پاکستان کا یومِ مئی اور شکاگو

      پاکستان کا یومِ مئی اور شکاگو
      پاکستان کا یومِ مئی اور شکاگو

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  آج کل انڈیا میں الیکشن ہو رہے ہیں۔ یہ دیس دنیا میں سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ بڑی چھوٹی جمہوریت کا پیمانہ وہاں کی آبادی کی تعداد ہے۔ انڈیا، چین سے بھی بازی لے گیا ہے۔ پہلے چین کی آبادی دنیا میں سب سے بڑی تھی لیکن وہاں جمہوریت نہیں تھی۔جمہوریت کا یہ لولی پاپ مغرب کے ہاں سے آیا ہے۔ ان کے اپنے حکمران جمہوریت کا جو برانڈ اپنائے ہوئے ہیں، وہ اور قسم کا طرزِ حکمرانی ہے۔ اس موضوع پر ہمارے ہاں مباحثوں کا ایک طومار باندھ دیا جاتا ہے لیکن جن لوگوں نے جمہوریت لانی ہوتی ہے، ان کے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔ جمہوریت میں تو جمہور کے مفادات کی بات ہوتی ہے، اپنے خاندان اور ذات برادری کی بات نہیں ہوتی۔

انڈیا میں ایک ارب ووٹر ہیں جنہوں نے فیصلہ کرنا ہے کہ ان کا آئندہ حکمران کون ہوگا۔ نریندر مودی کا کوئی ”والی وارث“ نہیں۔ وہ اپنی ذات میں انجمن ہیں۔ چند روز تک شادی کے بندھن میں گرفتار رہے اور پھر ایسی رہائی ملی کہ آج تک آزاد ہواؤں اور فضاؤں میں اڑتے پھر رہے ہیں۔ ان کا مطمحِ نظر بس یہی ہے کہ انڈیا کو ایک ”ہندوریاست“ بنانا ہے۔ پاکستان اگر ”مسلمان ریاست“ ہے تو انڈیا جو پاکستان کا ہم عصر ہے اور 1947ء سے پہلے ایک ملک تھا، اب وہ پھر ایک بننا چاہتا ہے۔ پاکستان میں 40برسوں سے شخصی حکومت قائم ہے لیکن پاکستان اپنے ہم  عمر سے ان معنوں میں بازی لے گیا ہے کہ یہاں انڈیا کے برعکس دو خاندانوں کی حکومتیں چلی آ رہی ہیں۔ آدھا پاکستان اس حوالے سے خوش نصیب ہے کہ اس کے شخصی حکمران اب تک کسی جان لیوا حادثے سے بچے ہوئے ہیں۔ دوسرے آدھے پاکستان میں بھٹو اور بے نظیر کو جو حادثات دیکھنے پڑے وہ ہم سب کے سامنے ہیں۔

انڈیا میں 2014ء تک ایک ہی خاندان کی حکومت رہی۔ نہرو 1964ء میں اپنی موت مر گئے۔ لیکن ان کے انتقال کے بعد اندرا گاندھی اور ان کا بیٹا، انڈین جمہوریت پرستوں نے مار ڈالا۔ اب اندرا کی پوتی پریانکا اور پوتا راہول الیکشن مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر پریانکا کے جلسوں کی جو رپورٹیں آ رہی ہیں وہ قابلِ دید بھی ہیں اور شنید بھی۔ قابلِ دید اس لئے کہ پریانکا اپنی والدہ سونیا گاندھی کی طرح گوری چٹی ہیں، دراز قامت ہیں۔ گھر میں شاید اطالوی زبان بولتی ہوں گی لیکن جب جلسوں میں ہندی بولتی ہیں تو تامل ناڈو کے باسی سامنے بیٹھے کالے کلوٹے ہندو سامعین کے نعرے جمہوریت کا راگ  الاپتے ہیں۔ جب کبھی وہ مسلمانوں کے جلسوں سے خطاب کرتی ہیں تو گندمی رنگ کی عورتیں اور مرد اُن کو دیکھ دیکھ کر مودی جی کے مظالم یاد کرکے اداس آنکھوں کے ساتھ فروکش ہوتے ہیں۔

انڈیا میں 20کروڑ مسلمان بستے ہیں لیکن ان کا جو حشر نشر نریندر مودی نے کر دیا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ لیکن راہول گاندھی اور ان کی ہمشیرہ پریانکا گاندھی جتنا زور بھی لگا لیں وہ مودی کے ”آل انڈیا ہندوتا“نعرے کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ پاکستان کی طرح انڈیا نے بھی دہلی کے وزیراعلیٰ کو پابندِ سلاسل کر رکھا ہے۔ ہم جون کے وسط میں دیکھ اور سن لیں گے کہ RSSکے حمائت یافتہ مودی کو تیسری بار بھی وزیراعظم منتخب کرلیاجائے گا۔ یعنی وہ 15برس تک تختِ دہلی پر براجمان رہیں گے۔ اگر ان کے ساتھ کوئی حادثہ نہ ہو جائے تو وہ چوتھی بار بھی وزیراعظم بن کر ایک ریکارڈ بنا سکتے ہیں۔ کانگریس کے پنڈت نہرو 17برس تک (1947ء تا 1964ء) انڈیا کے وزیراعظم رہے تھے لیکن مودی جی یہ ثابت کرکے رہیں گے کہ وہ 20برس تک کرسیء وزارتِ عظمیٰ پر فائز ہو کر ایک ”ریکارڈ توڑ“ حکمران ہیں …… کیا جمہوریت اسی 20سالہ دورِ حکمرانی کے تسلسل کا نام ہے؟

مودی نے بی جے پی کے ووٹرز کو کوئی نیا نعرہ نہیں دیا۔ انڈیا کے امبانی اور ٹاٹا وغیرہ کا دور دورہ ہے۔ مغلیہ خاندان کی تاریخ پڑھیں تو ہمیں نریندر مودی کے 15(یا20) سالہ دور کی طوالت مغل شہنشاہوں کے ادوارِ سلطنت کی طوالت کی ہم پلہ معلوم ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں  میں انڈین پبلک کا قبلہ وہی رہا ہے جو غزنوی دور سے مغل دور کی مسلم حکمرانی (998ء تا 1857ء) اور انگریز دور (1857ء تا 1947ء)کی ”جمہوریت“ میں تھا…… کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا! جمہوریت میں ”آزاد انسان“ بدلتے ہیں، ”غلام انسان“ نہیں۔ راہول اور پریانکا کے پاس انڈیا کے جمہوریت پرستوں کو دینے کے لئے کوئی نیا پروگرام نہیں۔

دوسری طرف پاکستان میں بھی ہم وہی کچھ دیکھ رہے ہیں۔ میں پنجاب کی وزیراعلیٰ محترمہ مریم نواز صاحبہ کے اس دورۂ لاہور و بہاولپور کی خبر آج کے میڈیا میں دیکھ رہا تھا جس میں وہ فرماتی ہیں کہ میرا جی چاہتا ہے، پاکستان کے ہر گاؤں میں ایک سکول ہو اور ایک ہسپتال بھی ہو۔ ان کی یہ آرزو بہت سہانی ہے لیکن ان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ ایسا کرنے کے لئے ”سرمایہ“ کہاں سے آئے گا؟ ہسپتالوں کے ڈاکٹر کہاں سے آئیں گے؟ سکولوں کے اساتذہ کہاں سے پکڑ کر لائے جائیں گے؟ انہوں نے ”لگے ہاتھوں“ ایک سڑک کا افتتاح بھی کر ڈالا۔سڑکوں کی تعمیر اور ان کا افتتاح محترمہ کا آبائی مشغلہ ہے۔ خدا کرے پاکستان کے طول و عرض میں سڑکوں کا جال بچھ جائے۔ لیکن ہم پاکستانی پہلے ہی ”دورِ شریف“ اور CPECکی سڑکوں سے ”لبالب“ آئے ہوئے ہیں۔ کاش محترمہ کسی ایسے گاؤں کا دورہ کرتیں جہاں سکول بھی ہے اور ہسپتال بھی  ہے لیکن اہلِ دیہہ کے مسائل اور طرح کے ہیں۔ ان کو حل کرنا ان کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ لیکن میں محترمہ کو اس بات کی داد دیتا ہوں کہ وہ جہاں بھی جاتی ہیں ان کی نظر میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کی ڈویلپمنٹ پیش پیش ہوتی ہے۔ اگر ان کے پاس اتنی رقم ہو جو پنجاب کا خزانہ ان کو فراہم کر سکے تو ان کے صحت و تعلیم کے شعبوں کی ترقی و توسیع کے یہ خواب پورے ہو سکتے ہیں۔ چلو اس دورِ ناپُرساں میں ہماری ایک سیاستدان تو ایسی ہیں جس کو تعلیم و تعلم کا خیال رہتا ہے اور وہ صحت و صفائی کے محکمے کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتی ہیں۔

یکم مئی کو یومِ مزدوراں تھا۔ میں نے اپنے بیٹے سے شکاگو میں کل رات بات کی اور کہا کہ اہلِ امریکہ کو ”یومِ مئی“ مبارک ہو۔ وہ بہت حیران ہوا اور پوچھا کہ یہ ”لیبرڈے“ کہاں سے نکل آیا ہے؟ میں نے اسے بتایا کہ تاریخ کا مطالعہ کرو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ یہ تحریک 1886ء میں شکاگو سے چلی تھی اور تم شکاگو میں رہتے ہوئے بھی یومِ مزدوراں کی تاریخ پوچھ رہے ہو؟

وہ بہت حیران ہوا اور کہا کہ یہ تحریک جس شہر سے چلی تھی وہاں تو اب اس کا چرچا تقریباً ختم ہو رہا ہے۔ ہاں ان اقوام میں اس کی شہرت وغیرہ ضرور ہے جہاں مزدوروں کے ہجوم دن رات پابہ رکاب اور ان کی کمریں صبح تا شام قلیوں کی طرح خمیدہ رہتی ہیں۔ شکاگو کے مزدور تو آج وہاں کے اشرافیہ بن چکے ہیں لیکن ہمارے ہاں کے غرباء و مساکین روبہ زوال  ہیں …… میرا جی چاہا کہ آج کے اہلِ شکاگو کو گزرے کل کا آئنہ دکھاؤں اور ان کو پاکستانیوں کے درد و کرب سے آشنا کروں:

تو بھی مری طرح ہو غمِ دل سے آشنا

آئنہ پاس ہو تو ترے روبرو کروں 

مزید :

رائے -کالم -