2018ء تک بہتر پاکستان۔۔۔ لیکن کیسے؟

2018ء تک بہتر پاکستان۔۔۔ لیکن کیسے؟

  

وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ عوام2018ء میں بہتر پاکستان دیکھیں گے، موٹرویز سمیت بڑے انفراسٹرکچر پراجیکٹس موجودہ حکومت کے دور میں مکمل کئے جائیں گے، جس سے ملک میں مواصلات کا نیٹ ورک بہتر ہو جائے گا اور عوام میں خوشحالی آئے گی خصوصاً دور دراز علاقوں کے لوگوں کا معیارِ زندگی بلند ہو گا، وزیراعظم نے دھرنا نشینوں کو بھی دعوت دی کہ وہ آئیں اور (حکومت سے) مل کر کام کریں۔ وزیراعظم کا خیال تھا کہ بڑی سطح کے انفراسٹرکچر پراجیکٹس معیشت کی ترقی اور فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، ایسے منصوبے سماجی اور معاشی خوشحالی کے ضامن ہوتے ہیں، کیونکہ ان سے بہتر مواقع میسر آتے ہیں اور گراس روٹ لیول پر بنیادی سہولتوں کی فراہمی یقینی ہو جاتی ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ منصوبوں کی تعمیر میں شفافیت اور عالمی معیار کو یقینی بنایا جائے، وزیراعظم نے صوبائی وزرائے اعلیٰ کو ایک خط بھی لکھا ہے، جن میں اُن سے کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومتیں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے کے بعد اس کے اثرات عوام تک پہنچائیں، وزیراعظم کا کہنا ہے کہ مُلک معیشت کی بحالی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے۔

وزیراعظم محمد نواز شریف جب پہلی بار وفاق میں حکمران بنے تھے تو انہوں نے لاہور راولپنڈی موٹروے جیسے منصوبوں کا آغاز کر دیا تھا، اس طرح کے میگا پراجیکٹس ظاہر ہے کثیر سرمائے سے مکمل ہوتے ہیں اور پاکستان جیسے محدود وسائل کے حامل ملک میں ان لوگوں کی کمی نہیں، جو ایسے پراجیکٹس کو سرمائے کے ضیاع سے تعبیر کرتے ہیں، چنانچہ جونہی پہلی موٹروے کی تعمیر کا آئیڈیا سامنے آیا اس پر مختلف پہلوؤں سے نکتہ چینی کا سلسلہ شروع ہو گیا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نکتہ چینی کا طوفان بڑھتا چلا گیا، اس وقت کی اپوزیشن لیڈر بے نظیر بھٹو نے بھی جی کھول کر اس منصوبے کو ہدفِ تنقید و ملامت بنایا۔ ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں تھی جو یہ تجویزیں دیتے تھے کہ اس کی بجائے جی ٹی روڈ کو بہتر کیا جاتا تو کم اخراجات سے زیادہ بہتر نتائج نکلتے۔ یہ بھی کہا گیا کہ اس رقم سے اتنے سکول بن سکتے تھے یا اتنے ہسپتال بنائے جا سکتے تھے۔ یہ الزام لگانے سے بھی دریغ نہ کیا گیا کہ اس منصوبے میں کمیشن کھایا جا رہا ہے، لیکن نواز شریف نے نکتہ چینی کے باوجود اس پراجیکٹ پر کام جاری رکھا تاہم ابھی یہ منصوبہ مکمل نہیں ہوا تھا کہ اُن کی پہلی حکومت کو صدر غلام اسحاق خان نے برطرف کر دیا۔ سپریم کورٹ نے اگرچہ قومی اسمبلی اور حکومت بحال کر دی، لیکن مخالف صدر اور مخالف صوبائی حکومتوں میں گھری ہوئی یہ بحال شدہ حکومت زیادہ دن نہ چل سکی اور وزیراعظم کو مستعفی ہونے پر مجبور ہونا پڑا، اُن کی حکومت کے خاتمے کے بعد نگران دور میں موٹروے کی تعمیر کا کام رُکا رہا، الیکشن کے نتیجے میں بے نظیر بھٹو دوبارہ وزیراعظم بن گئیں تاہم اُن کے دور میں اگرچہ کام ہوتا تو رہا،لیکن نسبتاً سست رفتاری سے،البتہ ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد نواز شریف دوبارہ برسرِ اقتدارآئے، تو انہوں نے کام کی رفتار تیز کر دی اور اپنی دوسری حکومت ختم ہونے سے پہلے اس کا افتتاح بھی کر دیا، اب اس موٹروے پر ٹریفک رواں دواں ہے اور اسلام آباد پشاور موٹروے اور پنڈی بھٹیاں فیصل آباد موٹروے کی تکمیل کے بعد اس کی افادیت دوچند ہو گئی ہے، اب اسلام آباد پشاور موٹروے کے بُرہان انٹرچینج سے حویلیاں (ایبٹ آباد) تک موٹروے بنانے کا منصوبہ ہے، جس پر کام جلد شروع ہو گا، فیصل آباد سے ملتان تک بھی موٹروے زیر تعمیر ہے اور اس کا گوجرہ تک کا حصہ تقریباً تیار ہے، جس کا افتتاح بھی جلد متوقع ہے، اِسی طرح نالوچی پُل مظفر آباد کا کام بھی مکمل ہو چکا ہے۔ کراچی حیدر آباد موٹروے کی تعمیر کا کام بھی جلد شروع ہونے والا ہے۔

دنیا میں کوئی کام سرمایہ خرچ کئے بغیر نہیں ہوتا اور جتنا بڑا منصوبہ ہوتا ہے اتنا ہی زیادہ اخراجات کا بھی طلب گار ہوتا ہے، لیکن ترقی کے منصوبوں کی افادیت کا اگر اخراجات سے موازنہ کیا جائے تو افادیت کا پلڑا یقیناًبھاری ہوتا ہے، اس پہلو کو نظر انداز کر کے محض اخراجات کو پیشِ نظر رکھ کر ان پر نکتہ چینی کرتے چلے جانا قرین انصاف نہیں ہوتا۔ یہ سارے منصوبے جن کا ذکر اوپر آیا ہے اگر بروقت مکمل ہو گئے تو عوام کے لئے ان کی افادیت کھل کر سامنے آ جائے گی،جو لوگ لاہور راولپنڈی موٹروے کی تعمیر پر اعتراضات کرتے رہے ہیں وہ بھی اب اس بات کے قائل ہو گئے ہیں کہ اس کی وجہ سے آمدو رفت میں کتنی آسانیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ اسلام آباد پشاور موٹروے کے بعد لاہور اور پشاور کے درمیان سفر کا وقت تقریباً آدھا رہ گیا ہے۔ مزید براں اس موٹروے کی سٹرٹیجک اہمیت بھی ہے، موٹروے کے سات مقامات ایسے ہیں جہاں بڑے جنگی طیارے ایمرجنسی میں آسانی کے ساتھ لینڈ کر سکتے ہیں۔ یوں اس موٹروے نے آمدورفت میں ہی آسانیاں پیدا نہیں کیں، مُلکی دفاع میں بھی بالواسطہ کردار ادا کیا ہے۔

میگا پراجیکٹس اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں کی اہمیت اپنی جگہ، تاہم غریب عوام کے مسائل کے حل پر بھی اتنی ہی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں معتدبہ حد تک کم کرنے کے بعد حکومت اس طرف بھی متوجہ ہوئی ہے کہ ان کا فائدہ عوام لناس کو پہنچے اور بار برداری کے اخراجات کم ہونے کی وجہ سے اشیائے صرف سستی ہونے کی امید ہے، اِسی طرح فرنس آئل کی قیمتیں کم ہونے کی وجہ سے اس ایندھن سے بجلی بھی سستی تیار ہو گی اور توقع ہے کہ اس کا طویل المدت اور قلیل المدت فائدہ عوام تک پہنچے گا، سستی بجلی بننے کا فائدہ تو عوام کو کچھ مدت گزرنے کے بعد ہی مل سکے گا، البتہ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں ریلیف اِسی ماہ کے بلوں میں دیا جا سکتا ہے۔ توانائی کی ضروریات کے منصوبے ہماری اولین ترجیح ہونی چاہئیں، کیونکہ اگر صنعتوں کو ضرورت کے مطابق توانائی (بجلی) میسر نہیں ہو گی تو نہ صرف صنعتی پیداوار کم ہو جائے گی، بلکہ بیروزگاری میں بھی اضافہ ہو گا اور اس طرح کی بیروزگاری سے محنت کش طبقہ زیادہ متاثر ہوگا، اس لئے دیکھا جائے تو توانائی کے بڑے منصوبے بالواسطہ طور پر غربت کم کرنے کے ہی منصوبے ہیں، دنیا میں یہ بات تسلیم کی جاتی ہے، کہ جو سائنس دان اشیائے خوراک کی پیداوار بڑھانے کے لئے ریسرچ کرتے اور ان کی اس ریسرچ کا عملی مظاہرہ جب کسان پیداوار بڑھا کر کرتے ہیں، تو وہ بنیادی طور پر بھوک اور غربت کم کرنے میں ہی اپنا کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں، اس لئے کہ اگر پیداوار بڑھے گی تو اس کے نتیجے میں بھوک اور غربت لازماً کم ہو گی، اس لئے جس منصوبے سے بیروزگاری کم ہوتی ہے اور پیداوار بڑھتی ہے، وہ منصوبہ بالواسطہ غربت اور بھوک کم کرنے کا ہی باعث بنتا ہے۔ کسی موٹروے کے نتیجے میں اگر آمدورفت میں آسانیاں پیدا ہوتی ہیں اور ان پر آسان اور سستا سفر کر کے لوگ اپنے روزگار کے مقام پر بروقت پہنچتے ہیں تو یہ بالواسطہ طور پر غریب عوام کی ہی خدمت ہے۔

توانائی کے منصوبوں کے بارے میں البتہ یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ صرف ایسے منصوبوں کو ترجیح ملے جو سستے ہوں تاکہ عوام کو تدریجاً سستی بجلی ملتی رہے۔اگر مہنگی بجلی تیار ہو گی تو لامحالہ حکومت صارفین کو مہنگے داموں ہی فروخت کرے گی، اس لئے حکومت کو بڑے ڈیم بنانے پر بھی توجہ دینی چاہئے۔ یہ ایسے میگا پراجیکٹ ہوں گے، جو مُلک کی خوشحالی میں زیادہ حصہ ڈالیں گے، توقع کرنی چاہئے کہ نواز شریف کے ویژن کے مطابق2018ء تک بہتر پاکستان عوام کو نظر آئے گا۔ اگر انتخابات پہلے نہیں ہوتے تو یہ انتخابات کا سال بھی ہے اور عوام کو یہ فیصلہ کرنے میں آسانی رہے گی کہ انہوں نے اگلی مدت کے لئے کن لوگوں کو منتخب کرنا ہے؟

مزید :

اداریہ -