آئمہ و خطبائے مساجد کا معاشی مسئلہ

آئمہ و خطبائے مساجد کا معاشی مسئلہ
 آئمہ و خطبائے مساجد کا معاشی مسئلہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں علمائے کرام اور امام و خطیب مساجد کا معاشی مسئلہ نہایت گھمبیر اور توجہ طلب ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں مغلیہ دورِ حکومت کے دوران علمائے کرام اور آئمہ و خطبائے مساجد کے معاشی مسئلے کی جانب خاص توجہ دی جاتی تھی، ان کے نام پر محکمہ قضا کی جانب سے زمین کے مخصوص رقبے سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے روزی کا سامان فراہم ہوتا تھا، عدالتوں میں قاضی مقرر کئے جاتے تھے اور مسجدوں میں آئمہ، خطباء اورموذن براہِ راست حکومت کی جانب سے مشاہرے وصول کرتے تھے۔

فرنگی دورِ حکومت میں بھی آئمہ و خطبائے مساجد کے نام محکمہ قضا کی طرف سے جو مراعات موجود تھیں، انہیں بحال رکھا گیا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد اس کے بانی قائد اعظمؒ نے علمائے کرام کی خدمات سے استفادے کی خاطر استاد محترم علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کو مقرر کیا تھا، جنہوں نے علامہ سید محمد سلیمان ندویؒ ، علامہ اسدؒ ، مولانا ظفر احمد عثمانیؒ ، مولانا احتشام الحق تھانویؒ ، مولانا عبدالحامد بدایوانیؒ ، مولانا ظفر احمد انصاریؒ ، مولانا ابولحسنات محمد احمد قادریؒ ، مولانا محمد متین خطیبؒ ، مولانا سید محمد داؤد غزنویؒ اور دیگر شخصیات کو پاکستان کا دستوری مسئلہ حل کرنے کے لئے مقرر کیا تھا۔ انہوں نے اسلامی امور کی انجام دہی کے لئے اعلیٰ صلاحیتوں اور لائقِ تحسین کارناموں کا مظاہرہ کیا تھا۔۔۔مگر قائد اعظمؒ کی وفات کے بعد کے حکمرانوں کی ترجیحات بدلنے سے علماء خطباء اور آئمہ مساجد کے مسائل نظر انداز ہوگئے ہیں۔

یہاں پر یہ بات خصوصاً قابلِ ذکر ہے کہ 1947ء میں مشرقی پنجاب سے جو نامور اور ممتاز علمائے کرام پاکستان میں آئے تھے، ان میں سے مولانا انوار الحسن شیر کوٹی فاضل دارالعلوم دیوبند تلمیذ علامہ شبیر احمد عثمانیؒ ، مولانا محمد جعفر پھلوارویؒ ، خطیب تاریخی جامع مسجد کپور تھلہ اور نذیر احمد عرشی امرتسریؒ کے اسمائے گرامی اس لئے خصوصاً قابلِ ذکر ہیں کہ ان جید علمائے کرام کو پنجاب مسلم لیگ کے حکمرانوں نے پولیس انسپکٹر کی آسامی پر فائز کیا اور تھانہ میکلوڈ روڈ متصل دفتر روزنامہ زمیندار لاہور میں ان کا دفتر واقع تھا۔

یہ حضرات اپنی اور پولیس کی سرگرمیوں کی رپورٹیں لکھا کرتے تھے۔ کچھ عرصے کے بعد مولانا جعفر پھلوارویؒ کو ادارہ ثقافتِ اسلامی حکومت پنجاب میں ریسرچ سکالر مقرر کردیا گیا اور مولانا انوار الحسن شیر کوٹی کو لائل پور کے اسلامیہ کالج میں اسلامیات کا پروفیسر مقرر کردیا گیا تھا یاد رہے کہ مولانا انوار الحسن شیر کوٹی قیام پاکستان سے قبل راندھیر کالج کپورتھلہ میں اسلامیات کے پروفیسر تھے۔ ان حقائق سے بخوبی رائے قائم کی جاسکتی ہے کہ پاکستان میں علماء کا معاشی مسئلہ حل کرنے اور ان کے شایانِ شان کس قسم کے اعزاز و اکرام کے اقدامات کئے گئے تھے۔ بعدازیں اگرچہ مختلف مسلم لیگی سیاست دان برسر اقتدار آئے، مگر کسی نے بھی علمائے کرام، آئمہ و خطبائے مساجد کا معاشی مسئلہ حل کرنے کی جانب قطعاً توجہ نہیں دی۔

جب فوجی حکمران محمد ایوب خان(فیلڈ مارشل) نے سیاست دانوں کی بساط لپیٹ کر مارشل لاء نافذ کردیا تو اس دور میں محکمہ اوقاف کے چیف ایڈمنسٹریٹر محمد مسعود کھدر پوش مقرر کئے گئے تھے۔ مسعود صاحب سے میرا گہرا تعلق خاطر ان دنوں قائم ہوا تھا، جب وہ مظفر گڑھ کے ڈپٹی کمشنر تھے۔

انہوں نے ہی امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی پونے دو گھنٹے کی تقریر ریکارڈ کی تھی جو بعدازاں ان کے تین سال بیرونی ممالک کے معلوماتی دورے کے دوران صندوق میں رکھی کیسٹ منجمد ہو کر ضائع ہوگئی تھی۔

بہر حال مسعود صاحب کی توجہ علمائے کرام کے معاشی مسئلے کی جانب مبذول کرائی گئی تو انہوں نے تجویز پیش کی کہ بیرونی ممالک میں گوشت کی کمی ختم کرنے کے لئے وسیع پیمانے پر مرغی خانے قائم کئے جارہے ہیں، اگر علمائے کرام میرے ساتھ تعاون کریں تو دیہات اور شہری مسجدوں کے آئمہ و خطباء کے نام زمین کا رقبہ الاٹ کردیتا ہوں، وہ اس میں چھوٹے پیمانے پر ’’مرغی خانے‘‘ تعمیر کرلیں تو اس سے ان کے فرائض منصبی ادا کرنے میں کوئی الجھن اور پریشانی بھی نہیں ہوگی، کیونکہ دوسرا کوئی بھی شغل، تجارت وغیرہ اختیار کرنے سے انہیں حسبِ ضرورت مساجد کا نظام چھوڑ کر باہر جانا پڑے گا۔

اس نظام(مرغی خانے) میں صرف ایک مرتبہ چوزے لانے پڑیں گے، پھر مرغیوں کی خوراک وغیرہ کا انتظام مسجدوں میں امامت وخطابت یادرس وتدریس کے سلسلے میں قطعاً کوئی رکاوٹ نہیں بنے گا۔

اس تجویز پر چند علمائے کرام اور مسعود مخالف صحافیوں نے (جن کے اپنے مسائل حل اور اپنے معاشی مرغی خانے چل رہے تھے) شور مچانے اور ہنگامے کی راہ اختیار کرکے یہ منصوبہ ناکام بنادیا، بعدازاں میں نے مسعود صاحب کو علماء اکیڈمی قائم کرنے کا مشورہ دیا کہ مختلف دینی مدارس سے فارغ التحصیل علمائے کرام کی تربیت کا انتظام کیا جائے اور تقریر و خطابت، درس وتدریس اور تحریر و کتابت میں تربیت یافتہ حضرات کو حکومتی تعلیمی اداروں (سکولوں، کالجوں) میں اسلامیات اور عربی کی تعلیمات کے لئے استاد مقرر کیا جائے، اس طرح علمائے کرام کا معاشی مسئلہ بآسانی حل ہوسکتا ہے۔

یہ منصوبہ ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا اور بادشاہی مسجد لاہور کے بیرونی کمروں میں علماء اکیڈمی قائم ہوگئی تھی کہ جنرل ایوب خان کے بعد جنرل یحییٰ خان برسر اقتدار آگئے۔ انہوں نے ون یونٹ توڑ کر چاروں صوبے بحال کرنے کے ساتھ مختلف محکموں کے تین سو سے زائد افسروں کو جبراً ملازمت سے برطرف کردیا تھا۔

ان میں محمد مسعود کھدر پوش کو بھی آدھی رات کے بعد بیدار کرکے بورڈ آف ریونیو کے سینئر ممبر اور محکمۂ اوقاف کے سربراہ کے عہدوں سے جبراً فارغ کردیا تھا، چنانچہ علماء اکیڈمی کامنصوبہ عملاً ختم ہوگیا تھا۔ اس سلسلے میں لاکھوں روپے کی کتب افسروں کی بندر بانٹ کا ہدف بن گئی تھیں۔ بعدازیں2008ء سے موجودہ حکومت کے سربراہوں کی خدمت میں بھی خطوط کے ذریعے عصرِ حاضر کے تقاضے کے مطابق اسلامی امور کی جانب توجہ دلائی گئی، مگر پذیرائی نہ ہوسکی۔

حکومت پنجاب کے خادم اعلیٰ شہباز شریف کی خدمت میں بھی خط کتابت کے ذریعے گزارش کی گئی کہ پنجاب میں نامور مصنفین اور محقق حضرات موجود ہیں، آپ کتب سیرت پر ایوارڈ یافتہ حضرات کا خصوصی مشاورتی اجلاس منعقد کرکے لاہور میں سیرت ریسرچ سنٹر اور علماء اکیڈمی کی تجدید کریں اور ان اہلِ علم و قلم کی صلاحیتوں سے استفادے کے اقدامات کئے جائیں۔

اس میں آپ کا روحانی اور مادی فائدہ ہوگا، مگر انہوں نے آٹھ نو برسوں کی گزارشات کو یہ پذیرائی عطا کی کہ مجھے حکومت پنجاب کے محکمہ اوقات کے وزیر عطاء محمد مانیکا سے ملاقات کا ارشاد فرمایا۔ ان کے حسب الحکم میں نے ان سے رابطہ قائم کیا تو ٹیلیفون کے ذریعے انہوں نے ملاقات کا وقت طے کرکے لاہور آنے کا فرمایا۔ میں حسبِ ارشاد ابھی سفر کی تیاری میں تھا کہ وزیر صاحب کے سیکرٹری نے معذرت پیش کی کہ وزیر صاحب آج خاص اجلاس میں مصروف ہیں، پھر دیکھا جائے گا، چنانچہ آج تک وہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوا۔

درحقیقت پاکستان میں علمائے کرام اور مذہبی جماعتوں کی کوئی قدرومنزلت نہیں ہے، البتہ جومذہبی لیڈر اور علمائے اسلام سودے بازی کی صورت میں حکمرانوں کے اقتدار کو طول دینے میں سرگرمِ عمل ہیں، انہیں خوب پذیرائی ملتی ہے اور وزارتوں اور مختلف کونسلوں کی رکنیت کا اعزاز بھی عطا ہوتا ہے۔

اندریں صورت دینی مدارس سے فراغت پانے والے علمائے کرام نے اپنے معاشی مسئلے کا یہی ایک حل نکالا ہے کہ اپنا مدرسہ قائم کریں یا مسجد کی تعمیر کے حوالے سے اللہ کا گھر بنائیں اور زکوٰۃ وصدقات اور عطیات وصول کرکے اپنا معاشی مسئلہ حل کرلیں۔

جہاں تک مساجد کی امامت اور خطابت کا تعلق ہے، جن خوش نصیب حضرات کوموذن، امامت اور خطابت کا چانس مل گیا ہے، وہ معمولی مشاہرے پر خدمات انجام دینے کے لئے اس لئے آمادہ ہوجاتے ہیں کہ مشاہرے کے علاوہ اہل ثروت ان کی ہر طرح مدد کیا کرتے ہیں۔

بہرحال جو علمائے کرام سرکار دربار میں گہرا اثر ونفوذ رکھتے ہیں، وہ اگر اس مسئلے کے حل کی جانب متوجہ ہوجائیں تو ضرور کوئی حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔

دوسری صورت یہ ہے کہ حکمرانوں کے ساتھ تعلق رکھنے والے مذہبی رہنماؤں کو علماء کنونشن میں دعوت دے کر ان کی خدمت میں معاشی اورانتظامی مسائل پیش کرکے ان سے کسی موثر اقدام کی گزارش کی جائے، محض اخباری بیانات یا مضامین کی اشاعت سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اہلِ فکر و دانش علمائے کرام کو اس مسئلے کے حل کی جانب خصوصی توجہ مبذول کرنی چاہیے۔

مزید : کالم