واہگہ بارڈر :پرچم اتارنے کی تقریب کے بعد خودکش دھماکہ ،60شہید 150زخمی

واہگہ بارڈر :پرچم اتارنے کی تقریب کے بعد خودکش دھماکہ ،60شہید 150زخمی

  

   لاہور(رپورٹنگ ٹیم / زاہدعلی خان ،ملک خیام رفیق ، بلال چودھری ،بشیر احمد بھٹی )واہگہ بارڈر پر قومی پرچم اتارنے کی تقریب کے بعد خود کش دھماکے میں تین رینجرز اہلکاروں سمیت 60افراد شہید اور قریباََ ڈیڑھ سو زخمی ہو گئے ،دھماکہ اس وقت ہوا جب تقریب ختم ہونے پر شرکاءوہاں سے باہر آ رہے تھے ، دھماکے کی ذمہ داری کالعدم دہشتگرد تنظیموں جماعت الاحرار اور جند اللہ نے قبول کر لی ہے ، اس کارروائی کو آپریشن ضرب ِ عضب کا ردِ عمل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اصل نشانہ رینجرز اہلکار تھے ۔ تفصیل کے مطابق اتوار کی شام ہزاروں لوگ واہگہ بارڈر پر قومی پرچم اتارے جانے کی روایتی تقریب میں شریک ہوئے ، تقریب ختم ہونے کے بعد قریباََ ساڑھے پانچ بجے وہ گھروں کو جانے لگے تو زور دار دھماکہ ہو گیا ، ڈی جی رینجرز کے مطابق دہشت گرد وں کا نشانہ فورسزتھےں لےکن سخت سےکےورٹی کی وجہ سے وہ اندر جا نے مےں کا مےاب نہ ہو سکے۔ دھماکہ کے بعد ہر طرف انسانی اعضاءبکھرے پڑے تھے ۔دھماکا زیرو پوائنٹ سے ڈیڑھ کلو میٹر اندر کی جانب عین اس وقت ہوا جب واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی تقریب اختتام پذیر ہو ئی۔تقریب میں لوگوں کی بڑی تعداد شریک تھی۔ آئی جی پنجاب نے50 افراد کے شہیدہونے کی تصدیق کر دی ہے، 150سے زائد افراد زخمی ہو ئے ہیں، زخمیوں میں رینجرز کے 3اہل کارانسپکٹر رضوان،حوالدار شبےراور لا ئس نائےک سلطان بھی شامل ہیں۔واقعے میں شہید ہونیوالوں کی میتوںاور زخمیوں کوگھرکی ،سروسزاورشالےمار ہسپتال منتقل کر دےا گےااورلاہور کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ واہگہ بارڈر کے حوالے سے دہشت گر دی کی رپورٹ تھی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی رےسکےو کی امدادی ٹےمےں مو قع پر پہنچ گئےں۔جائے وقوعہ پر ڈی جی رےنجر ،ڈی جی رےسکےو سمےت دےگر اعلیٰ افسران بھی پہنچ گئے ۔لا ہور کے ہسپتالوں کی انتظامےہ نے شہرےوں سے اپےل کی کہ جلد از جلد خون کے عطےات دئےے جا ئےں تاکہ قےمتی جا نو ں کو بچاےا جا سکے ۔گھرکی ہسپتال لا شوں اور زخمےوں سے بھر گےا جبکہ دوسر ے نمبر پر سب سے زےادہ زخمی سروسز ہسپتال لا ئے گئے جن مےں سے متعددزندگی کی بازی ہا ر گئے۔آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا نے بتایا کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب لوگ پریڈ دیکھ کر باہر آ رہے تھے۔ابتدائی معلومات کے مطابق 18 سے 20 سال کی عمر کے خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔آئی جی پنجاب نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دھماکے میں 15 کلو بارودی مواد استعمال ہوا ہے۔ڈی جی رینجرز پنجاب نے تصدیق کی ہے کہ دھماکہ پارکنگ میں اس وقت ہوا جب لوگ پریڈ دیکھ کر باہر آ رہے تھےاور یہ دھماکہ تجارتی سامان کے ٹرکوں کے قریب ہوا۔ ڈی جی رینجرز پنجاب طاہر خان نے کہا کہ یہ ہماری کامیابی ہے کہ خود کش بمبار اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکا لیکن اس نے عوام کا باہر آنے کا انتظار کیا۔طاہر خان کے مطابق 3 رینجرز اہلکار شہید جبکہ 5 زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکے والا مقام پریڈ کی جگہ سے 500 گز دور ہے، اور دھماکے کے مقام پر اس وقت تقریباً 150 افراد موجود تھے۔خود کش بمبار کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں خودکش بمبار کے جسم کے اعضا مل گئے ہیں جن میں سر ، بازو اور ٹانگیں شامل ہیں۔دھماکے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق بارودی مواد میں بال بیرنگ کثیر تعداد میں استعمال کیے گئے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکہ شام 5 بج کر 45 منٹ پر رینجرز مارکیٹ میں ہوا۔دھماکے کے باعث واہگہ بارڈر چیک پوسٹ کے ارد گرد موجود متعدد عارضی دکانوں کو نقصان بھی پہنچا ہے جبکہ رینجرز اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ایک نجی ٹی وی چینل کے مطابق دھماکے کے مقام کے قریب اسلحہ کا ڈپو بھی موجود ہے جس کے باعث زیادہ نقصان کا خدشہ بھی ہے۔ ایم ایس گھرکی ہسپتال ڈاکٹر افتخار نے 48 لاشوں کے ہسپتال لانے کی تصدیق کی ہے،جبکہ 100 کے قریب زخمیوں کو بھی گھرکی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔جاں بحق افراد میں11 خواتین اور 7بچے بھی شامل ہیں، اور زخمیوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔جبکہ دھماکے میں ایک ہی خاندان کے 9 افراد اور ایک خاندان کے 5افراد شہید ہوئے ہیں۔سروسز ہسپتال کے ذرائع کے مطابق وہاں 4 لاشیں جبکہ34 زخمیوں کو بھی منتقل کیا گیا۔گھرکی ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جبکہ کئی زخمیوں کوشالیمار ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کی کثیر تعداد کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامناہے جبکہ ہسپتال میں جگہ کم ہونے کے باعث زخمیوں کو دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب نے قیمتی جانوں کے نقصان پر افسوس کااظہار کرتے ہوئے بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کردی ،ملک کی تمام سیاسی اور سماجی قد آور شخصیات نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری رپورٹ طلب کرلی ،قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دھماکے کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا ،گھرکی ہسپتال میںقیامت صغری کے مناظر دیکھے گئے، لوگ اپنے پیاروں کی لاشوں سے لپٹ کر دھاڑیں مار مار کر روتے رہے جب کہ اسپتال انتظامیہ کی جانب سے شہریوں سے خون کے عطیات دینے کی اپیل کی گئی ہے، ہسپتال میں جگہ کم پڑجانے کے باعث لاشوں کو پارکنگ ایریا میں رکھا گیا ہے۔ پولیس کی جانب سے ابتدائی طورپرکہاگیاتھاکہ دھماکہ سلنڈرپھٹنے سے ہوا تاہم بعدازاں اسے خودکش دھماکہ قراردیاگیا۔ آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا نے کہاکہ محرم الحرام کے حوالے سے صوبے بھر میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے ہیں لیکن انتظامات جیسے بھی ہوں خودکش حملے کا خطرہ ہمیشہ رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ واہگہ بارڈرکے حوالے سے خطرے کی رپورٹس تھیں اوررینجرز نے جتناممکن تھاسیکورٹی انتظامات کئے تھے۔واہگہ بارڈرپردوبجے کے بعدسیکورٹی انتہائی سخت کردی جاتی ہے ۔عےنی شاہدےن نو ر رحےم ،مضر فےاض ،انور اور خالد نے پاکستان کو بتا ےا کہ وہ واہگہ بارڈر پر پر چم کشائی کی تقرےب دےکھنے آئے تھے کہ تقرےب کے احتتام پر وہ با ہر آئے ساتھی ہی مارکےٹ تھی جہاں لو گ خرےد داری کر رہے تھے کہ اس دوران اےک ضرور دار دھماکہ ہوا جس سے بھگدڑ مچ گئی۔ہر طرف چےخ وپکار تھی ۔ہر شخص اپنی جان بچانے کے لئے بھاگ رہا تھا اس وقت قےامت کا سماں تھا وہاں کھڑی کئی گاڑےوں کو آگ لگی ہو ئی تھی ۔پشاور کے اےک ٹرک ڈرائےور نو ر رحےم جو کہ ذخمی ہے نے بتاےا کہ اس کے ساتھ اےک دوست تھا جو کے پارکنگ مےں ٹرک لےنے گےا اس کو اس کے بارے مےں کو ئی علم نہےں ہے ۔ 14سالہ علی حےدر نے بتاےا کہ وہ اپنے والدےن اور دےگر رشتہ داروں کے ہمراہ پر چم کشائی کی تقرےب دےکھے کر نکلا تھا کہ اس دوران دھماکہ ہو گےا جس سے وہ شدےد زخمی ہو گےا۔اس حادثے میں اس کا والد ،دو ماموں، ممانی اور بھائی جاں بحق ہوگئے۔اس کی والدہ ،پھوپھی زخمی ہوگئے ۔گوجرہ کے رہنے والے خالدنے بتایا کہ وہ دوستوں کے ساتھ منڈی میں کام کرتا ہے اسے بھی حادثے کے بعد وہ بھی زخمی ہو گیا اور اسے علم نہیں تھا کہ باقی دوستوں کا کیا بنا ۔انور نامی شخص نے پاکستان کو بتایا کہ وہ وہ بھی اپنے اہلخانہ کے ہمراہ آیا تھا اس کا بھی ایک رشتہ دار ہلاک ہو گیا جبکہ وہ اس کے دو رشتہ دار زخمی ہو گئے ۔فیاض نامی ایک لڑکا بھی ساتھ زخمی ہو گیا اس نے بھی بتایا کہ وہ اپنے اہلخانہ کے ہمراہ آیا تھا اور وہ زخمی ہو گیا ۔گھرکی ہسپتال میں زخمیوں کو طبی امداد دینے کے لئے ڈاکٹروں کی بھاری تعداد موجود تھی جبکہ آئی جی پولیس پنجاب مشتاق احمدسکھیرا،ڈی آئی جی آپریشنز لاہور ڈاکٹر حیدر اشرف ، ڈی جی رینجرز ،ڈی جی ریسکیو اوروزراءاراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے علاوہ اعلیٰ حکام موقع پر پہنچ گئے ۔رینجر کی بھاری تعداد نے گھرکی ہسپتال کو گھیرے میں لے رکھا تھا اور سخت تلاشی کے بعد اندرجانے کی اجازت دی جا تی تھی۔اس واقعہ کے بعد مرنے والوںاور زخمیوں کے عزیز و اقارب اپنے پیاروں کو دیکھنے کے لئے ہسپتال کے اندر جانا چاہتے تھے مگر پولیس اوررینجرز نے انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی جس کے بعد انہوں نے گیٹ پر احتجاج شروع کر دیا اور خواتین رونے لگیں ۔بعدازاں ان کو اندر جانے کی اجازت دے دی گئی ۔ گھر کی ہسپتال کے اندر بھی قیامت کا سماں تھا اور ہر طرف چیخ و پکار تھی ۔آئی جی پولیس پنجاب مشتاق سکھیرا نے اسے خود کش حملہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس میں ایک اندازے کے مطابق تیرہ سے چودہ کلو گرام باروداستعمال کیا گیا ہے۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ زخمیوں اورمرنے والوں کے اعضاءہر طرف بکھرے پڑے تھے جنہیں ریسکیو ٹیمیں نے اکٹھا کیا۔ اعلیٰ حکام نے بعد ازاں لاشوں کو میو ہسپتال کے مردہ خانے میں منتقل کر دیا جبکہ زخمیوں کو سروسز ،شالیمار میں بھی منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے ۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ وہ پرچم کشائی کی تقریب دیکھنے آئے تھے اور اتوار کی وجہ سے معمول سے زیادہ رش تھا۔ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر زاہد پرویز نے ”پاکستان“کوبتایا کہ حکومت اپنے طور پر زخمیوں کے علاج معالجے کے لئے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھے گی۔رات گئے تک گھرکی ہسپتال کے علاوہ لاہور کے دیگر ہسپتالوں میں بھی ایمرجنسی نافذ تھی اور ڈاکٹروں اور دیگر عملے کی چھٹیاں منسوخ کرکے بلا لیا گیا تھا اور سروسز ہسپتال کے علاوہ شالیمار ہسپتال میں بھی خون دینے والوں کا تانتا بندھا ہوا تھا ۔

خود کش دھماکہ

مزید :

صفحہ اول -