ایٹمی جنگ کا خطرہ موجود،نیٹو اور امریکہ یوکرین کو اسلحہ سپلائی بند کر دیں،روس کی تنبیہ

  ایٹمی جنگ کا خطرہ موجود،نیٹو اور امریکہ یوکرین کو اسلحہ سپلائی بند کر ...

  

ماسکو،کیف(نیوزایجنسیاں) روس نے ایک بار پھر دنیا کو متنبہ کیا ہے کہ ایٹمی جنگ کے خطرات موجود ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے کہا ہے کہ نیٹو کے رکن ممالک روس اور یوکرین کے درمیان امن سمجھوتے کو سبوتاڑ کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے ہیں۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اس صورت حال میں ایٹمی جنگ کے خطرات موجود ہیں، اس لیے ایٹمی طاقتوں کے درمیان کسی بھی قسم کے مسلح تصادم کی روک تھام ضروری ہے۔روس کے وزیر خارجہ نے نیٹو اور امریکا پر زور دیا کہ وہ یوکرین کو اسلحے کی فراہمی کا سلسلہ بند کر دیں، روسی وزیر خارجہ نے یوکرین میں بائیولوجیکل تجربہ گاہوں کی سرگرمیوں کے بارے میں بھی تحقیقات کرائے جانے کا مطالبہ کیا۔ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانوی وزیر دفاع نے 8 ہزار برطانوی فوجیوں کو درجنوں ٹینکوں، ہیلی کاپٹروں اور توپ خانے کے ساتھ مشرقی یورپ میں تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔روس کی وزارت خارجہ کے محکمہ تخفیف اسلحہ کے سربراہ ولادیمیر پریماکوف نے کہا ہے کہ انھوں نے یوکرین میں امریکا کی بائیولوجیکل تجربہ گاہوں کی سرگرمیوں کے جائزے کی غرض سے روسی پارلیمانی کمیشن کے اجلاس میں شرکت کے لیے نائب وزیر خارجہ وکٹوریا نولینڈ سمیت بعض امریکی عہدیداروں کو دعوت نامے جاری کیے ہیں۔دوسری جانب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ جنوبی ساحلی شہر ماریوپول میں محصور ایزوسٹل سٹیل پلانٹ سے تقریباً 100 شہریوں کو نکال لیا گیا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کئی ہفتوں بعد محصور سٹیل پلانٹ سے یوکرینی شہریوں کا نکالا جا رہا ہے اور ان کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔21 اپریل کو روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین کا ساحلی شہر ماریوپول فتح کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم یہ سٹیل پلانٹ ہی ماریوپول کا واحد حصہ تھا جس پر سینکڑوں یوکرینی فوجیوں کا قبضہ برقرار تھا۔روسی فوجیوں نے ماریوپول پر قبضے کے بعد اس سٹیل پلانٹ کا محاصرہ کیا تھا۔

روس،یوکرین

مزید :

صفحہ اول -