عید ملکی سلامتی، خوشحالی کا پیغام لائے، جلال الدین رومی 

عید ملکی سلامتی، خوشحالی کا پیغام لائے، جلال الدین رومی 

  

ملتان (نیوز رپورٹر)رمضان المبارک کے اختتام پر یکم شوال کو مسلمانوں کے لیے جو عید کی نوید دی گئی ہے۔اس کا مقصد یہ ہے وہ دن ملک میں سالمیت اور امن و امان کی نوید لے کر آئے اور نفرت و عداوت کا خاتمہ ہو۔کہ یہی عید کی اصل روح کا پیغام ہے۔ان خیالات کا اظہار معروف صنعت کار سابق نگران صوبائی وزیر اورسابق صدر ملتان وڈیرہ غازی خان چمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری خواجہ محمد جلال الدین رومی نے عید الفطر کے (بقیہ نمبر17صفحہ6پر)

موقعہ پر خصوصی پیغام میں دیا۔انھوں نے کہا عید الفطر انعام و اکرام کا دن ہے۔ اس دن پوری دنیا کے مسلمان ایک ماہ کے روزوں کی تکمیل پر عید گاہ میں جمع ہوتے ہیں، اپنے رب کا شکر اداکرتے ہیں،اور دورکعت نماز شکرانہ ادا کرتے ہیں۔اس دن تمام مسلمان اپنے پورے ماہ کی عبادت وریاضت کی قبولیت کی دعا کے ساتھ یہ بھی دعا کریں کہ یہ عید ملک کی سالمیت اور امن و امان کی نوید لے کر آئے اور ملک سے نفرت و عداوت کا خاتمہ ہو۔خواجہ محمد جلال الدین رومی نے کہا ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام کی ہر تقریب اور تعلیم اپنی جگہ اصلاح و تبلیغ کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ عید الفطر کا دن عمدہ لباس زیب تن کرلینے اور پرتکلف کھانا کھالینے کا دن نہیں ہے بلکہ اس دن کے کچھ اور بھی تقاضے ہیں، جن کا تعلق اجتماعیت، اتحاد، خدمت خلق، غم خواری و غم گساری اور ایک دوسرے کے کام آنے سے بھی ہے۔ ہمیں عید کے دن اللہ تعالی کی عبادت کے عہد کے ساتھ خدمت خلق کے لیے آگے بڑھنے کا بھی عزم کرنا چاہئے۔، صدقہ فطر کا وجود اسی خدمت خلق کے جذبے کے اظہار کے لیے ہے۔جن لوگوں کو اللہ تعالی نے اپنی نعمتوں سے نوازا ہے ان کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ و ہ ضرورت مندوں کی حتی الوسع مدد کریں، جو لوگ صاحب استطاعت ہیں وہ اپنے ارد گرد کی خبر رکھیں کہ کوئی مستحق خاندان عید کی خوشیوں سے محروم نہ ہو۔سابق نگران صوبائی وزیر نے کہا کہ ہمیں اپنے دلوں سے بغض و حسد اور کینہ کو نکال کر تقوی شعاراور حقیقی مصلح اور پر امن معاشرے کی تشکیل میں اہم رول ادا کرنا چاہئے۔ عید کے دن ہم سب یہ عہد کریں کہ ہم وحدت و اجتماعیت اور اتحاد و اتفاق کے ساتھ ایک نفع بخش امت کی حیثیت سے زندگی گذاریں گے اور اللہ کی ہر مخلوق کے ساتھ خیر خواہی و ہمدردی کا رویہ اختیار کریں گے،۔ روزہ ہمیں صبر و تحمل کا بھی پیغام دیتا ہے، امن اور بھلائی کے کاموں کے لیے صبر و تحمل بہت ضروری ہے، اس لیے جس طرح ہم نے روزے کے اندر صبر و تحمل کو اپنا یا ہے، اسی طرح زندگی کے ہر شعبہ میں صبر و تحمل کو اپنا شعار بنائیں، نفرت و تشدد اور جذباتی اشتعال انگیزی سے پرہیز کریں، ایک دوسرے کی مدد کریں اور باہمی تعاون کی فضا کو قائم کریں۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -