ہم اپنی قوم کو کیا بنا رہے ہیں

ہم اپنی قوم کو کیا بنا رہے ہیں
ہم اپنی قوم کو کیا بنا رہے ہیں

  

انسان کا بچہ جو کچھ دیکھتا اور سنتا ہے اس کا اثر لیتا ہے، یہی اثر لینا یا متاثر ہونا ہی تعلیم ہے، جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تعلیم صرف استاد دیتا ہے یا تعلیم صرف وہی ہے جو ہم درسگاہ یا مدرسہ میں ہی حاصل کرتے ہیں وہ غلطی پر ہیں، بچے کے ذہنی اور دماغی قویٰ جونہی کچھ سننے اور جاننے کے قابل ہوتے ہیں وہ سیکھنا شروع کر دیتا ہے، اسی لئے تو کہتے ہیں کہ ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہے اور ماں ہی اس کی سب سے پہلی معلمہ ہے، گھر، گلی محلہ اور بستی یا شہر بھی انسانی بچے کی درسگاہیں ہیں، آگے بڑھیں تو وطن اور جہان دنیا بھی درسگاہ کا کردار ادا کرتے ہیں، جس طرح شیکسپیئر نے کہا تھا کہ سارا جہان ایک سٹیج ہے اور ہر فرد بشر ایک اداکار ہوتا ہے، اسی طرح یہ بھی صحیح بلکہ زیادہ صحیح ہے کہ بچے کے لئے تمام بڑے استاد کی حیثیت رکھتے ہیں اور وہ ہر بڑے سے سیکھتا ہے۔

آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ تعلیم دو طرح کی ہوتی ہے، ایک باقاعدہ یا ریگولر تعلیم ہے جو پابندی سے سیکھی یا حاصل کی جاتی ہے مگر تعلیم کی ایک قسم بے قاعدہ بھی ہے جو ہم باقاعدگی اور پابندی سے حاصل نہیں کرتے، یہ تعلیم خود دیکھنے اور سننے سے حاصل ہو جاتی ہے، گھر اور ہر ماحول سے انسان سیکھتا ہے بلکہ آج تو ذرائع ابلاغ خواہ سننے سنانے والے ہوں یا دیکھنے دکھانے والے ہوں سب انسان کو سکھاتے اور بناتے یا بگاڑتے ہیں، تعلیم کی اسی بے قاعدہ قسم کو پرائیویٹ تعلیم کہا جاتا ہے! آواز اور سکرین آج بیک وقت کتاب اور استاد کا کردار ادا کر رہے ہیں!

آج انسان کا بچہ مسلسل اور زیادہ وقت کے لئے اسی پرائیویٹ تعلیم کی زد میں رہتا ہے، درسگاہ کے لئے تو صرف چند گھنٹے رہ جاتے ہیں اس لئے پرائیویٹ تعلیم کے ان تمام ذرائع کو پاکیزہ اور صاف ستھرا رہنا چاہئے، گلی محلے اور ملک میں ان تمام استادوں یا ذرائع کو، خصوصاً ماں باپ، لیڈران قوم اور ذرائع ابلاغ کو نئی انسانی نسل پر ترس کھاتے ہوئے اپنے فرائض انسانی یا کردار کی اہمیت کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے، آج کے لیڈر، سیاسی، دینی یا معاشرتی، تو اپنی اپنی جگہ تاثیر کے وسیع دائرے رکھتے ہیں اس لئے اس ضمن میں ان کی ذمہ داریاں بھی دو چند ہو جاتی ہیں، ان کی ہر بات قوم کے کردار پر اثر انداز ہوتی ہے، یہی لیڈر ہیں جو اپنی اپنی قوم کے معلم ہیں، وہی اپنی قوم کو سنوار سکتے ہیں، قوم کے بگاڑ کے بھی وہی ذمہ دار ہوتے ہیں، وہ لیڈر بڑا خوش نصیب ہوتا ہے جو اپنے قول و عمل اور کردار و گفتار سے قوم کی کردار سازی کو ہر حال میں ملحوظ خاطر رکھتا ہے، ان کے منہ سے نکلا ہوا ہر لفظ اور اس کا اٹھتا ہوا ہر قدم قوم کی تعمیر اور سیرت سازی کے کام آتا ہے، اسی طرح وہ قوم بھی بڑی سعادت مند ہے جسے زندگی کے ہر میدان میں ایسے لیڈر میسر آ جاتے ہیں! آج تک کوئی قوم لیڈر کے بغیر اپنے بلند مقام اور منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکی، اگر فیصلہ کن گھڑی میں ہمارے لئے قائد اعظم محمد علی جناحؒ نہ آتے تو ہمارے لئے ”منزل مراد ”تک پہنچنا نا ممکن تھا!

گزشتہ دنوں ہمارے بعض لیڈروں نے جو رویہ اپنایا، جو لب و لہجہ اپنایا اور میڈیا کے ذریعہ ان کی زبان اور انداز گفتگو نے قوم کے ذہنوں کو بے حد پراگندہ کر دیا ہے! قوم اور خصوصاً نوجوان نسل کا مزاج بگاڑ دیا ہے، بول چال اور لب و لہجہ میں شدید تلخی آ گئی ہے اور تحمل و برداشت سے سب بیگانے ہو گئے ہیں ۔ اس لئے اس روش کی فوری اصلاح کی ضرورت ہے! تقریباً پون صدی سے ہماری قوم بڑے تلخ گھونٹ پینے پر مجبور رہی ہے! ہماری قوم میں کوئی کمی نہیں ہے، اسے صرف ایسے لیڈر درکار ہیں جو زخم لگانے یا زخموں پر نمک پاشی کے بجائے مرہم لیکر آئیں ایسی مرہم جو پیار و محبت، تحمل و برداشت اور اخلاق نبوی سے تیار ہوئی ہو! بیزاری اور دل آزاری کے بجائے دلجوئی اور دلداری کی زبان درکار ہے´ پاکستانی قوم کو اللہ تعالیٰ نے صبر و ہمت اور حوصلہ مندی کے ساتھ ساتھ فراخ دلی اور ایثار کے جذبے سے نوازا ہے جو قوم ستر سال سے موقع پرستوں کے زخم سہہ رہی ہے، بیرونی دنیا سے آکر چور دروازوں سے اقتدار پر قابض ہونے والوں کے سنگدلانہ مظالم برداشت کر رہی ہے، وڈیرہ شاہی اور نوکر شاہی کی ٹھوکروں کے باوجود بھی زندہ و توانا ہے۔ اس میں زندگی اور ترقی کے لئے آگے بڑھنے والے جوہر قابل کی کوئی کمی نہیں ہو سکتی اقبال جیسا دانا و بینا شاعر اپنے مشاہدات و تجربات کی روشنی میں جس قوم کے جوہر قابل اور صلاحیت کا اعلان کر دے اور اس کی زرخیز زمین کو صرف ذرا سی نمی کا محتاج قرار دے اس کی اہلیت اور جوہر قابل کا کوئی اندازہ کر سکتاہے؟

وہ قوم کتنی طاقتور ہو گی جسے داخلی فرقہ بندی ا ور نسل پرستی کے سانپ بھی ڈس رہے ہوں مگر اس کے ساتھ ساتھ بیرونی دنیا کے سازشی اور بد خوا قسم کے چکر دینے اور مٹانے کے درپے ہوں مگر پھر بھی وہ سر اٹھا کر زندہ رہنے کا عزم لئے ہوئے ہو! اللہ کے فضل سے پاکستان دنیا کا مضبوط ترین ملک ہے اور اس میں بسنے والے ایک زندہ جاوید قوم ہیں، صرف کسی جناحؒ کی ضرورت ہے!!

مزید :

کالم -