کشمیر واقعی جنت نظیر ہے!

کشمیر واقعی جنت نظیر ہے!
کشمیر واقعی جنت نظیر ہے!

  

”کشمیر جنت نظیر“ یہ سُنا اور پڑھا جاتا ہے اور ہم تو اپنے بچپن سے سری نگر کی دلکشی اور ڈل جھیل کی خوبصورتی سنتے آئے تھے کہ ہمارے والد محترم سیرو سیاحت کے شوقین تھے اور انہوں نے برصغیر (متحدہ ہندوستان) پاک و ہند کے قریباً تمام شہر دیکھے ہوئے تھے وہ تو میسوری اور شملہ کی باتیں بھی بتایا کرتے تھے ۔پھر ہم کو بھی موقع ملا تو ہم نے جہاں اپنے پیارے ملک کے شمالی علاقوں کو دیکھا وہاں بھارتی ہما چل پردیش کے دارالحکومت شملہ بھی دو بار ہو آئے۔ بھارتیوں نے پنجاب کو تین صوبوں میں تبدیل کر کے ہماچل پردیش، ہریانہ اور پنجاب کے نام دے دیئے ہیں۔ بہرحال یہ موضوع زیر تحریر نہیں، بات تو کشمیر جنت نظیر کی ہے، جو آج آگ و خون میں نہلا دیا گیا ہے، انگریز نے بددیانتی سے جو تقسیم کی اور جس طرح گورداسپور کو بددیانتی سے پاکستان سے چھین کر (پہلے فارمولے میں یہ ضلع پاکستان میں تھا) بھارت کو دیا گیا۔ اس نے ایک اور تقسیم کر دی اور بھارت نے کشمیر پر زبردستی قبضہ کر لیا یہ تو بھلا ہو، مجاہدین کا کہ جنہوں نے اس دور میں جہاد کر کے کشمیر کا معتدبہ حصہ آزاد کرایا، جو آج آزاد جموں و کشمیر کے نام سے موجود ہے اور جس کی اپنی شناخت ہے تاہم کشمیری خاندان تقسیم ہو گئے، ہمارے ملنے والوں میں بے شمار ایسے دوست ہیں، جن کے آدھے آدھے خاندان مقبوضہ کشمیر میں ہیں اور ایک دوسرے کو ملنے کے لئے ترستے رہتے ہیں۔ بھارت یوں تو اٹوٹ انگ کی رٹ لگاتا ہے، لیکن کشمیریوں پر مظالم کے لئے اس نے مقبوضہ کشمیر میں8سے10لاکھ تک کی نفری پر مشتمل فوج رکھی ہوئی ہے۔ کشمیری آج بھی اپنے حق خود ارادیت کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے مظالم برداشت کر رہے ہیں۔ پاکستان اخلاقی اور سیاسی طور پر ان کے موقف کی حمایت پر مجبور ہے اور جہاں تک ممکن ہے اخلاقی اور سیاسی حمایت کرتا رہتا ہے، اِسی نسبت اور رشتے سے حکومت آزاد کشمیر کے ساتھ بھی تعاون جاری رہتا ہے۔ بھارت کے مقبوضہ اور آزاد کشمیر کے درمیان تقسیم والی لکیر کو اب لائن آف کنٹرول کہا جاتا ہے، اس لائن پر ان دنوں بھارت جارحیت کا ارتکاب کر رہا ہے اور پاکستان کی مسلح افواج کو جواب دینا پڑتا ہے یوں اس خطے میں قریباً دو ماہ سے کشیدگی چلی آ رہی ہے۔

یہ تمہید اس لئے ضروری تھی کہ کشمیر جنت نظیر کی جو جھلک ہم کچھ عرصہ کے بعد پھر سے دیکھ کر آئے اس کے لئے ضروری تھی کہ ایک طرف لائن آف کنٹرول کی یہ صورت حال ہے، تو دوسری طرف ایک خطرناک وادی پُرسکون ہے اور کچھ لوگ دریائے نیلم کے آر پار بھی آ جاتے ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر کا دارالحکومت مظفر آباد ہے، جہاں ایبٹ آباد سے مانسہرہ ہوتے ہوئے کہوٹہ سے براستہ راولا کوٹ اور مری سے براستہ کوہالہ بھی جایا جا سکتا ہے۔ تاہم زیادہ ٹریفک مری کوہالہ کے راستہ سے ہے کہ یہ بہتر ہے، اسلام آباد سے مری اور وہاں سے مظفر آباد جاتے ہوئے بھی خوشگوار حیرت ہوئی، ہم تھوڑا تاخیر سے ادھر کا چکر لگا رہے تھے، پہلے تو مری تک جاتے ہوئے احساس ہوا کہ اردگرد کی پہاڑیوں پر سبزہ بڑھ گیا ہے۔ شاید گزشتہ چند برسوں میں یہاں شجرکاری ہوئی اور اب پودے جوان ہونے لگے ہیں۔ یوں ایک اچھی اور نئی سڑک کے ساتھ ساتھ اس سبزے نے بڑی ٹھنڈک پہنچائی اور پھر کوہالہ سے مظفر آباد کو جاتے ہوئے، مزید خوشی ہوئی جب ایک بہترین نئی کارپٹڈ سڑک سے واسطہ پڑا، جو سعودی عرب اور چین کے تعاون سے تعمیر ہوئی، بعض مقامات پر ابھی کام جاری ہے کہ حالیہ بارشوں کی وجہ سے لینڈ سلائیڈنگ ہوئی تو سڑک کو بھی نقصان پہنچا۔ یوں متاثرہ حصوں کے علاوہ چند ایک لینڈ سلائیڈنگ والی جگہوں پر کام جاری ہے۔ یہ تھوڑے ہیں مجموعی طور پر مظفر آباد تک کا سفر ایک اچھی اور نئی سڑک ہی سے ہوتا ہے۔

کوہالہ سے مظفر آباد تک کے سفر میں جب مظفر آباد سے چند کلو میٹر پہلے سڑک کنارے ایک بڑے بورڈ پر نظر پڑی، جس پر ”دولائی“ لکھا تھا تو بہت کچھ یاد آ گیا، ماضی کے واقعات آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح پھرنے لگے۔ اس دور میں اِسے ”دلائی“ لکھا جاتا اور یہ ایک پیارے ساتھی افتخار احمد عرف تاری(مرحوم) کے حوالے سے یاد آیا، جن کو دوسرے کئی دوستوں کے ساتھ یہاں محکمہ جنگلات کے ایک ڈاک بنگلے میں رکھا گیا اور یہ سب اس وقت کے ”مسنگ پرسنز“ تھے۔ افتخار احمد تاری اور ان کے دوست اور ساتھی سابق گورنر پنجاب ملک مصطفی کھر کے پیار میں یہاں قید ِ تنہائی میں رہے کہ انہوں نے اپنے مقاصد و اغراض کے تحت اپنے سیاسی والد ذوالفقار علی بھٹو سے بغاوت کر دی تھی، افتخار تاری تو کب کے اللہ کو پیارے ہوئے، ان کے ساتھی جو حیات ہیں سیاست سے بہت دور ہیں، یہ بھی دُکھ بھری داستان ہے، کبھی موقعہ آیا تو افتخار تاری کی باتیں بھی لکھ ہی دیں گے، ویسے ان کے اس لیڈر کو آج کل دیکھ کر بہت ترس آتا ہے، جو شیر پنجاب کہلاتا تھا۔ گزشتہ دنوں جب اس شیر ملک غلام مصطفی کھر کو انقلابی کنٹینر پر قبلہ ڈاکٹر طاہر القادری کے دائیں یا بائیں سر پر سندھی ٹوپی لئے معصوم اور مظلوم شکل بنائے دیکھا تو بہت ہی ترس آیا، کہاں وہ شیر پنجاب اور کہاں یہ مصطفی کھر اللہ اللہ یہ بھی اُسی کی شان ہے۔

مجبوری ہے، ماضی سے پیچھا نہیں چھڑایا جا سکتا اس لئے چلتے چلتے جب کوئی متعلقہ بات آئی تو ماضی کا بھی کوئی قصہ سامنے آ ہی جاتا ہے۔ چلئے اسے یہاں چھوڑتے اور کشمیر جنت نظیر کی بات کرتے ہیں، جس کا ایک حصہ وادی نیلم بھی ہے، جو اپنے حسن اور سین کی وجہ سے اس کی ایک مثال ہے۔ دریائے نیلم کے دونوں کناروں پر میلوں طویل یہ وادی بہت سرسبز اور قدرتی نظاروں سے مالا مال ہے۔ بدقسمتی تو یہ ہے کہ اِسی وادی کا قریباً30میل سے زیادہ حصہ اس صاف اور اُجلے پانی والے دریا نیلم کے درمیان تقسیم ہو کر دو کناروں پر دو الگ الگ حکومتوں کے زیر کنٹرول ہے۔ شمال کی طرف جاتے مغربی حصے والے کنارے کے پہاڑ اور وادی حکومت آزاد جموں و کشمیر کے پاس ہے، تو سامنے دریا کے مشرقی کنارے پر بھارتی قبضہ گروپ کا کنٹرول ہے۔

مظفر آباد سے روانہ ہوں تو پھر ایک نئی اور بہترین سڑک ملتی ہے، جس پر سفر کرتے سر سبز وادی کے نظارے سے لطف اندوز ہوا جاتا ہے، دریا اپنی روانی سے بہتا اور پرندے چہچہاتے ہیں، صاحبزادے عاصم چودھری اور برخوردار عظمت سمیت بچے پہلی بار اس وادی کا سفر کر رہے تھے اور بہت خوش تھے۔ عاصم چودھری اور عظمت سمیت یہ بچے وادی کاغان اور ناران تک جا کر جھیل سیف الملوک بھی دیکھ آئے ہوئے ہیں، لیکن ادھر آنے کا پہلا اتفاق تھا، وہ سب اش اش کر رہے تھے اور عاصم بار بار کہہ رہا تھا واقعی ”کشمیر جنت نظیر ہے“ غلط تو نہیں کہا جاتا، جب ہم نے ان کو بتایا کہ اس وقت ہم آزاد علاقے میں ہیں، آگے جا کر طویل سفر اپنے حصے میں تو کریں گے، لیکن دوسرے کنارے پر غاصب کا قبضہ ہے اور کبھی کبھار اس طرف بھی فائرنگ کا کوئی واقعہ ہو جاتا ہے۔ بچے حیران تھے اور تفصیل پوچھ رہے تھے،جو بہرحال بتانا پڑی۔

یہ سڑک بھی چینی بھائیوں کا کارنامہ ہے، جنہوں نے مظفر آباد سے کیل تک نئی بنا دی ہے۔ اگرچہ یہاں بھی درمیان میں کہیں کہیں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سفر ذرا دقت سے ہوتا ہے، لیکن مجموعی طور پر سڑک بہترین حالت میں ہے، ہم پہلے دو بار یہاں آئے تھے تو ایسی نہیں تھی۔ مظفر آباد سے قریباً30کلو میٹر یا اس کے لگ بھگ سفر کیا ہو گا کہ دریا پر کام ہوتا نظر آیا۔ یہاں بیراج بنایا جا رہا ہے جو قریباً آدھے حصے تک تعمیر ہو چکا اور اِسی کے ساتھ دریا پار کرنے کے لئے نیا پُل بھی زیر تکمیل ہے۔ اس پروجیکٹ پر کام تیزی سے ہو رہا ہے اور چینی انجینئر اسے اب بروقت مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ یہاں سے دریا کا مغربی کنارا لینا پڑا، تو دائیں طرف نظر پڑتے ہی اس سرنگ کا دہانہ بھی نظر آ گیا، جس میں سے پانی گزرے گا اور پھر دریا جہلم کے ساتھ مل کر پاور ہاﺅس کو چلا کر بجلی پیدا کرے گا۔

کیرن کی طرف سفر کرتے ہوئے راستے میں چیک پوسٹ آئی، جہاں ہمارے فوجی جوان موجود تھے اور وہ ہر گاڑی کو روک کر سفر کرنے والوں کی شناخت کر رہے تھے۔ یہیں ایک مرکز آزاد کشمیر کے محکمہ سیاحت کا بھی ہے جو جانے والوں کے لئے معلومات کا ذریعہ ہے۔ بچوں نے اپنے فوجی جوانوں سے معلومات حاصل کیں، ان کی تعریف کی، ان کو بتا دیا گیا کہ یہاں سے وہ علاقہ شروع ہو گیا ہے جس کے دوسرے کنارے پر غاصبانہ قبضہ ہے۔ جب دریافت کیا، کوئی خطرہ، تو بتایا گیا کبھی کبھار شرارت ہوتی ہے اور جواب بھی دینا پڑتا ہے، ورنہ مجموعی طور پر حالات نارمل ہیں۔ اس کا اندازہ اس امر سے بھی ہوتا تھا کہ نجی ٹرانسپورٹ بھی چل رہی تھی اور سیاح بھی آ جا رہے تھے۔ یوں ہی وادی کا نظارہ کرتے اٹھ مقام اور وہاں سے کیرن پہنچ گئے، جہاں دریا کا پاٹ بہت چوڑا ہو جاتا ہے، ان دنوں پانی کم ہے تو یہ پاٹ بھی چھوٹا نظر آتا ہے۔ بہرحال پورے راستے دونوں طرف خوبصورت مکان (ہٹ نما) نظر آ تے رہے قبضہ والے علاقے کی طرف پہاڑوں کے زیادہ حصے کاٹ کر آبادی بسائی گئی تھی، اس طرف کوئی پختہ سڑک بھی نہیں تھی، البتہ دریا کنارے پہاڑی مٹی والی سڑک ضرور تھی،جو آبادیوں کو آپس میں ملاتی ہے۔ اٹھ مقام اور کیرن کا نظارہ بھی دلکش تھا، سب محظوظ ہوئے۔

بات کو اس دلچسپ حکایت پر ختم کرتے ہیں کہ چیک پوسٹ سے کیرن تک خصوصاً اٹھ مقام سے آگے تین چار پُل اور دو ٹرالی نما(اپروچ) آمدورفت کے ذرائع نظر آئے، ایک جگہ چند لوگ کرایہ لے کر لوگوں کو دریا پار کرا رہے تھے اور ایک پُل پر سے کاریں بھی آ جا رہی تھیں، بچے حیران ہوئے، پیسے لے کر دریا پار کرانے والوں سے پوچھا کہ ادھر کیسے جا رہے ہیں، وہ بولے ادھر کا حصہ بھی آزاد کشمیر میں ہے۔ کاروں والوں سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ سامنے سڑک والے حصے تک ہی آ جا سکتے ہیں۔ بہرحال جو بھی ہے ایک عجیب نظارہ تھا کہ اب ایک دوسرے کنارے والے اس طرح مل لیتے تھے اور آتے جاتے ہوئے بھی لائن آف کنٹرول والی کشیدگی یہاں نظر نہیں آئی۔

مزید :

کالم -