239 مسافروں سے بھرا جہاز بغیر پائلٹ اُڑتا ہوا سمندر میں جاگرا

239 مسافروں سے بھرا جہاز بغیر پائلٹ اُڑتا ہوا سمندر میں جاگرا
239 مسافروں سے بھرا جہاز بغیر پائلٹ اُڑتا ہوا سمندر میں جاگرا

  

کوالا لمپور (نیوز ڈیسک) مارچ 2014ءمیں 239 مسافروں کو لے کر ملائیشین دارالحکومت سے چین کے شہر بیجنگ کے لئے روانہ ہونے والی پرواز MH370 پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئی تھی۔ اس پرواز کی گمشدگی کا معمہ حل کرنے کی کوششیں تاحال جاری ہیں لیکن تحقیق کاروں نے ایک ایسی بات ضرور معلوم کر لی ہے جو پرواز کی اچانک گمشدگی سے بھی زیادہ پراسرار ہے۔

اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ طیارے کے گرنے سے قبل ہی اس کا پائلٹ دنیا سے رخصت ہوچکا تھا ، جس کے بعد یہ طیارہ بغیر پائلٹ اڑتا رہا اور ایندھن ختم ہونے پر سمندر میں جا گرا۔ اڑھائی سال سے جاری تلاش کے بعد بھی اب تک اس طیارے کا کچھ ملبہ ہی ملا ہے جبکہ اس کی تباہی کے بیشتر پہلو تاحال راز ہیں۔

ائیرلائن کا پائلٹ 38ہزار فٹ کی بلندی پر مسافر جہاز چلاتے کاکپٹ میں انتہائی شرمناک حرکت کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑاگیا، ہنگامہ برپاہوگیا

معاملے کی تفتیش کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ پائلٹ کاک پٹ میں موجود نہیں تھا، غالباً وہ حادثے سے قبل ہی خود کشی کرچکا تھا، جبکہ طیارے میں برقی نظام بھی فیل ہوگیا اور ایک دھماکہ بھی ہوا ۔ ان تمام عوامل کو طیارے کی تباہی کی وجہ قرار دیا گیا ہے، لیکن آسٹریلین ٹرانسپورٹ سیفٹی بیورو کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پائلٹ کی عدم موجودگی طیارے کی تباہی کی بنیادی ترین وجہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ کمیونیکیشن سے حاصل ہونے والی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب طیارہ آخری لمحات میں انتہائی بلندی سے سیدھا نیچے کی جانب گررہا تھا تو اسے کنٹرول کرنے والا کوئی بھی نہیں تھا۔ ماہرین کے مطابق اس وقت طیارے کا ایندھن ختم ہوچکا تھا اور یہ تیزی کے ساتھ بل کھاتا ہوا نیچے گررہا تھا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -