اپنوں میں بیگانہ ۔۔۔مصباح

اپنوں میں بیگانہ ۔۔۔مصباح
اپنوں میں بیگانہ ۔۔۔مصباح

  

اتوار کی صبح دبئی سے ابوظبی روانگی سے پہلے بزرگ صحافی قمر احمد بتارہے تھے کہ کرکٹ کوریج کے لیے نگری نگری گھومنے کا عالمی ریکارڈ ان سے منسوب ہے۔ قمر بھائی کی زبانی کرکٹ کی اور بھی کئی دلچسپ داستانیں سنتے ہوئے جب ہم شیخ زید اسٹیڈیم پہنچے تو کسی کے سان گمان میں بھی نہ تھا کہ وہاں مصباح الحق ایک نئی دیو مالائی داستان رقم کرنے والے ہیں۔

 جنوری 2012میں یہی ابوظبی کا اسٹیڈیم تھا جب انگلینڈ کے خلاف مصباح کو سر جھکا ئے بیٹنگ کرتے دیکھ کر ان پر ایک ٹی وی چینل نے،، ٹک ٹک،، کی پھبتی کسی ۔ چند روز پہلے ایک اماراتی اخبار نے بھی پاکستانی کپتان پر یہی طنز کیا ۔ یاداشت پر اور زیادہ زور دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ تین ہفتے پہلے شیخ زید اسٹیڈیم کے ہی ڈریسنگ روم میں چھوٹے بڑوں کے تیور دیکھ کر اور کرائے کے مبصرین کے تبصرے سن کر مصباح اس قدرتنہائی کا شکار ہوئے کہ تیسرے ون ڈے سے خود کو ہی ڈراپ کردیا ۔ اسکا عالمی کپ کھیلنا دیوانے کا خواب لگ رہا تھا اور عالمی کپ2015 میں شاہد آفریدی کو کپتان بنانے کی کمرشل مہم کامیاب ہوتی نظر آرہی تھی۔۔۔۔ لیکن کہتے ہیں سیاست میں ایک ہفتہ کافی ہوتا ہے۔ یونس خان کے دبئی پہنچنے کے بعد پاکستان کرکٹ کی سیاست میں بھی آسمان نے رنگ بدلنے میں دیر نہیں لگائی۔ پھر عرب کی سرزمین پر اتوار کو موسم خزاں کی دوپہر چشم فلک نے وہ منظر بھی دیکھا کہ وہی راندہ درگاہ مصباح ہر آنکھ کا تارا بن چکا تھا۔

 جب یونس خان آوٹ ہوئے تو پاکستان کی برتری 450رنز ہو چکی تھی اور ہر صاف لگ رہا تھا کہ اننگز ڈیکلیر کر دی جائے گی تاکہ لنچ سے پہلے میسر چوبیس منٹ میں آسٹریلیا کی ایک آدھ وکٹ ہاتھ لگ سکے۔ لیکن کھانے سے پہلے آسٹریلوی باولرز اور مصباح الحق،،حاسدین ،،کو منہ کی کھانا تھی۔

خلیجی ریاستوں میں گز شتہ روز جس طوفان کی پیشگوئی کی تھی اسکا نام کترینہ ،سونامی یا نیلوفر نہیں بلکہ مصباح تھا۔

 پاکستانی کپتان نے انگریز امپائر سے گارڈ لینے کے بعدا سٹیو سمتھ کی پو یلین اینڈ سے فل ٹاس کو باولر کے سر سے پویلین کے سامنے ہی پہنچا دیا۔ فلمی دنیا کی طرح کرکٹ کی کہانیاں بھی صرف ہیرو زپر اکتفا نہیں کرتیں ۔ پیٹر سڈل اگلی ہی گیند پر کیچ گراکر ولن بن گئے۔اسکے بعد مصباح الحق نے منگولوں کی طرح آسٹریلوی باولنگ کو تاراج کرنا شروع کر دیا۔ اس نے سمتھ سے اسٹارک تک ہر ایک کے ساتھ وہی سلوک کیا جو چنگیز خان نے روم سے اسود تک کیا تھا۔

میں نے نو سال پہلے شاہد آفریدی کو بھارت کے خلاف بنگلور ٹیسٹ میں 26 گیندوں میں تیز ترین نصف سینچری کا پاکستانی ریکارڈ بناتے دیکھا تھا گز شتہ روز لنچ سے پہلے کی آخری گیند کو مڈوکٹ کی طرف کھیل کر مصباح نے ایک ہی وار میں آفریدی اور جاک کیلس دونوں کو قصہ پارینہ بنا دیا ۔ یہاں بات بنگلور پر ختم نہ ہونا تھی۔ دوسرے سیشن میں مائیکل کلارک باولنگ کے محاز پر فاسٹ باولنگ کے اپنے دو بڑے سورما وں کو لے آئے لیکن وہ بھی کپتان کاکچھ نہ بگاڑ سکے۔۔۔۔پھر وہ ناقابل یقین لمحہ آیا جب بیٹنگ کے بے تاج بادشاہ ویوین رچرڈز کا 28سالہ پرانا عالمی ریکارڈ برابر ہو گیا۔ ۔۔۔۔ 56گیندوں میں 5چھکے اور گیارہ چوکوں کی مدد سے بننے والی یادگار سینچری نے گراونڈ میں موجود ہزاروں پاکستانیوں کا سر پربتوں سے بھی بلند کر دیا تھا۔

 مصباح کو جارحانہ بیٹنگ کی وجہ سے 2007کے ٹونٹی ٹونٹی عالمی کپ میں جگہ ملی تھی مگر کپتان بننے اور محمد یوسف کی ریٹائرمنٹ نے انہیں صورتحال کا قیدی بنا دیا۔ وہ بے لوث کھلاڑی رہا ہے اسے90فیصد میچوں میں بار تین مہرے جلد پٹ جانے پر بیٹنگ کے لیے آنا پڑا۔ ٹیم کو ذمہ داری کے ساتھ بچانے کی اس عادت کو مصباح کی کمزوری بنا کر دنیا کے سامنے سوچے سمجھے منسوبے کے تحت پیش کیا جانے لگا اور یہاں تک اسے بیزاری کی علامت بنا دیا گیا۔ سات سمندر پار کرکٹ سمجھنے والے مصباح الحق کو پہلے بھی پاکستان کرکٹ کا دیوتا مانتے تھے ۔ گارڈین اور ٹیلی گراف نے ڈھائی سال پہلے لکھا تھا کہ،، مصباح پاکستان کرکٹ کا نجات دہندہ اور اسپاٹ فکنسگ قضیے کے بعد کا سب سے روشن کردار ہے،،۔

مگر اسے اپنوں نے ہمیشہ رسوا کرنے کی کوشش کی اور بقول راز مرادآبادی

مجھے اپنوں نے بیگانہ سمجھا برسوں

 خیر خدا کے ہاں بھی دیر ہے اندھیر نہیں۔ ابوظبی ٹیسٹ میں دونوں اننگز مصباح اس وقت بیٹنگ کے لیے آئے جب برسوں بعد ٹیم پر کوئی دباو نہ تھا اور جو لاوا انکے اندر پک رہا تھا وہ جوالا مکھی کی طرح تمام عالم کے سامنے آگیا۔ ٹیسٹ کرکٹ کی 137سالہ تاریخ کی تیز ترین بیٹنگ کے ریکارڈز اب اسکی ملکیت ہیں۔آج کرکٹ کے کھیل کی اصلیتوں سے ناواقف اسے ٹک ٹک کہنے والے نادان اپنے الفاظ نگل رہے ہیں۔۔۔۔

آسٹریلیا کی ٹیم کلین سویپ کے دہانے پر پہنچ چکی ہے ر اور ابوظبی اسٹیڈیم کے پریس بکس میں بیٹھے ہوئے مجھے ریڈیو پاکستان پر نظام دین کا گونجنے والا وہ فقرہ یاد آرہا ہے کہ ،، بونا پھر بھی بونا ہے خواہ وہ پربت کی چوٹی پر ہو۔ دیوتا پھر بھی دیوتا ہے خواہ وہ پاتال کی آخری تہہ میں ہو،،۔

مزید :

کالم -