بدلتا پاکستان

بدلتا پاکستان
بدلتا پاکستان

  

چودہ اگست 2014ءکے بعد جاری سیاسی چپقلش پاکستان میں آنے والے طوفانوں کا پیش خیمہ ہے سب سے زیادہ نقصان اس دھما چوکڑی میں برداشت کو پہنچا ہے عمران خان کی چوکے چھکے مارنے کی خواہش نے ہر کسی کی دھلائی کر ڈالی ہے یہ دیکھے بغیر کہ کل کو صلح کرنی پڑی تو کیا منہ دکھائیں گے ”بلو رانی “ چور ‘ ڈاکو اور جعلساز جیسے القابات ایک ایسے دور کا عندیہ دیتے ہیں کہ اگر خان صاحب کو اقتدار مل بھی گیا، تو 90دن میں حال ایوب خان کے آخری دور کا سا ہو گا جہاں ہر کوئی اس مشہور نعرے سے مسلح ہو گا جو کہ ایوب خان کے جانے کا باعث بنا،کاش خان صاحب پارلیمان میں موجود اپنے گھوڑے نیک مقاصد اور بہتری کے لئے استعمال کرتے بہرحال اس تمام سیاسی دھینگا مشتی کا ایک فائدہ ضرور ہوا ہے کہ لیڈران نے پارٹی اکابرین اور کارکنوں پر نظر التفات برسانا شروع کر دی ہے اور قوم کی خواب غفلت سے بیداری بھی واقع ہوئی ہے مضبوط جماعت ہی مضبوط حکومت یا تبدیلی کا باعث ہو سکتی ہے فصلی بٹیرے تو منڈیر بدلنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف نے جس طرح 1990ءکی دہائی میں پاکستان کو ایشیا کا ٹائیگر بنانے کا سوچا اس وقت سے ہی بعض طاقتیں ان کے در پے ہیں، وہ پاکستان کو مانگنے والا بھکاری ہی دیکھنا چاہتے ہیں جو کرائے کا ٹٹو بھی ہو جس تیزی سے ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مضبوط ہو رہا تھا اور چائنہ سے مل کر ایک نئے اقتصادی پاکستان کی تیاری مقصود تھی لگتا ہے نشانہ اب بھی وہی ہے اور نواز شریف بھی ذرا نہیں بدلے انہیں مشرف کے ٹرائل میں الجھا کر بساط الٹنے کی کئی سازشیں ہیں اپوزیشن بھی وہ تعمیر ی کردار ادا کرنے سے قاصر رہی ہے جو اس کا وطیرہ ہونا چاہئے شیڈو کابینہ کے ذریعے وزرا ءکو پابند اور جواب دہ کرنا ممکن ہے، لیکن جب اقتدار کا سنگھاسن سامنے ہو تو کون کافر نوکری چاکری کے جھنجٹوں میں اپنا وقت برباد کرے یہی پاکستان کی بیماریوں کی اصل وجہ ہے جو جس کا کام ہے وہ اس کو کرنے کی بجائے دوسرے کا کام کرنا رائے زنی کرنا تنقید کر کے معاملات کو الجھانا اور حل پیش کیے بغیر ”سانوں کی “ کہہ کر آگے چل دینا اپنا فرض سمجھتا ہے۔

 اپوزیشن اگر معیاری تنقید کرے اور معاملات کا حل پیش کرے تو بہتر قانون سازی کے ذریعے پارلیمنٹ کو بامقصد اور معنی خیز ادارہ بنایا جا سکتا ہے، جہاں سے تمام معاملات کا حل نکلے لیکن یہ گھنٹی باندھے گا کون ‘ تادم تحریر وزیراعظم کابینہ کی دوبارہ تشکیل میں مصروف ہیں اور ہونا یہ چاہئے کہ وہ اپوزیشن کی جائز اور عوامی خواہشات پر مبنی مطالبات کو اپنے مطالبات سمجھیں اور الیکشن کے لئے ایک فول پروف نظام تشکیل دیں اور تمام پارٹیوں سے اس سلسلے میں مشاورت بھی کریں، غریب ملک کے طور پر آج نہیں تو کل وی آئی پی کلچر کا خاتمہ کرنا ہوگا تو کیوں نہ اٰآج سے اس کا آغاز کیا جائے اور شہباز شریف جیسے کہنہ مشق وزیر اعلی کی خدمات ‘ اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل درآمد کے لئے استعمال کی جائیں آنے والا وقت لفظوں کی بجائے اعمال پر مبنی کارکردگی کا دور ہوگا جعلی نعرے، کھوکھلے وعدے اور راتوں رات وزیراعظم ملکی حالات نہیں بدل سکے گی، لیکن عوام میں موجودہ اضطراب اور گہرا ہونے کا امکان ہے۔

کچھ انقلابی تو اضطرابی کیفیت کا باعث بن کر یورپ کی ہواﺅں کے ہو لئے مجھے دکھ ہوتا ہے، جب آنکھ کے درد کا علاج بیرون ممالک کروانے والے لوگ انقلاب اور خلفائے راشدین کا نام لیتے ہیں، لیکن خوشی بھی ہوتی ہے کہ اچھا ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے ‘ ابھی بھی موسیقانہ دیوانگی کے علمبردار میدان میں موجود ہیں، لیکن ان کی ترجیحات اگرچہ واضح نہیں لیکن انکی ٹیم بہت ناقص ہے اور کمزور کھلاڑیوں سے فتح یقینی نہیں ہوتی ‘ عوام بہرحال تبدیلی چاہتے ہیں اور تبدیلی آنی بھی چاہئے سیاست چائے کی پیالی پر لانے کا وقت آ چکا ہے متوسط طبقہ اپنی تمام تر محرومیوں کے باوجود پاکستان کی ترقی اور ترویج کا خواہش مند ہے اس کوقومی دھارے میں ایک آزاد، شفاف اور منصفانہ موقع دینا وقت کی اہم ضرورت ہے 90دن میں اصلاحات اگلے 90دن میں بلدیاتی انتخابات قوم کے آنے والے موڈ کا پتہ دے سکتے ہیں، لیکن بپھرا ہوا جنون اگر صحیح عوامی ہوا تو کئی ڈی جیزکی ہوا نکال دے گا برداشت پر مبنی معاشرہ ہی ترقی پسند معاشرہ بن سکتا ہے۔

حضور اکرم نے بھی کوڑا پھینکنے والی عورت سے ہمدردی کی الزام در الزام تو اجتماعی شرپسندی کا راستہ کھول دے گا آئینی انقلاب ہی قوم کی تقدیر بدلنے کا سامان ہو سکتا ہے شرپسندی، انا اور ضد کے ذریعے بربادی کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آئے گا، لوگ انصاف کے لئے در در ٹھوکریں کھا رہے ہیں عوام کو 6ماہ میں ان کے تمام مسائل پر ان کی دہلیز پر انصاف دینا قومی فریضہ ہے سول اور ملٹری تعلقات سے آغاز کے متمنی ہیں اور بیوروکریسی میں وسیع تر اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہے عوام کو بابو نہیں خادم کی تلاش ہے جو ان کے مسائل کو دائروں میں گھمانے کی بجائے صاف، سستااور فوری حل تلاش کرے روٹی ،کپڑا اور مکان جیسے نعروں کے ذریعے ووٹ دے چکا ہے اب اس پر صحیح معنوں میں عمل درآمد کی ضرورت ہے نوجوان نسل جو بے راہ روی اور باہر جانے کے لئے الٹے سیدھے ، راستے ڈھونڈتی ہے پہلی بار ملک کے بارے میں سوچ رہی ہے ایسے میں ایسی سوچ کو نامراد واپس جانے دینا قومی بے حسی ہو گی نواز شریف خود بھی ملک اور قوم کی تقدیر سنوارنے کی خواہش رکھتے ہیں صحیح عوامی حکومت قائم کر کے حق حکمرانی کا حق ادا کر سکتے ہیں، نہیں تو مورخ کہے گا کہ....کنج انج وی راہواں اوکھیاں سن....کج سانوں مرن دا شوق وی سی۔۔(منیر نیازی)

مزید :

کالم -