نفاذِ اردو:سپریم کورٹ کی عمل داری پر سوالیہ نشان؟

نفاذِ اردو:سپریم کورٹ کی عمل داری پر سوالیہ نشان؟
نفاذِ اردو:سپریم کورٹ کی عمل داری پر سوالیہ نشان؟

  

اس وقت دنیا میں تقریباً 6ہزار سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ان 6ہزار زبانوں میں اردو سب سے زیادہ بولی جانے والی پچاس اولین زبانوں میں شامل ہے۔بانی ء پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کا یہ فرمان ریکارڈ کا حصہ ہے، جس میں انہوں نے حکمیہ طور پر کہا تھا ’’ پاکستان کی قومی زبان’ اردو‘ ہوگی ‘‘۔

افسوس ، قائد اعظم ؒ کے اس فرمان پر آج تک صحیح معنوں میں عمل درآمد نہیں ہو سکا ۔ آئین میں تو درج ہے کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے لیکن عملاً ایسا کچھ نہیں ہے۔ انگریز کو یہاں سے رخصت ہوئے 70سال بیت گئے لیکن اس کی زبان آج بھی ہماری قومی زبان اردو کا حق غصب کرکے ہمارے دفاتر اور تعلیمی اداروں میں راج کر رہی ہے۔ اس حوالے سے پوری قوم ذہنی انحطاط کا شکار ہے ۔انگلش فوبیا نے ہماری تعلیمی جڑیں کھوکھلی کر کے رکھ دی ہیں ۔

تعلیمی اداروں میں انگریزی زبان کو ’’ علم ‘‘ کا درجہ دے دیا گیا ہے ،جس کی وجہ سے ہمارے ہاں تحقیق و تخلیق کا عنصر مفقود ہو تا جا رہا ہے ۔ اپنی قومی زبان’ اردو‘ کو چھوڑ کر انگریزی جیسی پرائی اور غیر مانوس زبان کے ذریعے تحقیق و تخلیق کے میدان میں زور آزمائی کے عمل پر یہ محاورہ صادق آتا ہے کہ ’’ کوا چلا ہنس کی چال ، اپنی بھی بھول گیا ۔ ‘‘

اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ کسی بھی قوم کی شناخت اس کی قومی زبان سے ہوا کر تی ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ جن اقوام نے اپنی زبان کو ترقی دی وہی آج دنیا میں کامیاب ہیں ۔

بے شک انگریزی کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، ظاہر ہے کہ بین الاقوامی زبان جو ٹھہری ، مگر انگریزی کے لئے اردو کو قربان کردینا کہاں کی عقلمندی ہے؟ اردو زبان بہت سی دیگر زبانوں کے ملاپ سے وجود میںآئی تھی ، جس کی وجہ سے اس پر دوسری زبانوں کے بہت گہرے اثرات ہیں لیکن ظلم تو یہ ہے کہ اب اردو زبان کے ساتھ انگریزی کے الفاظ کو ’’ثواب ‘‘ سمجھ کر استعمال کیا جا تا ہے ۔مثال کے طور پر ’’ مجھے کوئی پرابلم نہیں ۔‘‘ یہ تو ایک مثال ہے ، جبکہ اردو زبان کو ایسے ہزاروں الفاظ کے خلط ملط کے ساتھ آلودہ کرنے کی کاوشیں عروج پر ہیں ۔

یہ بھی ہمارا قومی مرض بن چکا ہے کہ ہمیں ہر انگریزی بولنے والا پڑھا لکھا اور تعلیم یافتہ لگتا ہے اور جو انگریزی نہ بول سکے ، اسے جاہل تصور کیا جا تا ہے ۔اس روئیے کو ہم قومی المیہ کہیں تو غلط نہیں ہو گا۔

یہاں سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ ’’ کیا انگریزی زبان ہی کسی کے پڑھے لکھے ہونے کی علامت ہے‘‘ ؟اگر ایسا مان لیا جائے، پھر تو انگریزوں کے سوا پوری دنیا جاہل کہلانے کے لائق ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ زبان تو فقط ایک ذریعہ ہے اپنی بات دوسرے تک پہنچانے کا ۔

ضرور پڑھیں: بے ادب بے مراد

یہ کس قدر ستم ظریفی ہے کہ آج ہمارے پاکستانی معاشرے میںآپ کو کئی ایسے لوگ دکھائی دیتے ہیں ، جو اردو پڑھنا نہیں جانتے ، صرف انگریزی جانتے ہیں اور وہ اس بات پر شرمندہ بھی نہیں، بلکہ فخر محسوس کرتے ہیں،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک پاکستانی ہو کر اپنی قومی زبان سے لاعلمی تو نہایت شرمندگی والی بات ہے ۔

جاپان ، چین، جرمنی ، فرانس ، اٹلی اور سپین کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ وہ اپنی قومی زبان کے علاوہ کسی اور زبان میں تعلیم حاصل کرنے ،مستقل طور پر کسی اور زبان میں بات چیت کرنے کو سخت معیوب سمجھتے ہیں ۔

ان اقوام کو بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ انگریزی زبان بین الاقوامی زبان ہے لیکن وہ اپنی زبانوں کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں اور ان کاشمار ترقی یافتہ اقوام اور ممالک میں بھی ہوتا ہے ۔

مگر افسوس کہ ہم اپنی قومی زبان کو اپنے قدموں تلے روندتے چلے جا رہے ہیں۔ اسی لئے شائد ہم آج تک ایک ’’ہجوم‘‘ ہیں،ایک کامیاب قوم نہیں بن سکے ۔

آپ بھلے انگریزی بولیں ، بیشک آپ چائنیز میں بات کریں لیکن خدا را اردو کو اردو ہی رہنے دیں ۔ اس پر ظلم نہ کریں ۔اس کو کم تر نہ سمجھیں اور اس کو بگاڑنا چھوڑ دیں ، کیونکہ ایک بگڑی ہوئی زبان ، ایک بگڑی ہوئی قوم کی علامت ہوتی ہے ۔

جب آپ انگریزی بولتے ہیں تو پوری کوشش کرتے ہیں کہ آپ کے منہ سے کوئی غلط لفظ نہ نکل جائے، ورنہ سب کے سامنے بے عزتی اور شرمندگی ہوگی ، تو جناب! ایسے ہی احساسات ذرا اپنی قومی زبان اردو کے لئے بھی محسوس کریں اور قومی زبان کے ساتھ سوتیلی ماں والا سلوک ختم کردیں۔

یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ دنیاکا کوئی بھی ملک جس زبان کو اپنی قومی زبان قرار دیتا ہے، تو پھر دو باتوں پر لازمی عمل کیا جاتا ہے۔ پہلی بات کہ قومی زبان اس ملک کے تمام سرکاری دفاتر میں رائج ہوتی ہے اور دوسری بات کہ تعلیم اسی قومی زبان میں دی جاتی ہے۔

مثال کے طور پر جرمنی میں جرمن زبان سرکاری دفاتر اور تعلیمی نصاب میں مستعمل ہے، فرانس میں فرنچ زبان پوری شان کے ساتھ رائج ہے، سپین میں سپینش زبان پوری طاقت کے ساتھ ہر سطح پر موجود ہے۔

دور کیا جائیں ، اپنے پڑوسی اور دوست ملک چین کو ہی دیکھ لیں ۔ چین کاپورا دفتری نظام اور تعلیمی نصاب اپنی ’’قومی زبان‘‘ میں ہے۔ جہاں ہم سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اورموجودہ وفاقی حکومت کی مخلصانہ کاوشوں سے چین کے ساتھ آغاز کئے ہوئے’ ’سی پیک‘‘ جیسے عظیم منصوبے سے فیض یاب ہونے جارہے ہیں، وہاں ایک اور چیز ہمیں چین سے ضرور سیکھنی چاہئے ، جو اپنی قومی زبان کو پوری قوت کے ساتھ ملک میں نافذ کرنا ہے۔

اگر ہم بھی چین کی طرح ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونا چاہتے ہیں توہمیں اجنبی زبان پر اپنی توانائیاں ضائع کرنے کی بجائے اپنی قومی زبان کو عزت اور مقام دینا ہوگا۔ چین کے عظیم رہنما ماؤزے تنگ کو انگریزی زبان پر مکمل عبور حاصل تھا، لیکن یہ بات ریکارڈ کا حصہ ہے کہ انہوں نے کبھی آن ریکارڈ انگلش زبان میں بات نہیں کی ۔

یہی روایت آج تک قائم ہے کہ ماؤزے تنگ کے جانشین دنیا کے کسی بھی خطے میں جاتے ہیں تو اپنی قومی زبان میں تقریر یا بات چیت کرنے کو باعث فخر سمجھتے ہیں،جبکہ ہماری حالت اس کے با لکل بر عکس ہے۔کسی دوسرے ملک میں تو کجا ، ہمارے رہنماء اپنے ملک کے اندر بھی اردو میں بات کرنے کو معیوب سمجھتے ہیں۔ اگر اپنی قومی زبان سے ’’ بے وفائی ‘‘ کو ہم پاکستان کی تعمیر و ترقی میں بنیادی رکاوٹ قرار دیں ،تو میرے خیال میں بالکل بجا اور درست ہوگا۔

قومی زبان کا نفع نقصان ہر پاکستانی کے لئے برابر کے نفع نقصان کا درجہ رکھتا ہے ۔ اردو زبان کی پیدائش کو کئی صدیاں بیت گئی ہیں ۔ کئی سو برسوں پر محیط اس سفر میں اردو زبان نے مختلف شکلیں تبدیل کی ہیں اور آج یہ زبان ارتقائی صورت میں نہ صرف پاکستان، بلکہ ہندوستان اور دنیاکے بہت سے دوسرے ممالک پر بھی اپنے نقوش ثبت کر رہی ہے ۔بہت سے ممالک میں مختلف ذرائع سے اس زبان کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے ۔

یہ بات خوشگوار حیرت کا باعث ہے کہ امریکا ، کینیڈا ، فرانس ، جاپان ، انگلینڈ، سپین اور جرمنی جیسے یورپین اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بھی بڑی تعداد میں اردو کے رسالے اور اخبارات شائع ہو رہے ہیں، جن کا وسیع حلقۂ قارئین ہے ۔

آج دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں اردو کی صورت حال سے متعلق جو تحقیقات ہو رہی ہیں ، ان سے اندازہ ہو تا ہے کہ اردو اب کسی بھی ملک کے لئے اجنبی زبان نہیں ہے ۔

اس زبان نے اپنی شیرینی اور سلاست کی وجہ سے دوسرے ملکو ں کے لسانی نظام سے اپنے آپ کو اس قدر ہم آہنگ کر لیا ہے کہ اب اردو کے الفاظ بھی ان کے کلچر اور بول چال کا حصہ بنتے چلے جا رہے ہیں ۔

آج یہ بات ایک روشن حقیقت بن چکی ہے کہ اردو عالمی لسانی نظام کا ایک حصہ بن چکی ہے ۔ جب بھی زندہ عالمی زبانوں کا ذکر آئے گا ، ان میں ہماری قومی زبان اردو بھی ضرور شامل ہو گی ۔

پاکستان کی قومی زبان’’ اردو‘‘ سے محبت رکھنے والوں کے لئے یہ تمام باتیں خوشی کا باعث ہیں مگر اس کے ساتھ ملال اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اس کوکہنے کی حد تک قومی زبان تو بنا دیا گیا لیکن اس کو وہ مقام ، مرتبہ اور عزت نہیں دی گئی جو اس کا بنیادی حق ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی زیر صدارت جسٹس دوست محمد اور جسٹس فائز عیسیٰ پرمشتمل تین رکنی بنچ نے 8ستمبر 2015ء کو یہ تاریخی فیصلہ دیا تھا کہ 3ماہ کے اندر تمام سرکاری اداروں میں قومی زبان اردو کو بطوردفتری زبان رائج اور نافذ کیا جائے مگر افسوس کہ اس فیصلے کو پاکستان کے ہر سرکاری ادارے نے عملاً تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور دو سال گزر جانے کے باوجود یہ سپریم کورٹ کا فیصلہ بری طرح بے توقیری کا شکار دکھائی دے رہا ہے۔

حیرت ہے کہ جو سپریم کورٹ اس قدر با اختیار ہے کہ 2ماہ کے اندردو تہائی اکثریت کے حامل وزیر اعظم کو ایک کمزور ترین بنیاد پر نا اہل قرار دے کر گھر بھیج سکتی ہے، وہ نفاذِ اردو کے حوالے سے دئیے گئے اپنے فیصلے پر آج تک عمل درآمد کیوں نہیں کروا سکی؟اپنے اس شاندارتاریخی فیصلے پر عمل درآمد کروانے تک سپریم کورٹ آف پاکستان کی کارکردگی اور عمل داری پر بہت بڑا سوالیہ نشان رہے گااور اگر اس فیصلے پر عمل درآمد کے حوالے سے سپریم کورٹ بے بس ہے تو میرا چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکو مشورہ ہے کہ اگر آپ سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس فیصلے پر عمل درآمد نہیں کرواسکتے تو کڑوا گھونٹ بھریں اورسابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کایہ ’’بے توقیر‘‘ حکم واپس لینے کا ہی اعلان کر دیں، بڑی نوازش ہو گی آپ کی!!

مزید : کالم