وکٹوریہ کراس کا دیسی سپاہی

وکٹوریہ کراس کا دیسی سپاہی
وکٹوریہ کراس کا دیسی سپاہی

  

پچھلے ایک سو اٹھاون برس سے دنیا بھر میں جانا مانا وکٹوریہ کراس ان لوگوں کے سینے پر سجتا ہے جنھوں نے دشمن سے کسی مڈھ بھیڑ، لڑائی اور جنگ کے بیچوں بیچ کوئی انہونا یا حیران کن جنگی کارنامہ کردکھایا ہو۔ یہ تمغہ اٹھارہ سو چھپن میں ملکہ وکٹوریہ کے حکم پر جاری ہوا اور اسے اٹھارہ سو چوّن میں کریمیا کی جنگ میں روس سے چھینی دو توپوں کی دھات سے تیار کیا جاتا ہے۔آج تک وکٹوریہ کراس ایک ہزار تین سو باون سینوں پر لگا ہے۔ ان میں وہ گمنام امریکی سپاہی بھی شامل ہے جس کی قبر واشنگٹن کے آرلنگٹن قبرستان میں ہے۔ تین بہادر ایسے بھی ہیں جنہیں دو بار وکٹوریہ کراس مل چکا ہے۔ شروع کے چھپن برس میں یہ اعلیٰ ترین تمغہ برٹش آرمی کے گورے سپاہیوں کو ملتا تھا۔ مگر انیس سو بارہ میں بادشاہ جارج پنجم کے زمانے میں ہندوستان کے دیسی سپاہیوں کو بھی اس تمغے کے برابر بہادر سمجھنے کا خیال برطانوی راج کو آ ہی گیا۔اٹھائیس جولائی 1914 کو جب پہلی عالمی جنگ کی پہلی توپ کا پہلا گولہ داغا گیا تو سلطنتِ برطانیہ کو اور کوئی پریشانی ہو گی تو ہوگی پر ہندوستان کی وفادار نوآبادی کے ہوتے ایسی کوئی گھبراہٹ نہ تھی کہ جنگجو رنگروٹوں کی کمی ہو گی بھلے یہ نام نہاد وار آف سویلائزیشن کتنا ہی طول پکڑ جائے۔

پنجاب بالخصوص پوٹھوہار کے علاقے میں ہر سرپنچ کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ بڑے سینے والے صحت مند لمبے چوڑے جوانوں کو تنخواہ، الاونس، راشن، چمکیلی وردی، دنیا بھر کی سیر، سال میں ایک مہینے کی چھٹی، گھر واپسی کا کرایہ اور سب سے بڑھ کے وطن کی خدمت کا جوش دلا کر فوج میں بھرتی پر تیار کرے۔جو سرپنچ جتنے جوان بھرتی کروائے گا سرکار اسے اتنا ہی محبوب رکھے گی۔ کچھ ہی عرصے میں چار لاکھ سے زائد دیسی فوجی یورپ بھیجنے کے لیے چوکس کردیے گئے۔ سپاہی خداداد خان بھی لاکھوں میں ایک تھے۔سپاہی خداداد خان کی رجمنٹ ڈیوک آف کنوٹس اون بلوچ ان پہلی دیسی رجمنٹوں میں سے تھی جنہیں جنگ کے ابتدائی مہینوں ہی میں بحری جہازوں میں بھر بھر کے ہندوستان سے فرانس اور پھر بلجیئم کے فرنٹ تک پہنچایا گیا۔ اکتیس اکتوبر 1914 کے دن ہولی بیک کے مقام پر سپاہی خداداد خان کی رجمنٹ کی جرمنوںخونی مڈھ بھیڑ ہوگئی۔(جدول آخر میں)

جس مورچے پر خداداد خان کی ڈیوٹی تھی اس پر ان کے پانچ اور ساتھی بھی تھے جو سب کے سب فرض پر قربان ہوگئے۔ سپاہی خداداد خان زخمی ہونے کے بعد بھی تب تک اکیلے ڈٹے رہے جب تک انہیں جھٹپٹے کے بعد بیس کیمپ تک پیچھے آنے کا حکم نہ ملا۔ اس جرات اور حوصلے پر سپاہی خداداد خان کو ہندوستان کا پہلا وکٹوریہ کراس اور صوبیداری ملی۔میں جب صوبیدار صاحب کا آبائی گھر دیکھنے چکوال شہر سے ذرا دور راجپوت منہاسوں کے پشتینی گاو¿ں ڈب پہنچا تو وہاں پرانے کی جگہ نیا گھر بن رہا تھا۔ صوبیدار صاحب کے ایک پڑ پوتے غلام ربانی اس تعمیراتی کام کی نگرانی کررہے تھے۔ کہاں گیا وہ اصلی گھر؟ کیا اس لائق بھی نہ تھا کہ کوئی اسے قومی وراثت سمجھ کے گود لے لیتا۔غلام ربانی نے کہا کہ پرانا گھر بہت ہی خستہ ہو کر ڈھے رہا تھا۔جب تک مرمت کرسکتے تھے کی پر کب تک۔ اس بیچ سرکار میں سے کسی نے نہیں سوچا کہ اسے یادگار بنانے کے لیے ہم سے خرید لے۔ میں نے پوچھا کیا آپ میں سے کسی نے گھر ڈھانے سے پہلے کسی حکومتی عملدار یا رکنِ پارلیمان کے کان میں یہ بات ڈالی؟ اس پر غلام ربانی نے کہا کہ یہ تو ان کا کام تھا۔ کوئی آتا تو بات بھی کرتے۔وکٹوریہ کراس کے ساتھ ہی صوبیدار خداداد خان کو ضلع منڈی بہاو¿ الدین کے چک پچیس میں پچاس ایکڑ زمین بھی الاٹ ہوئی اور یہیں خداداد خان آٹھ مارچ انیس سو اکہتر سے ابدی آرام میں ہیں۔ قریب ہی بوڑھے برگد کی چھاو¿ں تلے ان کے بھتیجے احمد خان نے باتوں باتوں میں بتایا کہ صوبیدار صاحب نے سنہ پینسٹھ کی پاک بھارت جنگ میں ایوب خان کو اپنی خدمات پیش کیں۔ اس جذبے کا فوجی قیادت کی جانب سے شکریہ ادا کیا گیا۔

احمد خان نے یہ قصہ بھی سنایا کہ جب انیس سو چھپن میں صوبیدار صاحب وکٹوریہ اینڈ جارج کراس ایسوسی ایشن کی دعوت پر لندن گئے تو لارڈ ماو¿نٹ بیٹن نے وکٹوریہ کراس اور جارج کراس حاصل کرنے والے فوجیوں کو کھانے پر بلایا مگر صوبیدار صاحب نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ماو¿نٹ بیٹن نے جس بے دردی سے ہندوستان کی تقسیم کی ایسی بے انصافی کے بعد وہ اس کی دعوت قبول نہیں کرسکتے۔وکٹوریہ کراس آج بھی دنیا میں ہاٹ کلکٹرز آئٹم ہے کیونکہ آزادی کے بعد سابق برطانوی نوآبادیوں نے اپنے اپنے اعلیٰ اعزازات تخلیق کر لیے۔جیسے پاکستان میں وکٹوریہ کراس کی جگہ نشانِ حیدر اور بھارت میں پرم ویر چکر نے لے لی۔ لہٰذا وکٹوریہ کراس کی تاریخی و نوادراتی حیثیت اور بڑھ گئی۔ کچھ کی اولادوں نے اسے نیلام کردیا یا کسی نیشنل میوزیئم کے حوالے کردیا۔ کہتے ہیں اس وقت وکٹوریہ کراس کا سب سے بڑا پرائیویٹ کلکشن برطانیہ کے لارڈ ایش کرافٹ کے پاس ہے۔

صوبیدار خداداد خان کا وکٹوریہ کراس خریدنے کے لیے بھی کئی لوگ آئے۔ ان کے ایک پوتے عبدالغفور کہتے ہیں کہ نواب آف بہاولپور میرے چچا کے پیچھے پڑ گئے۔ سوا سو ایکڑ زمین اور بہاولپور سٹیٹ کی فوج میں کمیشن کی بھی پیش کش کی مگر چچا نے یہ کہہ کر وکٹوریہ کراس دینے سے انکار کردیا کہ ’اس پر میرے باپ کا خون لگا ہے اور یہ ہماری اگلی نسلوں کا فخر ہے‘۔عبدالغفور جب 2004 میں وکٹوریہ اینڈ جارج کراس ایسوسی ایشن کی دعوت پر اپنی چھوٹی دادی کے ہمراہ برطانیہ گئے تو وہاں بھی کئی لوگوں نے صلاح دی کہ وکٹوریہ کراس انٹرنیٹ پر نیلام کرنے کے بارے میں سوچیں۔ سات آٹھ لاکھ پونڈ مل گئے تو وارے نیارے ہو جائیں گے۔عبدالغفور نے بتایا کہ نائن الیون کے بعد سے وکٹوریہ کراس کے کچھ نئے چاہنے والے بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ کئی بار انہیں اور چھوٹے بھائی علی نواز کو فون پر دھمکیاں ملیں کہ تم برطانوی ایجنٹ ہو۔ وکٹوریہ کراس واپس کردو ورنہ اچھا نہ ہوگا۔ عبدالغفور نے اس کے بعد وکٹوریہ کراس ایسی جگہ چھپا دیا ہے جو صرف خاندان کے کچھ لوگ ہی جانتے ہیں۔ ’مجھے بھی انہوں نے بس اس وکٹوریہ کراس کی فوٹو کے ہی درشن کروائے۔‘

پاکستانی فوج کی ہائی کمان نے اتنا ضرور کیا کہ خداداد خان کو ان کی زندگی میں ہی بابائے بلوچ رجمنٹ کا خطاب دیا اور انتقال کے بعد ان کا کانسی کا بڑا سا مجسمہ آرمی میوزیئم راولپنڈی کے احاطے میں نصب کردیا۔گو موجودہ پاکستان میں تین وکٹوریہ کراس سپاہیوں کے خاندان رہتے ہیں مگر لندن کی مرکزی تقریبات میں صرف خداداد خان کے ورثا کو ہی مدعو کیا گیا جبکہ پاکستان اور بھارت میں سرکاری طور پر کوئی بڑی تقریب نہیں ہورہی۔

مزید :

کالم -