کی تحصیل کبیر والہ کے ایک گا ؤ ں رائے پور میں پیدا ہو نے والے ہرگوبند کھرانہ اور دوسرا ڈاکٹر عبدالسلام نے با لترتیب بیالو جی اور فزکس کے شعبے میں اپنی خدما ت کی بدولت یہ انعام پا یا، جبکہ تیسرا نو بیل انعام سوات کی طا لبہ ملا لہ یو سفزئی کو امن کے شعبے میں دیا گیا ہے، یہ ایک المیہ ہے کہ مختلف دہا ئیوں میں انعام پا نے والے، ان تینوں افراد کو جب نوبیل پرا ئز سے نوازا گیا تو یہ پاکستان چھو ڑ کر بیرون ملک جا چکے تھے۔ دونو ں سائنسدان تو یہ دنیا بھی چھو ڑ چکے ہیں جبکہ ملا لہ یو سف زئی نے گزشتہ دنو ں بر طا نو ی شہر یت حا صل کر لی ہے، چند سا ل قبل طا لبا ن کی طرف سے کیے گئے قا تلا نہ حملہ میں معجزانہ طور پر بچ جا نے کے بعد وہ برطانیہ میں رہا ئش اختیا ر کیے ہو ئے ہے۔ سو چتا ہو ں کہ عالمی شہر ت کے حا مل یہ نو بیل انعام یافتگان پا کستانی اگر ملک چھو ڑ کر نہ جا تے تو پا کستان کو ان با صلا حیت افراد سے بہت فا ئدہ پہنچتا۔ میں کسی مذہبی و سیا سی بحث کو ہوا دینا نہیں چا ہتا۔بس ایک سا دہ سی خوا ہش کا اظہا ر کرنا چا ہتا ہو ں، کہ جب چو تھے اور پا نچویں پا کستا نی کو نو بیل انعام سے نوازا جا ئے تو اسے ترک وطن نہ کر نا پڑے۔ ہما رے معا شرے میں اتنی برداشت پیدا ہو جا ئے کہ رنگ،نسل، مذہب مسلک، اور لسا نی اختلا ف کے با وجو د لوگ پر امن طریقے سے اکٹھے رہنا سیکھ لیں۔ پاک سرزمین کی مٹی سے جس شخص کا بھی خمیر اٹھا ہے، میرے نزدیک ریا ست پا کستان پر اس کا میرے برا بر حق ہے، اور یہ حق اس سے کو ئی بھی نہیں چھین سکتا۔ چا ہے اس شخص کا خا ندانی پس منظر اور نظر یا ت کچھ بھی ہو ں۔ 

جا پا ن کے دو ر افتادہ سا حلی شہر کی ندی کنا رے واقع محلے میں جب کبھی میں نو بیل انعام یا فتہ مذکو رہ سا ئنسدان پروفیسر کو دیکھتا ہو ں، تو دل میں یہ خوا ہش پیدا ہو تی ہے کہ کا ش پاکستا ن کے گلی کو چو ں میں بھی ایسے اعلیٰ دما غ پر سکو ن اور نا رمل زندگی گزار سکیں۔ اپنی عظمت کے خراج کے طور پر انہیں اپنی دھر تی نہ چھو ڑ نی پڑے۔ 

ایسے تو کو ئی ترک سکو نت نہیں کرتا

ہجر ت وہی کر تا ہے جو بیعت نہیں کرتا 

دوسری جنگ عظیم میں جس چیز نے امریکہ کو اپنے اتحا دیو ں اور حریفوں پر فیصلہ کن برتری دلا ئی وہ ایٹم بم تھا۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ جس آئین سٹا ئین نے ایٹم بم ایجا د کیا وہ خو د جرمن یہو دی تھا، جر منی میں ہی پلابڑھا، اور تا دم مرگ اپنا تما م تحقیقی کام جرمن زبا ن میں ہی کر تا تھا، ہٹلر کی تنگ نظری نے دیگر یہو دیوں کی طرح اسے بھی ترک وطن پر مجبو ر کر دیا تھا۔ میرا خواب ہے کہ آئندہ جس پا کستا نی کو نو بل پرا ئز ملے وہ ترک سکو نت کی بجا ئے کسی تعلیمی ادارے میں نو جوان طلبا ء کو اپنا علم منتقل کر ے۔ دانش و حکمت کو پھیلا ئے۔ اس طرح چراغ سے چرا غ جلتا رہے اور پا کستان  میں روشنیو ں کا ایک نہ ختم ہو نے والا سلسلہ قا ئم ہو جائے۔ 

مزید :

رائے -کالم -