نواز شریف کی واپسی

نواز شریف کی واپسی
 نواز شریف کی واپسی

  

نواز شریف پاکستان پہنچ گئے ہیں، ایک مرتبہ پھر یہ قیاس آرائیاں غلط ثابت ہوئیں کہ وہ اب طویل عرصے تک وطن واپس نہیں آئیں گے۔

وہ آج احتساب عدالت میں بھی پیش ہوں گے اور عدالت نے روزانہ سماعت کا فیصلہ کیا تو شاید انہیں ہر روز عدالت آنا پڑے واپس آتے ہی انہوں نے پھر تنقید کے وہی نشتر چلانا شروع کردیئے ہیں، جو نااہلی کے بعد ان کا بیانیہ رہے، اب رفتہ رفتہ وہ اپنا ٹریک ضرور بدلیں گے، کیونکہ ایک ہی بیانیہ کب تک چل سکتا ہے، انہیں آگے بڑھنا ہوگا۔

وہ کیا پروگرام لے کر پاکستان آئے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا، تاہم جس تیزی کے ساتھ انہوں نے واپسی کا فیصلہ کیا ہے، اس کے پس پردہ کوئی حکمت عملی ضرور رہی ہوگی۔ وہ سعودی عرب میں کئی دن سے مقیم تھے اور کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ ان کا اگلا پروگرام کیا ہے۔

یہاں یہ قیافے لگائے جارہے تھے کہ وہ سعودی عرب سے اپنی مدد کے لئے کوشاں ہیں، تاکہ کوئی نیا این آر او ہوسکے، پھر جب انہوں نے پاکستان آنے کی بجائے لندن جانے کا اعلان کیا تو پیش گوئی کرنے والے پھر متحرک ہوگئے کہ اب نواز شریف نے پاکستان نہیں آنا۔

تاہم جس طرح پچھلی مرتبہ شہباز شریف نے لندن جاکرکرشمہ دکھایا تھا، اسی طرح اس بار بھی ہوا۔ مسلم لیگ (ن) کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہیں، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی شریک ہوئے اور نواز شریف کی واپسی کا فیصلہ کیا گیا، اس کے ساتھ یہ قیاس آرائیاں بھی دم توڑ گئیں کہ مائنس نواز شریف فارمولے پر کام ہورہا ہے، جس کے بعد شہباز شریف پارٹی کی کمان سنبھالیں گے۔

اب دیکھنا یہ ہے، پاکستان میں نواز شریف کے آنے سے کیا سیاسی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، آصف علی زرداری دبئی چلے گئے ہیں، شاید وہ نواز شریف کی پاکستان موجودگی میں اُن کے خلاف محاذ نہیں کھولنا چاہتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آصف علی زرداری کی حددرجہ تنقید کے باوجود نواز شریف نے نااہلی کے بعد سے لے کر اب تک آصف علی زرداری کے خلاف کوئی بات نہیں کی۔ وہ عمران خان، ججوں اور ماضی کے جرنیلوں کے پردے میں عسکری قیادت کو ضرور پیغام دیتے رہے، لیکن انہوں نے آصف علی زرداری کو معاف رکھا۔ شاید وہ اب بھی سمجھتے ہیں کہ آصف علی زرداری اُن کے دوست ہیں اور موجودہ حالات میں اُن کے کام بھی آسکتے ہیں۔ نواز شریف نے اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں مختلف درخواستیں دائر کررکھی ہیں، جن میں وہ نیب کیسوں کے حوالے سے ریلیف چاہتے ہیں، ان درخواستوں پر کیا فیصلہ صادر ہوتا ہے، اس سے قطع نظر نواز شریف اور ان کی قانونی ٹیم کے علم میں یہ بات ضرور ہوگی کہ جو ریفرنسز دائر کئے گئے ہیں، اُن میں بہت جان ہے۔ موثر ثبوتوں اور قانونی دلائل کے بغیر اُن سے چھٹکارہ ممکن نہیں، کیا نواز شریف گزشتہ کامیابی کی طرح جس میں وہ پارلیمنٹ سے نااہل ہونے کے باوجود پارٹی صدارت کابل پاس کرانے میں کامیاب رہے اب احتساب کمیشن کا قانون بنوانے میں بھی کامیاب ہوں گے۔ تاکہ نیب ختم ہو جائے، نیب عدالتیں ختم ہو جائیں اور احتساب کمشن کے ذریعے موجودہ تمام ریفرنسوں کو نظر ثانی کے لئے بھی بھیجا جا سکے اور احتساب کا موجودہ سلسلہ رک جائے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق اس کے لئے جو پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی تھی، وہ مکمل نہیں البتہ کسی حد تک اتفاق رائے پر پہنچ گئی ہے۔ پیپلزپارٹی نے حسب توقع احتساب کمشن کے قیام سے اتفاق کیا ہے تاہم تحریک انصاف اور جماعت اسلامی دو ایسی سیاسی جماعتیں ہیں، جو نیب کو ختم کرنے کے خلاف ہیں یہ معاملات کس طرف کو جاتے ہیں اور ان پر سپریم کورٹ چیلنج ہونے کی صورت میں کیا حکم جاری کرتی ہے، اس کے لئے انتظار کرنا پڑے گا۔ تاہم ایک بات طے ہے کہ نوازشریف اسمبلی میں اپنی اکثریت کو بڑی مہارت سے استعمال کر رہے ہیں اور باوجود شدید تنقید کے وہ اپنی من مانی کئے جا رہے ہیں، جو اپنے ساتھ کچھ خطرات بھی لئے ہوئے ہے۔

مثلاً ایک فرد واحد اگر بنے بنائے نظام کو صرف اس لئے تہس نہس کر دیتا ہے کہ وہ اس کی مرضی پر نہیں چل رہا، یا اسے وہ ریلیف نہیں دے رہا جس کا وہ خواہش مند ہے تو اسے ملک کی مقتدر قوتیں شاید نظر انداز نہ کر سکیں۔

پہلے ہی ملک ایک بحرانی صورتِ حال سے گزر رہا ہے۔ وزیر خزانہ کام نہیں کر رہے، اداروں پر ایک خوف طاری ہے، ملک کے وزیر اعظم اپنے مشن میں واضح نہیں اور ڈکٹیشن لے رہے ہیں، حکومت اپنی گرفت کھو رہی ہے۔

ایسے حالات میں مرضی کی آئینی ترامیم، اور نئے قوانین کی منظوری ملک کو ایک مذاق بنا سکتی ہے۔ ایک بہتر راستہ تو یہی ہے کہ نوازشریف تھوڑا صبر کریں۔ اسمبلی میں اپنی اکثریت کے بل بوتے پر جمہوری قدروں کو پامال کرنے کی بجائے اپنا سیاسی کردار ادا کرنے پر توجہ دیں۔

یہ کوشش کریں کہ مسلم لیگ (ن) باقیماندہ عرصے میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دے تاکہ جب 2018ء میں انتخابات ہوں تو مسلم لیگ (ن) ایک سرخرو جماعت کے طور پر عوام میں جا سکے غالباً نوازشریف کا اضطراب اس لئے ہے کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح نیب میں کیسوں کی سماعت رک جائے۔

انہیں اپنے نا اہل ہونے سے زیادہ اب ان ریفرنسوں کی فکر ہے، جن میں صرف دہی نہیں بلکہ ان کے بیٹے، بیٹی اور داماد قانون کی زد میں ہیں اگر یہ ریفرنسز اسی طرح چلتے رہے اور فیصلے کے مرحلے میں داخل ہو گئے تو بہت زیادہ مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں دیکھنا یہ ہے کہ آج جب نوازشریف احتساب عدالت میں پیش ہوں گے تو ماحول کیسا ہوگا پہلی پیشیوں میں عدالت سماعت نہیں کر سکی تھی، غالباً مقصد یہ تھا کہ فرد جرم نہ لگے مگر اب جبکہ نوازشریف پر فرد جرم لگ چکی ہے، عدالت میں اگر اسی طرح کی ہڑبونگ ہوئی تو سمجھا جائے گا کہ حکومت اور مسلم لیگ (ن) یہ نہیں چاہتی کہ نیب ریفرنسوں کی سماعت ہو یہ بات نظام کے لئے ایک بہت بڑا دھچکا ہو گا۔ پہلے ہی یہ باتیں شد و مد سے ہو رہی ہیں کہ نیب کا قانون پنجاب کے لئے اور ہے اور سندھ کے لئے اور شرجیل میمن نے سندھ اسمبلی میں جو تقریر کی وہ بہت سے سوالات چھوڑ گئی ہے، پھر سندھ ہائیکورٹ نے نیب کی امتیازی پالیسیوں کے بارے میں جو فیصلہ دیا ہے، وہ بھی اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ ملک میں چھوٹے اور بڑے کی تمیز و امتیاز موجود ہے۔

سب جمہوریت پسند سیاسی قوتوں کی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ وہ کوئی ایسا تاثر پیدا نہ ہونے دیں کہ موجودہ سسٹم کے تحت اداروں کا کام کرنا نا ممکن بنا دیا گیا ہے۔ خود مسلم لیگ (ن) کو بھی چاہئے کہ وہ صرف اس بنیاد پر کہ حکومت اس کی ہے ایسے کام نہ کرے جو ریاست کی ناکامی کا اشارہ دے رہے ہوں۔

نوازشریف کی آمد پر اگر نیب ٹیم جہاز کے ایپرن تک جانا چاہتی تھی تو اسی کی اجازت دے دینی چاہئے تھی، پہلے بھی تو نیب جہاز سے اترنے والوں کو حراست میں لیتی رہی ہے یا وارنٹ کی تصدیق کراتی ہے۔ مگر ایسا نہیں کیا گیا اور نوازشریف سے سمن کی تعمیل پنجاب ہاؤس جا کر کرانی پڑی۔

اس سے میرے نزدیک نوازشریف کی شان و شوکت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا انہیں خود کہنا چاہئے تھا کہ نیب کے نمائندوں کو ایئرپورٹ آنے دیا جائے تاکہ وہ اپنا فرض ادا کر سکیں۔

چھوٹی چھوٹی باتوں سے بڑے اچھے تاثرات دیئے جا سکتے ہیں مثلاً شہباز شریف اکثر ایسے کام کر جاتے ہیں، انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ ہم کسی قسم کی محاذ آرائی کا ارادہ نہیں رکھتے عدلیہ اور اداروں کا مکمل احترام کرتے ہیں کاش یہ بیانیہ نوازشریف بھی اپنالیں، اس سے نہ صرف ان کے سیاسی قد میں مزید اضافہ ہوگا بلکہ مسلم لیگ (ن) اور شریف خاندان کی مشکلات بھی کم ہو جائیں گی۔

مزید : کالم