عدالت ہدایت کی نہیں بلکہ سزا کی جگہ ہے۔۔۔۔۔

عدالت ہدایت کی نہیں بلکہ سزا کی جگہ ہے۔۔۔۔۔
عدالت ہدایت کی نہیں بلکہ سزا کی جگہ ہے۔۔۔۔۔

  

مصنف :ملک اشفاق

قسط: 48

 مگر تم ابھی ابھی تسلیم کر چکے ہو کہ اچھے آدمی اپنے ہمسایوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں اور برے آدمی نقصان پہنچاتے ہیں تو پھر کیسے ممکن ہے کہ اس حقیقت کو تمہاری برتر عقل نے تو اس کم سنی میں معلوم کرلیا اور میں اس بڑھاپے میں اس قدر جاہل ہوں کہ اتنا بھی نہیں جانتا اگر میں ایک شخص کو جس کے ساتھ مجھے زندگی بسر کرنا چاہیے بگاڑوں گا تو بہت ممکن ہے کہ مجھے اس سے نقصان پہنچے۔ اس کے باوجود میں اسے بگاڑتا ہوں اور وہ بھی بالا رادہ.... یہ تمہارا قول ہے مگر نہ تم مجھے اس کایقین دلا سکتے ہو اور نہ کسی اور شخص کو۔ ظاہر ہے کہ یا تو میں نوجوانوں کو بگاڑتا نہیں یا بگاڑتا بھی ہوں تو بلا ارادہ، اور دونوں صورتوں میں تمہارا قول غلط ہے۔ اگر میرا جرم بلاارادہ ہے تو ایسے جرائم قانون کی حد سماعت میں نہیں آتے۔ تمہیں چاہیے تھا کہ تم مجھے علیحدہ سمجھاتے اور تنبیہہ کرتے اگر مجھے بہتر مشورہ ملتا تو جو کام محض بلا ارادہ کر رہا تھا اسے ترک کر دیتا.... یقینا کر دیتا لیکن تم نے مجھ سے کچھ نہیں کہا اور مجھے ہدایت کرنے میں بخل سے کام لیا اور اب تم مجھے عدالت میں کھینچ لائے ہو جو ہدایت کی جگہ نہیں بلکہ سزا کی جگہ ہے۔

 اے اہل ایتھنز! تم پر یہ بات واضح ہوگئی ہوگی کہ جیسا میں نے کہا تھا میلے ٹس کو اس معاملے سے ذرا بھی دلچسپی نہیں۔ پھر بھی تم سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میلے ٹس میں نوجوانوں کو کس طرح بگاڑتا ہوں جہاں تک تمہارے استغاثے سے معلوم ہوتا ہے شاید تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں انہیں یہ تعلیم دیتا ہوں کہ ان دیوتاﺅں کو جنہیں ریاست مانتی ہے، نہ مانیں بلکہ ان کی جگہ نئے دیوتاﺅں یا نئی روحانی قوتوں کی پرستش کریں۔ اسی تعلیم کے ذریعے سے میں نوجوانوں کو بگاڑتا ہوں تم یہی کہتے ہو نہ؟

”ہاں کہتا ہوں اور بہت زور کے ساتھ کہتا ہوں۔“

 تو تمہیں ان دیوتاﺅں کی قسم میلے ٹس جن کا ہم ذکر کر رہے ہیں مجھے اور عدالت کو اپنا مطلب زیادہ صاف لفظوں میں سمجھا دو۔ کیونکہ میں اچھی طرح نہیں سمجھا کہ تمہارا کیا دعویٰ ہے۔ کیا تم یہ کہتے ہو کہ میں دوسروں کو بعض خاص دیوتاﺅں کے ماننے کی تعلیم دیتا ہوں لہٰذا کچھ دیوتاﺅں کا قائل تو ہوں، بالکل ملحد نہیں ہوں.... یہ الزام تم مجھ پر نہیں لگاتے۔ البتہ میرے دیوتا وہ دیوتا نہیں ہیں جنہیں ریاست تسلیم کرتی ہے.... یہی اصل الزام ہے یا تمہارا یہ مطلب ہے کہ میں محض ملحد ہوں اور الحاد کی تعلیم دیتا ہوں؟۔“

”میرا یہی مطلب ہے۔ تم بالکل ملحد ہو۔“

”یہ تو تم نے عجیب و غریب بات کہی۔ آخر تم یہ کیوں سمجھتے ہو میلے ٹس؟ کیا تمہارا یہ مطلب ہے کہ میں سورج اور چاند کو دیوتا نہیں مانتا جیسا کہ اور سب مانتے ہیں؟“

”میں آپ کو یقین دلاتا ہوں جج صاحبان کہ یہ شخص ان کو نہیں مانتا۔ یہ کہتا ہے کہ سورج پتھر اور چاند مٹی۔“

”میرے دوست، میلے ٹس! تم اپنے خیال میں انکساگورس کے خلاف دعویٰ دائر کر رہے ہو۔ تمہاری رائے ججوں کے متعلق بہت ہی بڑی معلوم ہوتی ہے اگر تم انہیں اتنا جاہل سمجھتے ہو کہ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ یہ نظریات انکسا گورس کلا زوینی کی کتابوں میں پائے جاتے ہیں۔ وہ ان سے بھری پڑی ہیں.... یہ خوب بات ہے کہ نوجوانوں کو اس قسم کی باتیں سکھانے کا الزام سقراط پر لگایا جاتا ہے حالانکہ یہ بہت کثرت سے تھیٹر میں دکھائی جاتی ہے( جس کا ٹکٹ زیادہ سے زیادہ ایک درہم ہوتا ہے) یہ لوگ تھوڑے سے پیسے دے کر و ہاں جا سکتے ہیں اور اگر سقراط دعویٰ کرے کہ یہ عجیب و غریب خیالات اس کے ہیں تو یہ اس کی ہنسی اڑائیں گے۔ تو میلے ٹس تمہارا سچ مچ یہ خیال ہے کہ میں کسی دیوتا کو نہیں مانتا“۔ (جاری ہے )

نوٹ : یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -