مردِ درویش: پروفیسر غلام اعظم (4)

مردِ درویش: پروفیسر غلام اعظم (4)
مردِ درویش: پروفیسر غلام اعظم (4)

  

بنگلہ دیش میں اپنے قیام کے دوران میرے ممدوح ای میل سے رابطہ فرمایا کرتے تھے۔ ان کی گرفتاری کے بعد یہ سلسلہ بھی منقطع ہوگیا۔ ان کے خلاف جو لچر الزامات لگائے گئے اور جو جعلی ٹریبونل کا ڈرامہ کھیلا گیا، اس نے حسینہ واجد کی گھٹیا ذہنیت اور جماعت اسلامی کے راہ نماﺅں کی عزیمت و عظمت کو پوری دنیا کے سامنے واشگاف کر دیا ہے۔پروفیسر غلام اعظم صاحب کے خلاف فیصلہ فرعونیت کی بدترین مثال تھا۔ بنگلہ دیش کے حالات سے باخبر ہر شخص جانتا ہے کہ یہ کوئی عدالت یا انصاف کا فیصلہ تو ہر گز نہیں تھا۔ جماعت کے ہر راہ نما کے خلاف طے شدہ فیصلوں کا اعلان کیا جاتا رہا ہے۔ یوں تو آج یہ عظےم شخصیت حدیث پاک کی روشنی میں شہادت کے مرتبے پر فائز ہوچکی ہے، مگر ہم ان کے خلاف حکومت کی بھونڈی کارروائیوں کے حوالے سے چند حقائق قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔

پروفیسر صاحب سے ان کی سزا سے قبل ان کے اہل خانہ کی ملاقات ہوئی تو انھوں نے اپنے اہل و عیال سے کہا کہ انھیں اس بات کی کوئی فکر نہیں کہ فیصلہ کیا ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنا معاملہ احکم الحاکمین کے سپرد کر دیا ہے۔ پروفیسر صاحب کے صاحبزادے عبداللہ امان اعظمی جو بنگلہ دیش فوج میں بریگیڈیر تھے اور جن کا مختصر تذکرہ اس سے قبل کی سطور میں آچکا ہے، اپنے والد سے ملاقات کے بعد بڑے پر عزم اور مطمئن تھے۔ انھوں نے کہا کہ میرے والد نے پوری زندگی ایک کھرے انسان اور سچے مسلمان کی طرح گزاری ہے۔ ان کے دامن پہ کسی قسم کا کوئی دھبہ نہیں۔ ان کے بدخواہ منہ کی کھائیں گے اور پروفیسر غلام اعظم کا نام ہمیشہ تاریخ میں جگمگاتا رہے گا۔

عبداللہ امان اعظمی نے کہا کہ خاندان کے دیگر ارکان پندرہ روز بعد اپنے بزرگ سے ملاقات کریں گے۔ آر ٹی این این کے نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے بریگیڈیر اعظمی نے کہا کہ میرے والد کے بارے میں بنگلہ دیش کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ ان کی پوری زندگی اسلام کے غلبے کی جدوجہد اور انسانیت کی خدمت میں صرف ہوئی ہے۔ ان کے خلاف استغاثہ نہ کوئی ثبوت پیش کرسکا ہے، نہ دستاویز۔ سرکاری گواہوں نے اپنی گواہی میں بھی کوئی مستند یا چشم دید شہادت پیش نہیں کی۔ بنگلہ دیش کے عوام میں سے 2393شہریوں نے پروفیسر صاحب کے حق میں گواہی دینے کے لئے خود کو پیش کیا۔ ہماری طرف سے ان تمام لوگوں کے نام اور مکمل کوائف نام نہاد ٹریبونل کے سامنے پیش کیے گئے۔ ٹریبونل نے ان میں سے صرف بارہ افراد کو بطور گواہ پیش ہونے کی منظوری دی مگر عملاً ان میںسے ایک بھی گواہ کو شہادت دینے کی اجازت نہ دی گئی۔ سماعت کے دوران ہر پیشی پر یہ گواہ عدالت میں موجود ہوتے مگر ٹریبونل کے ارکان ہر روز ٹال مٹول سے کام لیتے۔ یہی نہیں بلکہ پیش کردہ فہرست گواہانِ صفائی میں سے ہر شخص کو عوامی لیگی غنڈوں اور سرکاری ایجنٹوں نے شدید دھمکیاں دیں۔ کئی ایک کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے مگر وہ تمام لوگ اپنے موقف پر قائم رہے۔

میڈیا کے سوالوں کے جواب میں اعظمی نے کہا کہ جعلی کیس کا فیصلہ تو سماعت سے بھی قبل کیا جاچکا تھا۔ یہ سارا ڈرامہ ایک ڈھونگ سے زیادہ کچھ نہ تھا۔ ہم ہر قانونی راستہ اختیار کریں گے مگر اس حکومت سے کسی انصاف کی توقع عبث ہے۔ انصاف کے فیصلے اس عدالت میں ہوں گے جو روز حشر لگے گی۔ ہم نہ جھکیں گے، نہ بھیک مانگیں گے۔ “ یہ بات بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ اپنی گرفتاری اور جھوٹے الزامات پر پروفیسر صاحب نے ایک ایمان افروز تحریر لکھی جو بنگلہ کے علاوہ دنیا کی دیگر تمام اہم زبانوں میں بھی شائع ہوچکی ہے۔ اس تحریر کو ادارہ معارف اسلامی، لاہور نے اردو زبان میں مارچ 2012ءمیں بعنوان ”بنگلہ دیش میں ظلم کی داستان“ شائع کیا۔ 16صفحات کا یہ کتابچہ اپنی مثال آپ ہے اس کے آغاز میں بنگلہ زبان میں یہ نوٹ لکھا گیا تھا: ”11جنوری2012ءکو ”انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل“ ڈھاکہ نے پروفیسر غلام اعظم کی ضمانت کی درخواست خارج کردی اور انھیں گرفتار کر کے جیل بھجوا دیا۔ ٹربیونل کے سامنے پیش ہونے سے پہلے انھوں نے قوم کے نام اپنا ایک تحریری پیغام، اپنے معاون خصوصی جناب نظم الحق کے سپرد کرتے ہوئے کہا کہ اگر مجھے گرفتار کرلیا جائے تو میرا یہ پیغام پریس کے ذریعے قوم تک پہنچا دیا جائے۔ “

15جولائی2013ءکو جو ظالمانہ فیصلہ سنایا گیا، وہ کوئی غیر متوقع نہ تھا۔ دنیا بھر کے ماہرین قانون، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ہر ملک کی اہم شخصیات ان نام نہاد جنگی عدالتوں کو جعلی قرار دے چکے تھے۔ 15 جولائی 2013ءکو پروفیسر صاحب کو91سال کی عمر میں 90سال قید سنائی گئی۔ پروفیسر صاحب کئی امراض میں مبتلا تھے اور کبر سنی کی بھی آخری حدود میں تھے مگر ظالموں کو نہ خوفِ خدا ہے، نہ اپنی عاقبت کی ذرا برابر فکر! خدائے دیرگیر بھی سب کچھ دیکھ رہا ہے اور وہ اپنے عادلانہ فیصلے روز محشر سنائے گا۔

پروفیسر صاحب 23 اکتوبر 2014ءکو خالقِ حقیقی سے جاملے۔ ان کی وفات شہادت ہے۔ امام ابو حنیفہؒ بھی اسی طرح جیل میں ظالم حکمرانوں کی انتقامی کارروائیوں کے نتیجے میں فوت ہوئے تھے اور امام ابن تیمیہؒ نے بھی نظر بندی کے دوران دمشق کے شاہی قلعے میں وفات پائی تھی۔ یہ سب عظیم شخصیات شہادت کے مقام پر فائز ہیں۔ حضرت ابوہریرہؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ سے پوچھا : ”تم شہیدکس کو کہتے ہو؟“صحابہؓ نے عرض کیا : ”یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جو اللہ کے راستے میں قتل ہوجائے وہ شہید ہے۔“ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو میری امت کے شہدا کی تعداد تھوڑی ہوگی۔“ اس پر صحابہؓ نے عرض کیا ”یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! پھرآپ بتائیں کہ شہید کی تعریف کیا ہے؟ “ آپ نے فرمایا: ”جو اللہ کے راستے میں قتل کردیا گیا وہ شہید ہے اور جو اللہ کے راستے میں موت سے ہمکنار ہوا، وہ بھی شہید ہے۔“ (صحیح مسلم، باب: بیان الشہدائ، حدیث3631)

[پروفیسر غلام اعظم صاحب کے تحریر کردہ کتابچے سے کچھ اہم حصے اور بعض دیگر ذاتی یادداشتیں ان شاءاللہ اگلی قسط میں پیش کی جائیں گی]

مزید :

کالم -