گندم کی سرکاری قیمت 1500 روپے فی 40 کلو گرام مقرر کی جائے، منظور وٹو

گندم کی سرکاری قیمت 1500 روپے فی 40 کلو گرام مقرر کی جائے، منظور وٹو

  

لاہور( سٹاف رپورٹر) میاں منظور احمد وٹو صدر پیپلز پارٹی پنجاب نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گندم کی سرکاری قیمت اس سال 1500 روپے فی چالیس کلو گرام مقرر کی جائے کیونکہ پاکستان میں خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں کھاد، یوریا مہنگی ہونے کے علاوہ پاکستان کے کسانوں کو حکومتی مراعات بھی مقابلتاً کم دستیاب ہیں۔ میاں منظور احمد وٹو نے حکومت پاکستان کے کل کے 1300 روپے فی چالیس کلو گرام گندم کی سرکاری قیمت پر اپنے یہاں سے جاری بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ کہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بیک وقت شہری اور دیہاتی غریب آبادی کو آٹے کی فراہمی پر سماجی تحفظ کی سکیم کے تحت اتنی ٹارگٹڈ سبسڈی دے تا کہ انکے چولہے ٹھنڈے نہ ہوں۔ منظور احمد وٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی حکومت کو گندم کی سرکاری قیمت خرید کو مزید بڑھانے پر مجبور کر دے گی ۔ انہوں نے یاد دلا یا کہ پیپلز پارٹی کی پچھلی حکومت نے ستمبر 2008 ؁ء میں گندم کی سپورٹ پرائس 626 روپے سے بڑھا کر 850 روپے فی چالیس کلو گرام کر دی تھی جسکے نتیجے میں پاکستان اُسی سال ہی گندم برآمد کرنیوالا ملک بن گیا جبکہ ہم پچھلے کئی سالوں سے گندم درآمد کر رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے اس فیصلے سے دیہی معیشت میں زبردست خوشگوار تبدیلی آئی اور لوگ خوشحال ہوئے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ ملک کی صنعتی ترقی بھی زرعی ترقی پر منحصر ہے کیونکہ زرعی شعبہ صنعتی شعبے کو سستا اور جلد خام مال کی فراہمی یقینی بناتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کاری کے نقطہ نظر بھی زراعت کا شعبہ زیادہ منافع بخش ہے کیونکہ اس میں کم سرمایہ کاری سے جلد از جلد اور غیر معمولی معاشی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -