امریکہ نے خلائی راکٹ گرنے کے واقعے کی تحقیقات شروع کردیں

امریکہ نے خلائی راکٹ گرنے کے واقعے کی تحقیقات شروع کردیں

  

واشنگٹن(این این آئی)امریکی حکام نے ورجن گیلاکٹک نامی خلائی راکٹ کے گرنے کے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ،ورجن گلیکٹک سپیس شپ دوم نامی کرافٹ کیلیفورنیا کے صحرائے موہاوی میں تجرباتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہو گیا تھا جس کے نتیجے میں پائلٹ شدید زخمی اور معاون پائلٹ ہلاک ہوگیا۔نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کی ٹیم بھی صحرائے موہاوی پہنچی جبکہ ورجن گروپ کے سربراہ سر رچرڈ برینسن نے کہا کہ وہ یقینی طور پر اس حادثے کے بارے میں یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا غلط ہوا۔اس حادثے میں ہلاک ہونے والے پائلٹ کا نام مائیکل ایلزبری بتایا گیا ہے جن کی عمر 39 سال تھی جبکہ ا±ن کے ساتھی جو اس حادثے میں بچ گئے تھے ان کے نام کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی ہے۔سر رچرڈ برینسن نے موہاوی کے فضائی اور خلائی اڈے پر جہاں یہ جہاز تیار کیا گیا تھا بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کسی نے بھی خلائی سفر میں درپیش خطرات کا غلط اندازہ نہیں لگایا تھا۔ورجن نے امید ظاہر کی تھی کہ وہ خلائی سفر کا کمرشل طور پر آغاز 2015 تک کر سکے گی۔

 اور اس نے پہلے ہی 700 کے قریب مسافروں کی بکنگ کر رکھی ہے جو اس سفر پر جانا چاہتے ہیں جن میں سر رچرڈ برینسن بھی شامل ہیں جنہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ پہلے سفر میں خود شریک ہوں گے۔ سر رچرڈ برینسن نے کہا کہ یہ ہمارے تجرباتی پائلٹس کا حق ہے کہ ہم جانیں کہ کیا غلط ہوا اور جب ہمیں پتا چلے گا اگر ہم اس خامی کو دور کر سکے تو ہم اسے کریں گا تو یقینی بنائیں گے کہ یہ خواب حقیقت کا روپ دھارے۔انہوں نے یقین دلایا کہ ان کی کمپنی اور اس کی اشتراکی کمپنیاں ’کئی سالوں سے تجربات کر رہی تھیں اور تحفظ ہماری سب سے اولین ترجیح تھی۔

مزید :

عالمی منظر -