ابوظہبی ٹیسٹ : پاکستان نے 32سال بعد آسٹریلیا کو ”وائٹ واش “کر دیا ،20سال بعد ٹیسٹ سیریز اپنے نام کی

ابوظہبی ٹیسٹ : پاکستان نے 32سال بعد آسٹریلیا کو ”وائٹ واش “کر دیا ،20سال بعد ...
ابوظہبی ٹیسٹ : پاکستان نے 32سال بعد آسٹریلیا کو ”وائٹ واش “کر دیا ،20سال بعد ٹیسٹ سیریز اپنے نام کی
کیپشن: Team Pakistan

  

ابو ظہبی(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف 356رنز سے کامیابی حاصل کرکے 32سال کے بعد ”مشن وائٹ واش “مکمل کر لیا ہے ،گرین شرٹس نے 20سال بعد ٹیسٹ سیریز بھی اپنے نام کی ۔

ابو ظہبی کے شیخ زید کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے گئے سیریز کے دوسرے اور آخری ٹیسٹ میچ میں پاکستان کے 603 رنز کے ہدف کے تعاقب میں آسڑیلیا کی بیٹنگ لائن اپ تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئی اور پوری ٹیم 246رنز بنا کر پوویلین لوٹ گئی ۔ ٹیسٹ کے پانچویں روز جب آسٹریلیا نے بیٹنگ کا آغاز کیا تو آل راﺅنڈ رمچل مارش 47 رنز بنانے کے بعد محمد حفیظ کی گیند پر اسد شفیق کو کیچ دے بیٹھے ۔ مڈل آرڈر بلے باز سٹیو سمتھ کچھ دیر کے لیے پاکستانی باﺅلنگ لائن اپ کے لیے درد سر بنے تاہم وہ بھی 238 کے مجموعے پر 97 رنز بنانے کے بعد یاسر شاہ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آﺅٹ ہوگئے۔238ہی کے مجموعے پر وکٹ کیپر بلے باز بریڈ ہیڈن ذوالفقار بابر کی گھومتی گیند کو نہ سمجھ سکے اور بولڈ ہوگئے ۔ 238کے مجموعی سکور پر ہی مچل جونسن بھی بغیر کوئی رن بنائے بغیر یاسر شاہ کی گیند پر بولڈ ہوگئے ۔آسٹریلیا کی نوویں وکٹ 245کے مجموعی سکور پر گری جب مچل سٹارک یاسر شاہ کی گیند پر بولڈ ہوگئے ۔ 246کے مجموعی سکور پر نیتھن لائن ذوالفقار بابر کی گیند پربغیر کوئی رن بنائے بغیر اظہر علی کے ہاتھوں کیچ آﺅٹ ہوگئے جس کے ساتھ ہی پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف تاریخی وائٹ واش مکمل کر لیا ۔آسٹریلیا کی جانب سے سٹیو سمتھ 97،ڈیوڈ وارنر 58اور مچل مارش 47رنز کے ساتھ نمایاں رہے ۔ پاکستان کی جانب سے ذوالفقار بابر نے 120رنز کے عوض 5، لیگ سپنر یاسر شاہ نے 44رنز کے عوض 3اور محمد حفیظ نے 2کھلاڑیوں کو پوویلین واپس بھیجا۔ آسٹریلیا کی آخری 5 وکٹیں سکور میں محض 8 رنز کا ہی اضافہ کر سکیں ۔

اس فتح کے ساتھ ہی پاکستان نے ٹیسٹ رینکنگ میں تیسری پوزیشن اپنے نام کر لی ہے ۔ یہ پاکستان کی کسی بھی ٹیم کے خلاف رنز کے اعتبار سے سب سے بڑی فتح ہے،اس سے قبل 2006ءپاکستان نے محمد یوسف کی قیادت میں بھارت کو نیشنل سٹیڈیم کراچی میں کھیلے گئے ٹیسٹ میں 341رنز سے ہرایا تھا ۔پاکستان کی جانب سے اس ٹیسٹ سیریزمیں نو سنچریاں بنائیں گئیں تاہم آسٹریلوی بلے باز سیریز میں محض ایک سنچری ہی بنا سکے ۔

اس کامیابی کے حصول کے بعد مصباح الحق پاکستان کے کامیاب ترین ٹیسٹ کپتان بھی بن گئے ہیں ۔ ان کی قیادت میں قومی ٹیم 31 ٹیسٹ میچوں میں میدان میں اتری ہے جن میں سے اس نے 14ٹیسٹ میچوں میں کامیابی حاصل کی ،9ٹیسٹ ہارے جبکہ 8ٹیسٹ ڈرا کیے ۔ ان سے قبل عمران خان اور جاوید میانداد کی زیر قیادت بھی پاکستان نے 14،14ٹیسٹ میچوں میں کامیابی حاصل کی تھی تاہم ان سابق عظیم کپتانوں نے ان کامیابیوں کے لیے بالترتیب 48اور 34ٹیسٹ میچوں میں قومی ٹیم کی قیادت کی تھی ۔

میچ کے اختتام پر مصباح الحق کو میچ کا بہترین کھلاڑی اور یونس خان کو سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا ،جبکہ بہترین باﺅلنگ کے عوض ذوالفقار بابر اور ورلڈ ریکارڈ بنانے پر مصباح الحق کو خصوصی ایوار ڈ سے نواز ا گیا ۔

واضح رہے کہ ابو ظہبی ٹیسٹ میں فتح کے بعد پاکستان نے 1994ءکے بعد پہلی مرتبہ آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتی ہے جب کہ 32 برس بعد کینگروز کو وائٹ واش کیا ہے۔پاکستان نے آخری مرتبہ 1982ءمیں عمران خان کی قیادت میں آسٹریلیا کو 3-0سے وائٹ واش کیا تھا ۔

اس سے قبل کھیل کے چوتھے روز ہدف کے تعاقب میں آسڑیلیا نے جب اپنی دوسری اننگز کا آغاز کیا تو ذوالفقار بابر نے صرف 19 رنز پر کرس روجرز کو لیگ سلپ میں اسد شفیق کے ہاتھوں آﺅٹ کرادیا اور پھر دوسری وکٹ 31 کے مجموعے پر گری جب گلین میکسویل ذوالفقار بابر کا دوسرا شکار بنے اور پھر 4 3 رنز پر مائیکل کلارک بھی ذوالفقار بابر کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔ ڈیوڈ وارنر58 رنزبنا کرمحمد حفیظ کا شکار بنے۔ چوتھے روز کے اختتام پر آسٹریلیا کا مجموعی اسکور 143 رنز رہا اور سٹیون سمتھ 38 اور مچل مارش 26 رنز کے ساتھ کریز پر موجود ہیں۔

اس سے قبل پاکستان نے اپنی دوسری اننگز میں کپتان مصباح الحق کی جارحانہ اور تاریخی تیز ترین سنچری کی بدولت 3 وکٹوں کے نقصان پر 293 رنز پر اننگز ڈکلئیر کی، مصباح نے آسٹریلیا کے خلاف 11 چوکوں اور 5 چھکوں کی مدد سے صرف 56 گیندوں پر 101 رنز بنا کر ٹیسٹ کرکٹ کی تیز ترین سنچری کا ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی ویون رچرڈ کا ریکارڈ برابر کردیا جبکہ مڈل آرڈر بلے باز اظہر علی نے بھی شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے سنچری اسکور کئے، مصباح الحق اور اظہر علی نے ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں سنچریاں بنا کر کسی ٹیسٹ میچ میں دو بیٹسمینوں کی جانب سے دونوں اننگز میں سنچریوں کا 41 سالہ ریکارڈ بھی برابر کردیا۔

یادرہے کہ پاکستان نے اپنی پہلی اننگز 570 رنز 6 کھلاڑی آﺅٹ پر اننگز ڈکلیئر کر دی تھی جس کے جواب میں آسڑیلیا کی پوری ٹیم 261 رنزبنا سکی اور پاکستان کو پہلی اننگز میں 309 رنز کی سبقت حاصل ہو گئی تھی۔

مزید :

کھیل -اہم خبریں -