سیاست میں گالم گلوچ اور تشدد کے کلچر کو ختم کرنا ہوگا: سراج الحق 

سیاست میں گالم گلوچ اور تشدد کے کلچر کو ختم کرنا ہوگا: سراج الحق 

  

 

لاہور(نمائندہ خصوصی) انتخابی کمیشن جماعت اسلامی پاکستان کے صدر اسد اللہ بھٹو مرکزی نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان نے مرکزی مجلسِ شوریٰ جماعت اسلامی کے ملک بھر سے مردانہ 70  اور خواتین10 منتخب ارکان برائے سیشن 2022ء تا 2025ء کا اعلان کر دیا ہے۔ مرکزی مجلس شوریٰ جماعت اسلامی کی کل80نشستوں کے لئے خفیہ بیلٹ پیپرز کے ذریعہ ہر تین سال کے بعد باقاعدہ انتخابات ہوتے ہیں۔ انتخابی کمیشن جماعت اسلامی پاکستان کا ایک دستوری منتخب ادارہ ہے جو ایک صدر اور چار اراکین پر مشتمل ہے۔مرکزی مجلسِ شوریٰ جماعت اسلامی کے حالیہ انتخابات کا آغاز یکم فروری2022ء کو ہوا، ملک بھر میں علاقائی ناظمین / نائب ناظمین انتخاب(مرد) اور علاقائی معاونین/ نائب معاونین انتخاب (خواتین) کے تقرر کے ساتھ ایک تفصیلی انتخابی شیڈول جاری کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں عبوری اور بعد میں حتمی حلقہ بندیاں تشکیل دی گئیں۔ اگلے مرحلے میں انتخابی میٹریل کی طباعت کروا کر ترسیل وتقسیم کا کام مکمل ہوا۔ آخری مرحلے میں واپس موصول ہونے والے بیلٹ پیپرز کے بند لفافوں کو کھول کرمرکز منصورہ میں گنتی کا عمل مکمل کیا گیاہے۔مرکزی مجلسِ شوریٰ جماعت اسلامی کی کل 80نشستوں پر منتخب ہونے والے 70مرد اور 10خواتین ارکانِ شوریٰ کے صوبہ وار ناموں کی تفصیلات اس طرح ہیں:صوبہ خیبرپختونخوا سے عتیق الرحمن، صابر حسین اعوان، مصباح اللہ،آصف لقمان قاضی، ڈاکٹر عطاء الرحمن، غلام رسول، اعزازالملک افکاری، مولانا اسداللہ، ارشد زمان، عنایت اللہ خان، صاحبزادہ طارق اللہ، حاجی مغفرت شاہ، عبدالحلیم باچا، حمید الحق، ڈاکٹر فضل سبحان، عبدالرزاق عباسی، ساجد قریش، ڈاکٹر طارق شیرازی، حافظ طالع محمد، عزیز اللہ، ظہور خٹک، صاحبزادہ ہارون الرشید،شاہ فیصل آفریدی، عائشہ سید۔ صوبہ شمالی پنجاب سے نصراللہ رندھاوا، زبیر صفدر، ڈاکٹر عارف شیرازی، وقاص خان، راجہ محمد جواد، اویس قاسم تلہ، ملک فضل الٰہی، سید ضیاء  اللہ شاہ، انصر محمود دھول، رانا محمد اعظم نمبردار، محمد اقبال خان، مولانا عبدالستار، حافظ فدا الرحمن، ڈاکٹر رخسانہ جبیں۔صوبہ وسطی پنجاب سے پروفیسر محبوب الزمان بٹ، سردار ظفر حسین خان، محمدعظیم رندھاوا، مہر بہادر خان، مظہر اقبال رندھاوا، بلال قدرت بٹ، میاں آصف اقبال، محمد اویس گھمن، ڈاکٹر میاں ذکراللہ مجاہد، انجینئر اخلاق احمد، ضیاء الدین انصاری، راؤ اختر علی، تحفہ دستگیر، ڈاکٹر بابر رشید، محمد رضوان، بشری صادقہ، حمیرا طارق۔صوبہ جنوبی پنجاب سے ڈاکٹر صفدراقبال ہاشمی، ثناء اللہ سرانی، چوہدری اصغر علی گجر، سید ذیشان اختر، ڈاکٹر انوار الحق، افتخار ندیم، رفیعہ فاطمہ۔صوبہ سندھ سے حافظ نعیم الرحمن، سید عبدالرشید، منعم ظفر، اسامہ رضی، سید شاہد ہاشمی، فاروق نعمت اللہ، ڈاکٹر عبدالواسع شاکر، عبدالوحید قریشی، افضال احمد آرائیں، حزب اللہ جکھرو، عبدالحفیظ بجارانی، عطیہ نثار، اسماء سفیر، رخشندہ  منیب ناز، افشاں نوید۔صوبہ بلوچستان سے مولانا عبدالکبیر شاکر، مولانا ہدایت الرحمن بلوچ، شازیہ عبداللہ۔

ارکان

 لاہور (نمائندہ خصوصی)امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے عیدالفطر کے ا س خو شی کے موقع پراپنے پیغام میں عالم اسلام اور تمام پاکستانیوں کو عید الفطر کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہیں جس کے فضل اور کرم سے ہمیں ماہ رمضان جیسی عظیم نعمت ملی اور ہم نے رمضان المبارک کے روزے رکھیں ماہ رمضان رحمت کا،مغفرت کا اور جہنم کی آگ سے نجات کا ذریعہ ہے میری دعا ہے کہ اللہ تبارک تعالیٰ اس مبارک مہینے میں کی جانے والی ہماری عبادات،دعائیں،ذکر،تلاوت،نمازیں، ا یثار اور قربانی اپنی بارگاہ میں قبول فرماے۔یہ شائد ہماری زندگیوں میں پہلی عید الفطر ہے جس میں ہمیں بہت الگ صورتحال کا سامنا ہے اور ہر گزرتے دن کیساتھ ہماری تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔نفرت اور دشمنی کے الزامات والی شدید تقسیم اور پولرائزڈ سیاسی ماحول میں، تمام سیاسی لیڈرز کو سیاسی ماحول کی تنزلی پر حقیقی معنوں میں فکر مند اور پریشان ہونا چائیے کیونکہ دن بدن ملک شدید پولرائزیشن کی جانب بڑھ رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو سنجیدگی کا راستہ اپنانا چاہیے۔ سیاست میں گالم گلوچ اور تشدد کے کلچر کو ختم کرنا ہو گا۔ میں  تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈرز،ورکرز اور سپورٹرز سے اپیل کرتا ہوں کہ عید کے اس پر مسرت موقع پر آئیے نفرت، عدم برداشت، بد تہذیبی اور الزامات کی سیاست سے ایک قدم پیچھے ہٹتے ہوئے ایک دوسرے کو گلے لگاتے ہیں یہی ہمارے نبی کی سنت ہے اور اسی میں برکت اور عزت ہے۔کیونکہ غصے، الزامات اور بد نیتی سے ہم نہ تو محفوظ منزل تک پہنچ سکتے ہیں اور نہ ہی ایک عظیم قوم بن سکتے ہیں۔ درحقیقت ہم اس ملک کو تباہ کر سکتے ہیں جو ہمارے پاس ہمارے بزرگوں کی امانت ہے۔ہمیں یقین ہے کہ ہم ایک دوسرے کے لیے امن اور خیر سگالی کے ساتھ اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ ہم اس ملک کی تیزی سے اصلاح کرنے کے متعدد طریقوں اور اس کے امن اور ترقی کے لیے اجتماعی طور پر کوشش کرنیوالے مختلف راستوں کے قائل ہیں۔ہم آئین پر عمل درآمد کے ذریعے جمہوریت کو مضبوط کر سکتے ہیں اگر لیڈرز اخلاقی اقدار، اور ایک دوسرے کی عزت کا خیال نہیں رکھیں گے تو ان کو پسند کرنے والے افراد ایک دوسرے کا گریبان چاک کر رہے ہونگے ہم سمجھتے ہیں کہ مسلسل اختلاف اور آئین پر اس کی رو کے مطابق عمل نہ ہونا ناقابل تلافی حالات کا باعث بن سکتا ہے۔ میری سیاسی لیڈرز اور قوم سے امن، سنجیدگی اور مکالمے کی اپیل ہے۔تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین پر مشتمل قومی سطح کا ڈایئلاگ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ واحد راستہ جو پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی طرف لے جا سکتا ہے۔وہ اللہ تعالی کا نظام ہے جو ہمیں ایک دوسرے کی عزت کا، پیار،محبت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔آئیے اس عید کے خوشی کے موقع پرتمام تلخیوں کو بھلا کر آگے بڑھیں اور رمضان المبارک سے ہم نے صبر،تحمل، استقامت اوربردباری کاجو درس لیا ہے اس پر عملی طور پر کاربند رہنے کا عزم کریں۔جماعت اسلامی کے کارکنان مفادات کی لڑائی سے دور رہتے ہوئے عوام کی خدمت جاری رکھنے اور اس انتشار کے ماحول میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کریں۔

سراج الحق

مزید :

صفحہ آخر -