ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان کے لئے نوجوانوں کی اہمیت

ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان کے لئے نوجوانوں کی اہمیت

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے واضح کیا ہے کہ نوجوان ہی ملک کا حقیقی مستقبل ہیں۔ طالب علموں کو چاہئے کہ وہ خوشحال اور ترقی یافتہ ملک کی منزل کے حصول کے لئے سخت محنت کریں۔ موجودہ حکومت عوام کی خدمت کے جذبے سے صحت، تعلیم، روزگار کے لئے سازگار ماحول، جان ومال کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنارہی ہے۔ وزیر اعظم نے اِن خیالات کا اظہار مختلف تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کے ایک گروپ سے ملاقات کے دوران کیا۔ طالب علموں کے اس گروپ نے وزیر اعظم کے یوتھ پروگرام سے آگہی کے لئے دورہ کیا جبکہ انہیں حکومتی امور اور ذمے داریوں سے آگاہ کرتے ہوئے نظام حکمرانی کے مشاہدے کا موقع بھی فراہم کرنا مقصود تھا۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے طالب علموں کے گروپ کی ملاقات اس لحاظ سے مفید ثابت ہوگی کہ نوجوانوں کو حکومتی امور اور نظام حکومت چلانے کے بارے میں معلومات حاصل ہونے سے اُن کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ نوجوانوں خصوصاً طالب علموں کو ایسے مشاہدات اور معلومات کے مواقع فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رہنا چاہئے۔ ایسے دورے یوتھ پروگرام کی کامیابی کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نوجوان ہی ہمارے مستقبل کا اثاثہ ہیں جن کی صلاحیتیں اور جدوجہد ملکی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ماضی میں تقریباً ہر حکومت نے نوجوانوں کے لئے مختلف پروگراموں کا اعلان کیا لیکن نوجوانوں کو یہ شکایت رہتی ہے کہ عملی طور پر اُن کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لئے بہت کم کام ہوا ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ ملکی ترقی اور خوشحالی کے لئے انہیں بھرپور طریقے سے مواقع نہیں دیئے گئے۔یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ علامہ اقبالؒ اور قائد اعظمؒ نے اپنے افکارو ارشادات کے ساتھ ساتھ پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے نوجوانوں کو اہمیت دینے پر زور دیا تھا علامہ اقبالؒ نے اپنی شاعری میں نوجوانوں کو شاندار انداز میں مخاطب بھی کیا جبکہ قائد اعظمؒ تو طالب علموں کو تحریک پاکستان کا ہر اول دستہ قرار دیتے ہوئے انہیں فعال رہنے کی تلقین کرتے رہے۔ حوصلہ افزا بات ہے کہ موجودہ حکومت بھی ملکی ترقی اور خوشحالی کے حوالے سے نوجوانوں کو بڑی اہمیت دے رہی ہے۔ اگرچہ تین عشروں سے وطنِ عزیز دہشت گردی اور تخریب کاریوں کا شکار چلا آیا ہے تاہم گزشتہ دو سال کے دوران صورت حال بہتر ہونے پر حکومتی سطح پر نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کی سہولتیں مہیا کرنے کے لئے جو پروگرام شروع کئے گئے ہیں، وہ کامیابی سے چل رہے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ نوجوانوں کو سیاسی اور مفاداتی نعروں میں اُلجھا کر اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا سلسلہ چل نکلا ہے لاہور، اسلام آباد، کراچی اور دیگر شہروں میں مختلف جامعات میں پرتشدد کارروائیوں ، ہڑتال اور تالہ بندیوں سے طالب علموں کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوتی رہی ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں تو ایک ماہ بعد کلاسز شروع ہوئی ہیں۔ طالب علموں کو ایسی صورت حال سے لاتعلق رہنے کی ضرورت ہے۔ وہ ملکی ترقی اور خوشحالی کے لئے ہی جدوجہد کریں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم کے مستبل اور ملکی اثاثے کی حفاظت کرتے ہوئے انہیں مشترکہ سرمایہ قرار دے کر صحیح منزل کی طرف گامزن کیا جائے اور اُنہیں صلاحیتوں کے عملی اظہار کے مواقع بھی مہیا کئے جائیں۔

مزید : اداریہ