احتساب، احتساب، احتساب، کون کرے گا، نیایا پرانا؟

احتساب، احتساب، احتساب، کون کرے گا، نیایا پرانا؟
 احتساب، احتساب، احتساب، کون کرے گا، نیایا پرانا؟

  

وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کا دعویٰ ہے کہ پارلیمانی کمیٹی میں موجود تمام جماعتوں نے احتساب کمیشن کے مسودہ قانون پر اتفاق کرلیا گیا ہے اور جلد ہی اسے ایک مربوط بل کی شکل دے کر قومی اسمبلی میں پیش کردیا جائے گا، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس قانون کی منظوری کے بعد موجودہ احتساب بیورو ختم اور اس کی جگہ کمیشن لے لے گا، تاہم احتساب بیورو کے پاس کرپشن کے جو مقدمات زیر تفتیش یا عدالتوں میں زیر سماعت ہیں وہ متاثر نہیں ہوں گے اور کمیشن کو منتقل ہو جائیں گے، وزیر قانون کے اس دعوے کے برعکس پاکستان تحریک انصاف کی رکن شیریں مزاری نے احتجاج کیا اور کمیٹی سے واک آؤٹ کرگئیں، ان کے مطابق تحریک انصاف کی طرف سے پیش کی گئی تجاویز کو زیر غور ہی نہیں لایا گیا اور مسلم لیگ (ن) نے اپنی بچت کے راستے ڈھونڈلئے ہیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ تحریک انصاف اب اپنی تجاویز ایوان میں پیش کرے گی، معزز رکن شیریں مزاری کی اس گفتگو سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کے سوا باقی تمام جماعتوں کے نمائندہ حضرات نے صاد کردیا اور اتفاق رائے ہوہی گیا کہ خبر کے مطابق پیپلز پارٹی نے فاضل جج حضرات اور جرنیلوں کو بھی احتساب کے دائرہ کارمیں لانے والی ترامیم واپس لے لی ہیں، مسلم لیگ (ن) اس کی مخالف تھی اور یہ موقف تھا کہ عدلیہ اور فوج کے اندر احتساب کا اپنا نظام موجود ہے۔

یہ مسودہ قانون بھی عوامی نمائندوں کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ 2008ء کے انتخابات کے بعد بننے والی پیپلز پارٹی کی حکومت کے دور میں احتساب بیورو کی جگہ احتساب کمشن بنانے کے لئے یہ بل پیش کیا گیا جسے مجلس قائمہ کے سپرد کیا گیا تھا، اس مجلس قائمہ میں اتفاق رائے نہ ہوسکا کہ اس وقت کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور حزب اختلاف مسلم لیگ (ن) کے درمیان کمیشن کے چیئرمین اور اراکین کی اہلیت اور تقرر پر اختلاف تھا تب پیپلز پارٹی کا موقف تھا کہ چیئرمین کی اہلیت سپریم کورٹ کے جج کے مطابق ہو اور عدلیہ کے باہر سے بھی سربراہ لیا جاسکے بشرطیکہ وہ اہلیت کے حوالے سے سپریم کورٹ کا جج بن سکتا ہو، اسی طرح اراکین بھی عدلیہ سے باہر والے لئے جانے کی تجویز تھی اہلیت ہائی کورٹ کے جج بننے والی ہو، مسلم لیگ (ن) کو اختلاف تھا اور ان کے مطابق چیئرمین اور اراکین کمیشن براہ راست عدلیہ سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹوں کے حاضر سروس جج ہوں، یوں یہ بل لٹکا رہا اور پھر 2013ء کے انتخابی نتائج نے حکومت کی باگ ڈور مسلم لیگ (ن) کے حوالے کردی، اس دور میں اس بل کو قابل قبول بنانے اور اتفاق رائے حاصل کرنے کے لئے تمام جماعتوں کی نمائندہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی گئی تھی جواب تک اس مسودہ قانون پر حتمی اتفاق رائے نہ کرسکی۔

اس میں کئی اختلاف اور بھی پیدا ہوئے، اب وزیر قانون اتفاق رائے کا اعلان کررہے ہیں، اگر تحریک انصاف کے سوا باقی جماعتوں کا اتفاق ہوگیا ہے تو پھر اس کے قانون بننے میں کوئی امر مانع نہیں ہوگا کہ باقی سب متفق ہیں۔

یہ سب اپنی جگہ، تاہم یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ دونوں ’’باری‘‘ لینے والی جماعتیں اپنے اپنے بچاؤ کے لئے موجودہ احتساب بیورو کی جگہ کمیشن بنارہی ہیں، اس تاثر کی تردید بھی کی گئی اور اب واضح کیا گیا کہ نوٹس لئے گئے کیس جاری رہیں گے کہ قانون کا اطلاق موثر بہ ماضی نہیں ہوگا نیب کے موجودہ چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال کی تقرری حال ہی میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی باہمی رضا مندی سے ہوئی لیکن موجودہ حالات میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ دونوں بڑی جماعتیں چیئرمین سے نالاں ہیں لہٰذا نیا قانون منظور ہوگیا تو کمیشن کا چیئرمین بننے کے لئے جسٹس(ر) جاوید اقبال کے تقرر کی دوبارہ منظوری دینا پڑے گی۔

اس سلسلے میں یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ جسٹس(ر) جاوید اقبال کا تقرر تو باہمی رضا مندی سے ہوا تاہم موجودہ اور سابق حکمران جماعتیں ان پر اعتراض اٹھا رہی ہیں اور کہا جارہا ہے کہ انصاف نہیں ہورہا، اس سلسلے میں پہلے تو صرف مسلم لیگ (ن) ہی اعتراض کرتی تھی اب پیپلز پارٹی بھی معترض ہے۔نیا قانون منظور ہوا تو چیئرمین کا تقرر دوبارہ ہوگا کیا موجودہ چیئرمین قبول ہوں گے؟

مسلم لیگ (ن) کی طرف سے تو خود جماعت کے مرکزی صدر اور سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف شکائت کنندہ ہیں جبکہ پیپلز پارٹی نے اب براہ راست سوال اٹھایا کہ نیب کے دو معیار الگ الگ ہیں ایک مسلم لیگ (ن) اور دوسرا پیپلز پارٹی کے لئے ہے، سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے عدلیہ کو اپنا زیر نگیں جانا اور اپنے خلاف ریفرنس کو بے انصافی قرار دیا ہے پیپلز پارٹی کے شرجیل میمن نے تو واضح طور پر تعصب اور جانب داری کا الزام لگایا اور کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے لئے الگ الگ معیار ہیں۔

یہ صورت حال شاید اس لئے ہے کہ موجودہ چیئرمین نے نیب کو سرگرم کردیا اور پرانے مقدمات بھی کھولنا شروع کردیئے ہیں، نیب کی طرف سے اسحق ڈار کے صاحبزادوں اور ان کی طلبی کے ساتھ ہی تحریک انصاف کے عبدالعلیم خان کو بھی طلب کیا گیا ہے اسی طرح سابق وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین اورسابق نائب وزیر اعظم پرویز الہٰی کو بھی بلالیا گیا ہے، یہ سب نئے چیئرمین کے بعد شروع ہوا اب پانامہ سکینڈل میں بھی ماہرین کے ذریعے باقاعدہ تحقیق اور پیروی کا کام شروع ہے۔

نظر بظاہر یوں محسوس ہونے لگا ہے کہ ہمارے پیارے راہنماؤں کی یہ بات تسلیم کرلی گئی ہے کہ سب کا احتساب اور پھر الیکشن ہوں، اب ’’احتساب سب کا‘‘ والی بات شروع ہوچکی ہے لیکن جونہی قانون منظور ہوا، نیب کے موجودہ ڈھانچے کی جگہ کمیشن تشکیل دینے کا نوٹیفکیشن ہوگیا تو بیورو کے چیئرمین سمیت تمام موجودہ اراکین فارغ ہوجائیں گے اور نئے سرے سے نئے قانون کے مطابق بورڈ کی تشکیل نو ہوگی، کمیشن کے چیئرمین اور اراکین کا نیا چناؤ ہوگا یوں موجودہ چیئرمین کا اپنا انتخاب بھی ہوگا۔

یہ دلچسپ صورت حال ہے اور ملک کے سیاسی محاذ پر بھی جنگ جاری ہے اب تو ’’احتساب سب کا‘‘ والامطالبہ منظور ہوگیا ہے، کمیشن کب بنے گا، اس کا چیئرمین اور اراکین کون ہوں گے ابھی سے غور کرلینا چاہئے کہ تاخیر نہ ہو، چودھری اعتزاز احسن اور کئی دوسرے مرکزی راہنماؤں نے کمیشن کے حوالے سے تحفظات بھی اظہاربھی کردیا ہے، تاہم عدلیہ کے ماتحت اور روشن خیال اور آزاد اراکین کا چناؤ کرتا ہوگا، سوال یہ ہے کہ موجودہ چیئرمین واپس لئے جائیں گے؟ موجودہ صورت حال میں ممکن نہیں۔

مزید : کالم