سَت رنگیا پاکستان

سَت رنگیا پاکستان
 سَت رنگیا پاکستان

  

مصورِ پاکستان حضرت علامہ محمد اقبال ؒ کے خواب کی تعبیر کی صورت اور بانی پاکستان حضرت قائدِاعظم ؒ کی جدوجہد کے نتیجہ میں جو آزاد خطہ ہمیں عطیہ خداوندی کے طور پر نصیب ہوا درحقیقت یہ مدینہ ثانی ہے۔

اس اسلامی جمہوری ریاست کے آئین میں ہی یہ بات شامل ہے کہ اس میں بسنے والے تمام شہریوں کو یکساں حقوق میسر ہوں گے ۔غیرمذاہب سے تعلق رکھنے والی اقوام اپنے اپنے مذاہب اور عقائد کے مطابق آزادانہ طور پر زندگی گزار سکیں گی اور ریاست اس سلسلہ میں تمام سہولیات و وسائل فراہم کرے گی۔

الحمد للہ ریاست پاکستان نے جو وعدہ آئین میں کر رکھا ہے، اس پر سو فیصدی عمل ہو رہا ہے۔ انسانی حقوق کے سب سے بڑے دعویدار امریکہ اور بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جاتا ہے، اس کی مثال یہاں چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔انفرادی طور پر کوئی چھوٹاموٹا واقعہ پیش آ جائے اور ریاستی ادارے اس میں انصاف نہ کر پائیں تو یہ میرے دعوے کی نفی کے طور پر پیش کیا جانا قرین انصاف نہ ہوگا۔

میں اس دعوے پر صدق دل سے قائم ہوں کہ ریاستی ایجنڈے پر کسی بھی اقلیتی فرد کو کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہ آج تک پہنچا یا گیا ہے اور نہ ہی آئندہ کے لئے اس کا تصور تک موجود ہے۔

ریاست پاکستان کے اسی چارٹر کے تحت تمام مذاہب کے لوگ اپنے اپنے مذہب اور عقیدے کے مطابق آزادانہ زندگی گزار رہے ہیں اور اپنے مذہبی اور علاقائی تہوار باقاعدگی سے مناتے چلے آرہے ہیں۔گذشتہ دنوں ہندو برادری نے دیوالی کے موقع پر ملک بھر میں آزادانہ تقریبات کا انعقاد کیا اور خوشی کے اس تہوار کو خوب انجوائے کیا۔

اسی سلسلہ میں ایک تقریب لاہور میں انعقاد پذیر ہوئی۔’’آواری ہوٹل‘‘ میں منعقد ہونے والی ’’دیوالی ملن پارٹی‘‘ میں سردار منموہن سنگھ صدر مینارٹیز ویلفیئر کونسل پنجاب کے توسط سے شمولیت کی دعوت ملی۔

سردارجی پاکستان میں آباد مینارٹیزکے حقوق اورفلاح و بہبود کے لئے مثالی جدو جہد کر رہے ہیں اور پاکستان میں بسنے والے تمام مذاہب کے لوگوں میں ایک پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ننکانہ صاحب سے تعلق رکھنے والے سردار منموہن سنگھ جی ایک محب وطن پاکستانی ہیں اوروطن سے محبت ان کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔وہ اپنے گرو جی بابا گرونانک کی جنم بھومی سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور اس کی حفاظت کے لئے اپنے جان قربان کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔

سردار جی تمام پاکستانیوں کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں اور اس ناطے ان کی خوشی ،غمی میں شرکت اپنا ’’قومی فریضہ‘‘ جانتے ہیں، اگرچہ دیوالی کی اس تقریب کا اہتمام پاکستان میں بسنے والی ہندو برادری نے کیا تھا اور ڈاکٹر منور چاند اس کے میزبان تھے، لیکن سردار منموہن سنگھ اس کے انتظامات میں پیش پیش تھے اور انہوں نے مہمانوں کا استقبال کیا اور ان کو بصد احترام رخصت کیا۔ تمام مذاہب کے نمائندہ افراد کو اس تقریب میں مدعو کیا گیا تھا۔

مجھے اس تقریب میں وطن عزیز کی ممتاز کاروباری شخصیت خواجہ شجاع اللہ (چیئرمین دی پاکستان ٹور ازم ) اور معروف سکالر،شاعر و ادیب، سفیر امن سیدعباس زیدی (مرکزی وائس چیئرمین عالمی امن تحریک) کی معیت میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہوا۔

سات رنگوں سے مزین یہ تقریب کئی حوالوں سے منفرد تھی۔ مختلف رنگوں کا حسین امتزاج پاکستان کے اصل چہرے کا عکاس تھا۔دیوالی کی خوشی روشنی بن کر چہروں پر جگمگا رہی تھی ہر چہرہ گلنار نظر آ رہا تھا۔ میں نے ایسی خوشی کم تقریبات میں محسوس کی ہے۔

تقریب اپنے روایتی انداز میں جاری تھی، جب ہم شامل ہوئے۔ تاخیر سے پہنچنے کی وجہ ٹریفک کا بے پناہ دباؤ تھا ، لیکن میں تقریب کے منتظمین اور سردارمنموہن سنگھ جی سے ایک مرتبہ پھر بذریعہ تحریر معافی کا خواستگار ہوں۔تقریب سے مختلف مذاہب و عقائد کے لوگوں نے خطاب کیا۔ سب کے خطابات یہاں پیش کرنا ممکن نہیں البتہ ان کا لب لباب پیش کر سکتا ہوں۔

سارے مقررین نے کہا کہ پاکستان ہم سب کا مشترکہ وطن ہے۔ اس سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور اسکی تعمیرو ترقی میں حصہ لینا ہمارا قومی فریضہ ہے۔بین الاقوامی طور پر اس کے مثبت تشخص کو برقرار رکھنا ہماری اولین ذمہ داری ہے اور اس کی عزت و ساکھ کی حفاظت ہمیں سب سے مقدم ہے۔

میری درخواست پر میری جگہ خواجہ شجاع اللہ کو دعوتِ خطاب دی گئی ۔خواجہ شجاع اللہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بسنے والے تمام شہری برابر حقوق کے حامل ہیں ،ان کو اپنے مذہب اور عقیدے کے مطابق اپنی خوشیاں اور تہوار منانے کی مکمل آزادی ہے اور ہم اپنے بھائیوں کی ہر خوشی اور غم میں برابر کے شریک ہیں۔

آخری مقرر کے طور پر سید عباس زیدی کو بلایا گیا ۔ سید عباس زیدی (مرکزی وائس چیئرمین عالمی امن تحریک) پوری دنیا میں امن کے لئے آواز اٹھا رہے ہیں ۔بانی چیئرمین فلمسٹار عنایت حسین بھٹی مرحوم کے وژن کے مطابق پوری دنیا میں پائیدار امن ان کا خواب ہے۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا حضرت عیسیٰ ؑ ،مہاتما گوتم بدھ،کرشن جی اوتار سے لے کر نبی آخرالزماں حضرت محمد ؐ تک سب کا ایک ہی فلسفہ تھا کہ پر امن رہنے والوں کو ان کے مذہب اور عقیدے کے مطابق پر امن زندگی گزارے کا حق دو۔

امن کے لئے خطرہ بن جانے کی صورت میں فرد واحد نہیں ریاست حرکت میں آئے اور صرف وہ اقدامات کرے جو امن کی بحالی کے لئے ناگزیر ہوں۔ کسی فرد کو یہ حق ہر گز حاصل نہیں کہ وہ انفرادی فیصلہ سے کسی جنگ کا آغاز کر دے۔

یہ بذات خود ایک فتنہ تصور ہوگا اگرچہ اس کی بنیاد اخلاص اور حب الوطنی پر ہی کیوں نہ رہی ہو۔انہوں نے کہا تمام انبیاء ؑ کی تعلیمات کا مرکز انسان دوستی اور انسانیت رہا ۔

کسی نبی نے اپنے پیروکاروں کو انسان سے نفرت کا سبق نہیں دیا،انہوں نے حاضرین سے سوال کیا اگر یہ تمام ہستیاں ایک ساتھ جلوہ گر ہوں توکیا یہ آپس میں نفرت کا اظہار کر کے خود اور اپنے پیروکاروں کو باہم برسر پیکار ہونے کا درس دیتیں؟ ہر گز نہیں ۔

وہ بھی محبت کاپیغام دیتیں۔ تمام انسانوں کو کنبہ خدا کہہ کر بھائی چارے اور محبت کا درس دیتیں اور دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کرتیں۔

سفیر امن سید عباس زیدی کے خطاب کو حاضرین نے خوب سراہا اور بھر پور داد دی۔ مجھے فخر محسوس ہوا کہ ’’عالمی امن تحریک‘‘ کو ان کی شکل میں ایک معتدل مزاج قائد مل چکا ہے ۔

سید عباس زیدی ایک متحرک شخص ہیں۔ امید ہے، ان کی کاوشوں سے ’’عالمی امن تحریک ‘‘ کے فلسفہ امن کو مزید فروغ ملے گا اور مرحوم عنایت حسین بھٹی کے مشن کی تکمیل ممکن ہو سکے گی۔میرے نزدیک دنیا میں دو طرح کے لوگ عظمت کے اعتبار سے بلند ہیں۔

ایک وہ جو اپنی خوشیوں میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ نمبر دو وہ جو دوسروں کے غموں کو بانٹ کر ان کے غموں کو ہلکا کر دیتے ہیں۔ ہندو برادری نے دیوالی کے موقع پر اپنی خوشیاں دوسروں میں بانٹ کر اپنی عظمت کا ثبوت دیا ہے۔

پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کے دکھ درد کو بانٹ کر ہم بھی اپنی بڑائی کا ثبوت دے سکتے ہیں۔ پاکستان زندہ باد۔

مزید : کالم