امریکہ سے درست اور جائز مطالبہ

امریکہ سے درست اور جائز مطالبہ

وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ امریکہ سے تعلقات کے زیادہ بہتر ہونے کی خوش فہمی میں مبتلا نہیں تمام پالیسیاں بیرونی طاقتوں کے مفادات کے تحت نہیں بلکہ پاکستان کی سالمیت، خود مختاری اور مفادات کو مدِ نظر رکھ کر تشکیل دی جائیں گی۔ امریکہ کو ضروری پیغام دے دیا گیا ہے کہ ہم اپنے مفادات کو سو فیصد ترجیح دیں گے باقی چیزوں کی اہمیت ثانوی ہوگی اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کو قصوروار ٹھہرانا امریکی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے امریکہ سے ماضی کی طرح رویہ نہیں رکھیں گے اس کے مفادات بدلتے رہتے ہیں البتہ امریکہ پر یہ واضح کردیا گیا ہے کہ قابلِ عمل انٹیلی جنس دیں تو کارروائی کریں گے، محض خالی خولی بات نہ کریں، سینیٹ میں امریکی وزیر خارجہ کے دورۂ پاکستان پر بحث کو سمیٹتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے امریکہ کی جنوبی ایشیا کی نئی پالیسی کا ڈھانچہ اُن جرنیلوں نے بنایا جنہوں نے گزشتہ 15 برسوں میں افغانستان میں ہزیمت کا سامنا کیا ہے امریکہ کے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا ہے کہ پاکستان معلومات فراہم کرنے پر اپنے ملک میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنا چاہتا ہے تاہم ٹرمپ انتظامیہ اسے درست ثابت ہونے کے لئے ایک موقع دینے کا منصوبہ بنارہی ہے۔ ٹلرسن نے کہا پاکستان حقانی نیٹ ورک سے تعلق ختم کرے اور اپنے روشن مستقبل کا سوچے۔

جنوبی ایشیا کے بارے میں نئی امریکی پالیسی سامنے آنے کے ساتھ ہی یہ تو واضح ہوچکا ہے کہ اب خطے میں امریکہ کی ترجیحات کیا ہوں گی اور وہ علاقے کے ملکوں سے کس قسم کے تعلقات رکھے گا، بھارت کو وہ ’’فطری حلیف‘‘ قرار دے چکا اور اب اس کے تقاضے پورے کرنے کے لئے آنکھیں بند کرکے آگے بڑھ رہا ہے، افغانستان میں بھارت کو وسیع تر فوجی کردار سونپنے پر بھی تلا ہوا ہے لیکن ڈرے ہوئے بھارت کی اپنی حالت یہ ہے کہ وہ امریکہ کے بار بار کے مطالبے کے باوجود افغانستان میں فوج بھیجنے کے لئے تیار نہیں کیونکہ اسے معلوم ہے جس طرح کابل اور بعض دوسرے شہر دہشت گردی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں اگر اس کی افواج وہاں موجود ہوں گی تو دہشت گردی انہیں بھی لپیٹ میں لے لے گی، خواجہ آصف نے بالکل درست کہا ہے کہ نئی جنوبی ایشیا ئی پالیسی اُن جرنیلوں نے ترتیب دی ہے جو گزشتہ پندرہ برس میں افغانستان میں ہزیمت سے دوچار رہے، صدر ٹرمپ ویسے بھی ان پر گرج برس رہے تھے اور موجودہ جرنیلوں میں سے ایک کو تو برطرف کرنے پر بھی سوچ رہے تھے، ایسے میں ان جرنیلوں نے اپنی مسلسل ناکامیوں کا کوئی نہ کوئی جواز تو تلاش کرنا تھا اور کسی نہ کسی پر تو ملبہ ڈالنا تھا سو اُنہیں افغانستان کے ہمسائے میں پاکستان ہی ایک ایسا ملک نظر آیا جس پر یہ ملبہ ڈالا جاسکتا تھا اور اس لئے بیانیہ یہ ترتیب دیا گیا کہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی نہیں کی جارہی ٹرمپ اپنی ذہنی ساخت کی وجہ سے یہ سودا خریدنے پر بھی تیار تھے اس لئے یہی کیا گیا۔

پاکستان نے دہشت گردی میں سب سے زیادہ نقصان اُٹھایا، امریکہ میں تو نائن الیون کے بعد کوئی بڑی دہشت گردی نہیں ہوئی جو اِکا دُکا واقعات ہوئے اُن کی وجوہ مختلف تھیں لیکن پاکستان جب سے اس جنگ میں شامل ہوا اُسے جانی قربانیوں کے ساتھ ساتھ معیشت کی تباہی کی صورت میں بھی بھاری نقصان اُٹھانا پڑا اور امریکہ نے کولیشن سپورٹ فنڈ کی شکل میں جو امداد کی وہ نقصان کے مقابلے میں بہت معمولی تھی۔ بدقسمتی یہ ہوئی کہ یہ سب قربانیاں بھی امریکہ کی نظرمیں حقیر ٹھہریں اور اس کی سوئی حقانی نیٹ ورک پر آکر رک گئی ہے، حالانکہ پاکستان بار بار واضح کرچکا ہے کہ پاکستان نے اپنی سرزمین کے اندر دہشت گردوں کے ہر طرح کے ٹھکانے ختم کر دیئے ہیں اور یہ کام کوئی آسانی سے نہیں ہوا اس کے لئے پاکستان نے بہت کچھ داؤ پر لگایا جانی و مالی قربانیوں کے ساتھ ساتھ اس کا معاشرتی تارپود بھی بکھر کر رہ گیا اور مختلف النوع قباحتیں در آئیں جن کے خاتمے کے لئے نہ جانے کتنا وقت لگے، لیکن امریکیوں کو یا تو یہ بات سمجھ نہیں آ رہی یا پھر وہ تجاہلِ عارفانہ سے کام لے کر حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں کرنے کی رٹ لگائے ہوئے ہیں اور اب وزیرخارجہ ٹلرسن ’’ایک اور موقع‘‘ دینے کی بات کرر ہے ہیں۔حقانی نیٹ ورک اگر افغانستان میں کوئی کارروائیاں کر رہا ہے تو امریکی اور افغان فورسز کو مل کر اس کے ٹھکانے افغان سرزمین پر تلاش کرنے چاہئیں اور ان کا خاتمہ کرنا چاہیے افغانستان میں لڑنا پاکستان کا کام نہیں۔ پاکستان تو صرف یہ کر سکتا ہے کہ اگر کوئی متعین معلومات دی جائیں کہ فلاں مقام پر کوئی ایسے ٹھکانے موجود ہیں جن کے خلاف قابلِ عمل کارروائی ہو سکتی ہے تو پاکستان کی افواج اس کا جائزہ لے کر کارروائی کر سکتی ہیں سایوں کے تعاقب سے تو کچھ حاصل نہیں ہو گا اور نہ ہی اس کا کوئی نتیجہ نکل سکتا ہے یہ کارِ بے خیر اور وقت کا ضیاع ہو گا۔

امریکی وزیرخارجہ ابھی پاکستان کا دورہ کرکے گئے ہیں یہاں ان کی پاکستان کے اعلیٰ حکام سے جو ملاقاتیں ہوئیں اگر اس کے بعد بھی ان کا اطمینان نہیں ہوا تو متعلقہ حکام کی سطح پر مزید ملاقاتوں کے ذریعے تبادلہء خیال ہو سکتا ہے، افغانستان میں امریکی فوجی کمانڈروں کے ساتھ بھی معلومات پر بات ہو سکتی ہے اور کارروائی کے لئے اگر ممکن ہو تو پاکستان کا تعاون طلب کیا جا سکتا ہے لیکن جس انداز میں ٹلرسن بات کررہے ہیں اس سے تو کچھ حاصل نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ دونوں ملکوں کے جو تھوڑے بہت تعلقات باقی رہ گئے ہیں ان پر بھی برف جم جائے، بہتر یہ ہے کہ امریکہ حقیقت پسندانہ پالیسی اختیار کرے اور پاکستان جیسے دوست کو جس نے ماضی میں اس کے لئے بہت کچھ کیا، یوں الزامات کا نشانہ بنا کر سابقہ خدمات کو نظر انداز نہ کرے، تعلقات آئندہ بہتر بھی ہو سکتے ہیں لیکن فی الحال انہیں مزید بگاڑ کی طرف نہ جانے دیا جائے۔

مزید : اداریہ