کھوسہ خاندان قدم بقدم سیاسی خود کشی کی طرف بڑھ رہا ہے

کھوسہ خاندان قدم بقدم سیاسی خود کشی کی طرف بڑھ رہا ہے
کھوسہ خاندان قدم بقدم سیاسی خود کشی کی طرف بڑھ رہا ہے

  

سردار ذوالفقار کھوسہ کی مدد کو سید غوث علی شاہ بھی پہنچ گئے ہیں۔ اب رب نے جوڑی خوب ملا دی ہے۔ ایک کو گورنر نہ بننے کا غم‘ دوسرے کو صدر نہ بننے کا غم۔ کیا یہ لوگ کسی اصول پر اختلاف کر رہے ہیں یا کرسی نہ ملنے کا پیٹ درد ان کو کھڑا نہیں ہو نے دے رہا۔ حساب کا ایک معروف اصول ہے کہ صفر جمع صفر بھی صفر ہی ہو تا ہے۔ اس لئے جس طرح سردار ذوالفقار کھوسہ سے مسلم لیگ (ن) کو کوئی خطرہ نہیں تھا بلکہ وہ ایک سیاسی خود کشی کی طرف گامزن تھے ، اسی طرح غوث علی شاہ سے بھی مسلم لیگ (ن) کو کوئی خطرہ نہیں بلکہ وہ تو سندھ کے مخصوص حالات کی وجہ سے سیاسی موت مر چکے ہیں۔

ایک سیاسی تجزیہ نگار کے مطابق ان دونوں کی مثال پیپلز پارٹی کے غلام مصطفی جتوئی اور غلام مصطفی کھر کی طرح ہے۔ جس طرح وہ دونوں پیپلز پارٹی چھوڑ کر صفر ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح یہ دونوں بھی مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر صفر ہوگئے ہیں۔ جس طرح بعد میں ان دونوں کا سیاسی کیریئر ختم ہو گیا اسی طرح ان دونوں کا سیاسی کیریئر بھی ختم ہو گیا ہے۔ وہ بے نظیر کے بے وفا انکلز تھے ۔ یہ میاں نواز شریف کے بے وفا انکلز ہیں۔ ان کو تو پیپلز پارٹی نے مخصوص حالات کی بناءپر دوبارہ موقع بھی دیا لیکن کھوسہ صاحب کو تو دوبارہ موقع ملنا بھی مشکل ہے۔ غوث علی شاہ کو تو سندھ میں مسلم لیگ (ن) کی اس قدر خراب کارکردگی کے بعد خو دہی استعفیٰ دے دینا چاہئے تھا لیکن ان کا ایک مسئلہ تھا وہ اپنے علاوہ کسی اور کو مسلم لیگ (ن) سندھ میں برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ اور اسی کا شکار ہو گئے۔ جبکہ کھوسہ صاحب تو نا خلف اولاد کے ہاتھوں اپنی برس ہاءبرس کی سیاست لٹا بیٹھے ہیں۔

بلا شبہ کھوسہ صاحب کی مسلم لیگ (ن) میں بہت عزت تھی۔ اب نہیں ہے۔ ان کے غیر سیاسی رویہ سے کارکن ان سے نالاں تھے۔ وہ ایک سردار ہیں۔ اس لئے عام آدمی کے اندر گھل مل نہیں جاتے۔ خود کو بڑی شے سمجھتے ہیں۔ لیکن مسلم لیگ (ن) میں انہیں ایک بزرگ کا درجہ مل چکا تھا۔ سب نے ان کو ان کی خامیوں سمیت قبول کر لیا تھا۔ لیکن ان کے اسی غیر سیاسی رویہ کی وجہ سے ان کا کوئی گروپ نہیں ہے۔ ان کا تو مسلم لیگ (ن) میں ایک ہی گروپ تھا اور وہ میاں نواز شریف تھا۔ اس لئے جس دن وہ میاں نواز شریف سے علیحدہ ہوئے وہ سیاسی طور پر تنہا تھے اور تنہا ہیں۔

کھوسہ خاندان آج جہاں پہنچ گیا ہے‘ ا س پر کہا جا سکتا ہے کہ اس گھر کو آگ لگی اس گھر کے چراغ سے۔ ان کو یہاں تک پہنچانے میں ان باپ بیٹے کے سٹاف افسروں کا بہت ہاتھ ہے۔ جب دونوں باپ بیٹا پنجاب کے وزیر بنے تو دونوں سٹاف افسروں نے سمجھ لیا کہ یہ آخری باری ہے ۔ اور با لآ خر انہوں نے اس کو ان کی آخری باری بنا دیا۔ سردار دوست محمد کھوسہ کے سٹاف افسر دیوان اظہر تو ان کے اس حال میں پہنچنے کے بنیادی طور پر ذمہ دار ہیں۔ دیوان اظہر تو دوست محمد کی جان تھا۔ وہ دیوان اظہر کی خاطر ساری دنیا سے لڑ سکتا تھا اور وہی ہوا اس نے دیوان اظہر کی خاطر اپنی سیاست ختم کر دی۔

راوی واقعہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ بڑے لیڈر سردار دوست محمد کھوسہ کے خلاف شکایت لیکر جاتی عمرہ میاں نواز شریف کی عدالت میں پہنچ گئے۔ الزام یہ تھا کہ دوست محمد نے ایک کام کی دو لاکھ روپے رشوت لی ہے۔ عدالت سج گئی۔ دوست محمد کو طلب کر لیا گیا لیکن یہ تو ثابت نہ ہو سکا کہ دوست محمد نے پیسے لئے ہیں‘ بس یہ ثابت ہو گیا کہ ان کے سٹاف افسر دیوان اظہر نے پیسے لئے ہیں۔ میاں نواز شریف نے بات کو ختم کرتے ہوئے دوست محمد کو ہدایت کی کہ وہ دیوان اظہر کو فارغ کر دیں اور وہ قانون کا سامنا کرے۔ لیکن دیوان اظہر تو دوست محمد کی جان تھا۔ وہ اس کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ دوست محمد کا موقف تھا کہ یہ ایک سیاسی چال کھیلی گئی ہے اور ان کے سیاسی مخالفین نے ایک چال کے تحت دیوان اظہر کو پیسے دیئے ہیں تا کہ اس کیس کو کھڑا کیاجا سکے۔ کتنا معصوم موقف تھا ۔ دیوان اظہر ایک نرسری کا بچہ تھا کہ کسی نے اس کو دو لاکھ دے دیئے اور اسے سمجھ ہی نہ آئی۔ بس دوست محمد نے اسے وقتی طور پر اپنے سٹاف افسر کی سیٹ سے ہٹاکر اپنے آبائی شہر ڈیرہ غازی خان میں ایک پر کشش سیٹ پر لگا دیا اور خفیہ اداروں نے یہی اطلاع دی کہ اب بھی دوست محمد کے سارے کام دیوان اظہر ہی دیکھ رہا تھا۔ اس طرح دوست محمد نہ جانے دیوان اظہر کے اتنے اثر میں کیوں تھے کہ انہوں نے اس کے لئے ساری مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو ناراض کر لیا۔

 اسی طرح بڑے کھوسہ صاحب کی جان ان کے سٹاف افسر شاہنواز میں ہے۔ مسلم لیگ (ن) میں مشہور ہے کہ کھوسہ صاحب جو بات مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی بھی نہ مانیں شاہنواز کی مان لیتے ہیں۔ شاہنواز کے قصے اس سے بھی دلچسپ ہیں۔ بہر حال کھوسہ صاحب ایک ایسے راستے کی طرف گامزن ہیں جس سے انہیں چند ٹاک شوز کے علاوہ کچھ نہیں مل سکے گا۔ وہ ضمنی انتخابات میں اپنی آبائی سیٹ بھی ہار گئے تھے۔ ان کا اپنا بیٹا سیف کھوسہ سیاسی طور پر ان کے مد مقابل آ چکا ہے جس نے ان کی سیاست کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے لیکن دوسرے بیٹے دوست محمد نے ان کے ساتھ رہ کر بھی ان کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ۔ ایک نے اندر سے ایک نے باہر سے ۔ اس لئے پہلے بھی لکھا اور پھر لکھ دیتا ہوں کہ اس گھر کو آگ لگی اس گھر کے چراغ سے۔   

مزید :

کالم -