ہلالِ عید پر اختلاف

  ہلالِ عید پر اختلاف

  

تمام تر دعوؤں اور کوششوں کے باوجود ملک میں متفقہ طور پر عید منانے کا اعلان بھی نہیں ہو سکا۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے ضلع ژوب میں کل عید منائی گئی، آج باقی تینوں صوبوں میں عیدالفطر منائی جا رہی ہے۔ یہ بڑی افسوسناک صورت حال ہے کہ ہم جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی کوئی ایسا میکانزم نہیں بنا سکے  جس کے ذریعے پورے ملک میں ایک عید کو یقینی بنا سکیں۔ ملک میں ایک رویت ہلال کمیٹی قائم ہے جس کے زیر نگرانی چاروں صوبوں میں زونل کمیٹیاں کام کرتی ہیں۔ ان زونل کمیٹیوں کے نیچے ڈویژنل اور ضلعی سطح پر کمیٹیاں بھی اپنے اجلاس منعقد کرتی ہیں۔ یوں نچلی سطح سے مرکزی سطح تک چاند کی شہادتیں موصول ہونے کا ایک نظام موجود ہے  مگر اس کے باوجود اتفاق رائے پیدا نہیں ہوتا۔ اس سارے عمل میں محکمہ موسمیات کی خدمات بھی حاصل ہوتی ہیں اور وہ چاند کی پیدائش کے حوالے سے سائنسی بنیادوں پر اپنی معاونت پیش کرتا ہے۔ بظاہر یہ سارا عمل کافی موثر اور فول پروف نظر آتا ہے اور اس کی بنیاد پر چاند کی شہادت حاصل کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آنی چاہئے، مگر اس کے باوجود دیکھا یہی گیا ہے کہ خصوصاً شوال کا چاند دیکھنے کے بارے میں ایک ابہام، دو عملی اور تضاد پایا جاتا ہے۔ اس بار یہ تضاد کچھ زیادہ ہی ابھر کر سامنے آیا ہے۔ ماضی میں یہ ہوتا رہا کہ پورے ملک میں عید ایک دن منائی جاتی اور پشاور میں مسجد قاسم والے مولانا پوپلزئی اپنی شہادت کی بنیاد پر عید ایک دن پہلے منانے کا اعلان کر دیتے اس بار نئی حکومت کے وفاقی وزیر مذہبی امور نے جن کا تعلق جے یو آئی ف سے ہے یہ اعلان کیا تھا کہ ایک عید منانے کے لئے پوری کوشش کی جائے گی، لیکن ہوا یہ کہ وہ خود مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے سے اختلاف کرتے پائے گئے۔ ان کا کہنا تھا ملنے والی شہادتوں کا انتظار نہیں کیا گیا اور چاند نظر نہ آنے کا اعلان کر دیا گیا۔ اس مرتبہ خیبرپختونخوا میں عید باقاعدہ سرکاری سطح پر ایک دن پہلے منائی گئی اور ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ 

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے میڈیا کو بتایا کہ خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں سے چاند دیکھنے کی 130 شہادتیں موصول ہوئی ہیں جن کی بنیاد پر خیبرپختونخوا میں سوموار کو عید منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گر اتنی بڑی تعداد میں چاند دیکھنے کی شہادتیں موصول ہوئی تھیں تو زونل رویت ہلال کمیٹی کو ان کی اطلاع کیوں نہیں دی گئی۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ شہادتیں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے بعد ملیں۔  خیبرپختونخوا کی زونل رویت ہلال کمیٹی نے خیبرپختونخوا کی حکومت سے رابطہ کیوں نہ رکھا اور مرکزی کمیٹی کو کیوں قائل نہ کر سکی۔ دوسری طرف اگر گورنر خیبرپختونخوا یا وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو چاند نظر آنے کی شہادتیں موصول ہو رہی تھیں تو انہوں نے زونل رویت ہلال کمیٹی یا اسلام آباد میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی سے رابطہ کیوں نہیں کیا۔ یہ 130 شہادتیں بیک وقت تو موصول نہیں ہوئی ہوں گی۔ جب یہ شہادتیں مل رہی تھیں تو انہیں زونل کمیٹی کے علم میں لایا جانا ضروری تھی۔ اسی طرح کا معاملہ بلوچستان کے ضلع ژوب کا ہے۔ روایت تو یہی ہے کہ چاند ملک کے کسی بھی حصے میں نظر آ جائے پورے ملک میں عید منائی جاتی ہے۔ ژوب سے ملنے والی شہادت کو بلوچستان کی زونل کمیٹی کے علم میں کیوں نہیں لایا گیا۔ اگر علم میں لایا گیا تو ان شہادتوں کو رد کرنے کے لئے کیا طریقہ کار اختیار کیا گیا۔ خیبرپختونخوا میں تو اس بار یہ بھی ہوا کہ ایک طرف وزیر اعلیٰ محمود خان نے چاند نظر آنے کی شہادت ملنے پر سرکاری طور پر عید منانے کا اعلان کیا تو قائم مقام گورنر مشتاق غنی نے کہا  ہزارہ ڈویژن میں چاند نظر آنے کی شہادت نہیں ملی، اس لئے ہزارہ ڈویژن میں عید مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اعلامیئے کی پیروی کرتے ہوئے منگل کو منائی جائے گی۔ اس کی تائید ہزارہ ڈویژن کے علماء نے بھی کی اور جمعیت العلمائے اسلام کے رہنما مفتی کفایت اللہ نے منگل 3 مئی کو عید منانے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر مذہبی امور مفتی عبدالشکور نے کہا میری کوشش تھی اس بار عید ایک ہو مگر رویت ہلال کمیٹی ایک خودمختار ادارہ ہے ہم اس کے کام میں مداخلت نہیں کر سکتے تاہم یہ درخواست ضرور کر سکتے ہیں کہ ملنے والی شہادتوں کو بلا تصدیق نظر انداز نہ کیا جائے۔ بعد ازاں خیبرپختونخوا کی زونل رویت ہلال کمیٹی نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اس کے پاس چاند دیکھنے کی بہت سی شہادتیں آئی تھیں لیکن اس وقت تک مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس ختم ہو چکا تھا۔  عید ایک ایسا تہوار ہے جو ہماری یکجہتی، اتحاد، مذہبی یگانگت اور ملی تشخص کو اجاگر کرتا ہے پورے ملک میں ایک ساتھ عید الفطر کے اجتماعات ایک روح پرور نظارہ ہوتے ہیں۔ شوال کا چاند دیکھنے کا معاملہ مذہبی حوالے سے بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ 29 رمضان کو چاند نظر نہ آئے تو 30 رمضان کو روزہ ہوتا ہے جو مسلمانوں کے لئے ایک بہت بڑی رحمت و نعمت ہے۔ اگر بغیر شہادتوں کے چاند کا اعلان کر دیا جائے تو ایک روزہ ضائع ہو سکتا ہے جسے بلا وجہ کوئی مسلمان بھی نہیں چھوڑنا چاہتا۔ اس لئے شوال کا چاند دیکھنے کے لئے ہر درجہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے مگر دیکھا یہی گیا ہے کہ اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا نہیں ہوتا اور دو عیدیں منانے کی روایت برقرار رہتی ہے۔ بہر حال جنہوں نے عید منا لی ہے انہیں بھی عید مبارک اور جو آج منا رہے ہیں انہیں بھی ہم دلی عید مبارک پیش کرتے ہیں، عید الفطر روزہ داروں کے لئے اللہ تعالیٰ کا ایک انعام ہے۔ اس ریاضت اور صبر کا صلہ ہے جو انہوں نے ماہ رمضان المبارک میں اللہ کی خوشنودی کے لئے جاری رکھی۔ عید کے دن ان لوگوں کو ضرور یاد رکھیئے جو وسائل نہ ہونے کی وجہ سے عید کی خوشیوں سے محروم رہتے ہیں۔ بروقت زکوۃ و فطرانہ ادا کر کے ان کی محرومیوں کا ازالہ کیا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس عید سعید کی برکتوں سے ہمارے ملک کو امن، خوشحالی، اخوت اور ملی یگانگت سے نوازے۔ روز نامہ پاکستان کی طرف سے تمام اہل وطن کو عید الفطر کی بہت بہت مبارکباد!

مزید :

رائے -اداریہ -