گلگت بلتستان کے خلاف ’’را‘‘ کی سازشیں

گلگت بلتستان کے خلاف ’’را‘‘ کی سازشیں
 گلگت بلتستان کے خلاف ’’را‘‘ کی سازشیں

  

پاکستان اس وقت سازشوں کے حصار میں ہے۔ ہر طرف سے دشمن طاقتیں اس کوشش میں مصروف ہیں کہ کس طرح پاکستان کو دنیا میں بدنام کیا جائے اور کس طرح پاکستان میں بے چینی ،انتشار اور انارکی پیدا کی جائے اور اسے معاشی طور پر مفلوج کرنے کے لئے اقتصادی راہداری کو بننے سے روکا جائے۔ ایسی تمام سازشوں کا سر خیل بھارت ہے جو بلوچستان سے لے کر گلگت بلتستان تک سازشوں کا جال بن رہا ہے ۔

اس مقصد کے لئے گلگت بلتستان جو سی پیک کا آغاز ہے اور بلوچستان جو سی پیک کا آخری کنارہ ہے، اس کا خاص ٹارگٹ ہے۔ گلگت بلتستان اقتصادی راہداری کا گیٹ وے ہے۔

اقتصادی راہداری منصوبے میں گلگت بلتستان کی اہمیت اس لئے دو چند ہے کہ چین کے شہر کاشغر سے جیسے ہی اقتصادی راہداری گزر کر پاکستان میں داخل ہوگی تو پہلا علاقہ گلگت بلتستان ہے۔

اقتصادی راہداری کی پاکستان میں انتہا گوادر ہے۔ اس لئے بھارت گوادر سے لے کر گلگت بلتستان تک ساشوں میں مصروف ہے۔ بھارت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر پر مضحکہ خیز دعوے کر کے اصل مسئلے سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔

بھارتی حکمرانوں کے بیانات بھی سمجھ سے باہر ہیں کہ ایک طرف کشمیر کو تصفیہ طلب بھی قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ بھی قرار دیتے ہیں۔ حال ہی میں بھارتی وزیر خارجہ نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دے دیا اور کہا کہ کشمیری ریاست کا ایک حصہ پاکستان کے غیر قانونی قبضے میں ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ نے بڑھک ماری کہ گلگت بلتستان اور کنٹرول لائن کے دونوں طرف جموں وکشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، لہٰذا کسی بھی سمجھوتے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘بلوچستان کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان میں سازشوں میں مصروف ہے۔ بھارتی سفارت کار بھی اس ضمن میں ’’ر ا‘‘ کا ساتھ دیتے ہوئے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور بلوچستان میں اپنے میڈیائی رابطوں کے ذریعے ایسے عناصر اور خیالات کو پروان چڑھا رہے ہیں جن کے ذریعے ان مذکورہ علاقوں میں پاکستان مخالف جذبات کو ابھارا جا سکے۔

بھارتی ٹی وی اور سوشل میڈیا اپنے زہریلے خیالات کو پھیلانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور بلوچستان میں وطن عزیز کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی، قطعی بے سروپا پروپیگنڈے اور لغو قسم کے افسانے تراشے جارہے ہیں۔

بھارتی سازشوں کا تو خود نریندر مودی اپنی ایک تقریر میں فخریہ طور پر اعتراف کرچکے ہیں، جنہوں نے بلوچستان میں نام نہاد علیحدگی پسندوں کی سرپرستی کا اعتراف کیا اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان میں بھی مداخلت کا عندیہ دیا تھا۔

بھارتی وزیر اعظم مودی نے 15 اگست 2016کو یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ دہلی کی دیوار پر کھڑے ہو کر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر اپنا حق جتلایا تھا۔ نئی سازش کے طور پر بھارت میں انتہا پسند حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک رکن پارلیمنٹ نشی کا نت دوبے نے پارلیمنٹ میں پانچ نشستیں آزاد کشمیر اور گلگت کے لئے مختص کرنے کا بل پیش کر دیا ہے۔

نشی کانت دوبے نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی کشمیر اور گلگت بلتستان کے لئے 25سیٹیں خالی ہیں، حکومت انہیں پُر کرنے کے لئے عملی اقدامات کرے۔پاکستانی مقبوضہ علاقوں کو بھارت میں شامل کرایا جائے، جس کے جواب میں قانون ساز اسمبلی گلگت بلتستان کے اجلاس میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان کی شدید مذمت کی گئی۔

قراردادمیں مؤقف اختیار کیاگیا کہ نریندر مودی کا گلگت بلتستان سے متعلق بیان پاگل پن اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و جبر سے توجہ ہٹانے کی شرمناک کوشش ہے۔گلگت بلتستان کا بچہ بچہ پاکستان کے دفاع اور سلامتی کے لئے جانیں نچھاور کرنے اور اپنا سب کچھ لٹانے کے لئے تیار ہے۔

قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ گلگت بلتستان کے عوام کل بھی پاکستانی تھے۔آج بھی پاکستانی ہیں اور مرتے دم تک پاکستانی رہیں گے۔

بھارت نے سی پیک کے خلاف جھوٹ بول کر گلگت بلتستان کے بارے میں یہ موقف اختیارکیا کہ یہ متنازعہ علاقہ ہے اور پاکستان کو کسی تیسرے ملک کے ساتھ مل کر یہاں اس قدر بڑی سرگرمی کا حق حاصل نہیں۔

کچھ عرصہ قبل گلگت بلتستان کے آئی جی پولیس نے انکشاف کیا تھا کہ سیکیورٹی اداروں نے علاقے میں پاک چین اقتصادی راہداری کے خلاف بڑی کارروائی کی تیاریاں کرنے والے گروہ کے بار ہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔

یہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی ایما پر سرگرم گروہ تھا، جسے ایجنسی نے منظم ہونے اور کارروائیاں کرنے کے لئے تیس کروڑ کی ادائیگی بھی کر دی تھی۔اس گروہ کے قبضے سے کئی کلاشنکوفیں،حساس مقامات کے نقشے اور ٹیلی سکوپ برآمد کئے گئے۔

گرفتارکئے گئے مشتبہ افرادکاتعلق بلوارستان نیشنل فرنٹ (بی این ایف)سے ہے۔یہ افراد پاکستان مخالف نظریات کوفروغ دے رہے ہیں اور غیرملکی ایجنسیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے تھے۔کچھ عرصہ قبل بھارتی میڈیا نے گلگت بلتستان میں علیحدگی کی تحریک، عوامی ورکرز پارٹی اور بابا جان سے متعلق رپورٹ شائع کی۔

اس رپورٹ میں گلگت بلتستان کو پاکستان کا ایسا مقبوضہ علاقہ قرار دیا گیا ہے ،جہاں فوج غیر قانونی طور پر موجود ہے اورلوگوں کو حق خود ارادیت حاصل نہیں ہے اور اس علاقے کے لوگوں کی مرضی کے خلاف یہاں سے سی پیک گزارا جا رہا ہے جس پر یہاں کے لوگ سراپا احتجاج ہیں۔

حقیقت میں یہ رپورٹ بے بنیاد اور جھوٹا پروپیگنڈا ہے۔ بابا جان علیحدگی پسند قوم پرست نہیں ،بلکہ سوشلسٹ ہیں۔ عوامی ورکرز پارٹی ملک کو توڑنا نہیں، بلکہ ملک سے استحصال کا خاتمہ کرکے سماجی انصاف اور برابری کی بنیاد پر ریاست کی تشکیل نو چاہتی ہے، جس میں ریاست ماں جیسی ہو اور سب کے ساتھ برابری کا سلوک کرے۔

عوامی ورکرز پارٹی کے رہنماؤں نے بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی میڈیا کے اداروں اور صحافتی تنظیموں سے ان بے بنیاد اور جھوٹی رپورٹوں کی تحقیقات کروائی جائے ۔ بھارتی میڈیا میں چھپنے والی رپورٹ میں بابا جان کی الیکشن مہم کے سلسلے میں ہونے والی ایک بڑی ریلی کو بنیاد بنایا گیا ہے اور اسے علیحدگی کی تحریک بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ ریلی ہنزہ میں منعقد ہوئی تھی۔ ریلی میں نہ تو کوئی پاکستان مخالف نعرہ لگا اور نہ ہی آزادی یا علیحدگی کا۔

مزید : کالم